top of page

263ویں کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ پاکستانی سالمیت کے تقاضوں اور عوامی امنگوں کے عین مطابق ہے۔بقلم ڈاکٹر فیض احمد بھٹی


263ویں کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ پاکستانی سالمیت کے تقاضوں اور عوامی امنگوں کے عین مطابق ہے

بقلم

ڈاکٹر فیض احمد بھٹی


چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت 263ویں کور کمانڈرز کانفرنس کے اختتام پر جو پریس رلیز سامنے آئی اس سے فوج کی سوچ اور سمت واضح انداز میں نظر آتی ہے: کہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے انتخابات کے بعد جو پوئنٹ آف ویو اجتماعی طور پر بنا، وہ کیا ہے؟

لہذا مذکورہ کانفرنس کے اعلامیہ کی اہمیت کے پیش نظر جو اس میں پیغامات ہیں ان کو الگ الگ بیان کیا جاتا ہے تاکہ آپ کو اس اعلامیے کے مقاصد و اھداف بآسانی سمجھ آ سکیں۔

اس میں پہلا پیغام یہ دیا گیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پر دھاندلی کے الزامات لگانا کسی اعتبار سے بھی مناسب نہیں۔ انہوں نے تو حکومتی ڈیمانڈ پر سیکیورٹی زاویہ سے انتخابات کروانے کےلیے صرف ایک موافق و محفوظ ماحول پیدا کیا۔ فوج کا بنیادی کام انتخابات کروانا نہیں، تاہم ملکی حالات ایسے تھے کہ جن کے پیش نظر فوج نے صرف سکیورٹی کی صورت میں معاونت کی ہے۔ اس کے علاوہ ان کا انتخابات سے کوئی لینا دینا ہے نہیں۔

دوسرا پیغام بھی بڑے واضح انداز میں دیا گیا کہ اس انتخاب میں دھاندلی کو بنیاد بنا کر فوج کے خلاف جھوٹا پروپگینڈا چلایا جا رہا ہے جو فوج کےلیے انتہائی ناگوار ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ شر پسند عناصر کی طرف سے فوجی مداخلت کے غیر مصدقہ الزامات کے ذریعے پاکستان کی مسلح افواج کو بدنام کیا جا رہا ہے، جو انتہائی قابل مذمت عمل ہے انتخابات میں نام دھاندلی کا لیا جاتا ہے لیکن در پردہ فوج کے خلاف مذموم کیمپین چلائی جا رہی ہے۔ فوج ان سازشوں سے اچھی طرح باخبر ہے اور اس پر فوج میں تشویش بھی پائی جا رہی ہے۔ ظاہر ہے جب فوج کو تشویش ہوگی تو پھر اس کے کچھ نتائج بھی ضرور نکلیں گے۔

یہ بات بھی واضح کی گئی کہ اگر فوج کے خلاف یہ گھناؤنی وارداتیں جاری رہیں تو انہیں روکنے کےلیے تمام آئنی و قانونی اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔ اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر کسی کو انتخابی عمل پر اعتراض ہے تو وہ آئینی و قانونی راستہ اختیار کرے اور متعلقہ فورمز کی طرف رجوع کرے۔ جذباتی اشتعال انگیزی، بے بنیاد سیاسی بیان بازی اور غیر آئینی حرکات سے فوج کو ٹارگٹ مت کیا جائے۔

اگلا پوئنٹ یہ تھا چونکہ اب چاروں صوبوں اور وفاق میں آئینی حکومتیں قائم ہو چکی ہیں؛ لہذا اب ہمیں گُڈ گورننس، معاشی بحالی، سیاسی استحکام، اور عوامی فلاح و بہبود پر توجہ دینی چاہیے، جو کہ وطن عزیز کے حقیقی مسائل ہیں۔ اور جو لوگ اس طرف توجہ نہیں دے رہے بلکہ الیکشن ہونے کے بعد بھی فساد پھیلانا چاہ رہے ہیں، وہ در حقیقت اپنی ناکامیوں کو پسِ پُشت ڈال کر سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورت حال پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ فوج کی طرف سے اس پر دو ٹوک کہا گیا ہے کہ احتجاج کے نام پر اگر کوئی اشتعال پھیلائے گا تو وہ کسی صورت بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔

کانفرنس میں یہ بھی بتایا گیا آئینی حدود کی روشنی میں اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے موجودہ حکومت کو مکمل سپورٹ حاصل رہے گی۔ اس حوالے سے فوج نے سیکیورٹی خطرات سے نپٹنے اور سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں حکومت کو مکمل تعاون فراہم کرنے کا اعادہ کیا ہے۔

اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا کہ حالیہ انتخابات کے بعد جو نظام حکومت بن گیا ہے، اب یہی نظام چلے گا کیونکہ جمہوری استحکام ہی ملک کےلیے آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

قارئین! اس اعلامیہ کی رو سے فوج نے دھاندلی کے الزامات، رزلٹس کو پلٹانے، فارم 45 کے ذریعے مبینہ طور پر حکومت کو لانے الغرض تمام الزامات جو پاکستان تحریک انصاف، جے یو آئی وغیرہ اور کچھ وی لوگرز کے ذریعے آپ کو سنائی دیتے ہیں وہ یکسر مسترد کر دیے گئے ہیں۔ ہاں یہ ضرور کہا گیا ہے کہ انتخابی عمل میں اگر کسی کو کہیں جھول نظر آتی ہے تو وہ آئینی اور قانونی دروازے کھٹکھٹائیں۔ علاوہ ازیں اگر کسی نے انارکی یا فساد پھیلانے کی کوشش کی تو فوج اپنی آئینی ذمے داریاں ضرور ادا کرے گی۔ اس کور کانفرنس کے مطابق فوج کا خیال ہے کہ انتخابات کے بعد ملک میں خوشحالی آئے گی اور ترقی بھی ہو گی۔ انہوں نے کہا اس حوالے سے حکومت کو جس قسم کی مدد اور تعاون کی ضرورت ہوگی فوج آئنی حدود میں رہتے ہوے وہ ضرور مہیا کرے گی۔

قارئین! اب یہ جو فریم ورک فوج کی 263ویں کور کمانڈرز کانفرنس کے بعد واضح انداز سے آپ کے سامنے آیا ہے۔ یہ وہ رد عمل ہے جو لازما آنا تھا کیونکہ جب سے انتخابات ہوئے ہیں تب سے دھاندلی کے الزامات کی آڑ میں فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مثلاً الزامات شہباز شریف پر لگائے جاتے ہیں نشانہ فوج، تنقید مریم نواز پر نشانہ فوج، نام زرداری اور بلاول کا نشانہ فوج، حیرت انگیز تنقید الیکشن کمیشن پر نشانہ فوج بلکہ حسب سابق بعض عناصر تو سپہ سالاروں کا نام لے کر بکواس کرتے ہیں۔ اس سے بھی خطرناک پہلو یہ ہے کہ فوج کے خلاف مسلسل اور منظم کیمپین چلائی جا رہی ہے، بلکہ بین الاقوامی سطح پہ بھی پی ٹی آئی کی طرف سے کیمپین چلائی جا رہی ہے۔ تو ان غیر معمولی حالات میں فوج کی طرف سے واضح رد عمل اور سخت تنبیہ آنا ایک فطری عمل ہے۔ اس کور کانفرنس میں جو سب سے بڑا ایشو ڈسکس کیا گیا وہ سانحہ 9مئی کے حوالے سے تھا۔ تمام کمانڈرز نے وزیر اعظم شہباز شریف کے 9مئی کے بارے دیے گئے بیان کو دہرایا کہ جنہوں نے اس سیاہ ترین فتنے کی پلاننگ کی، جو سہولت کار بنے، جنہوں نے اس کی تشہیر کی یا کسی بھی انداز میں اس میں ملوث پائے گئے، ان تمام لوگوں کو قانون کے مطابق حتمی سزائیں ضرور مل کے رہیں گی۔

قارئین! ہم یہاں یہ ضرور کہیں گے کہ 9مئی کے کرداروں کو کیف کردار تک پہچانا حکومتِ وقت، عدلیہ اور فوج کےلیے ایک بہت بڑا ٹیسٹ ہے۔ کیونکہ ابھی تک تو صورت حال یہ ہے کہ جن لوگوں کے اوپر الزامات لگے بلکہ ثابت بھی ہوے، ان میں سے کافی لوگ سلیکٹ ہو کر اسمبلیوں میں پہنچ چکے ہیں، کئی منسٹرز بلکہ چیف منسٹر تک بن گئے ہیں۔ علاوہ ازیں بہت ساروں کی ضمانتیں بھی ہو چکی ہیں!

مگر یہ بات مُحبِ وطن پاکستانیوں، حکومتِ وقت، عدلیہ اور فوج کے ذہن نشیں رہے! کہ جب تک سانحہ 9مئی کے کرداروں، ہدایت کاروں، فنکاروں، آلہ کاروں، سہولت کاروں اور حُبداروں کی مکمل بیخ کُنی نہ کی گئی، تب تک ملک میں فساد، فتنے برپا ہوتے رہیں گے اور 9مئی جیسے سانحات پہلے سے بھی زیادہ زہریلی صورت میں دہرائے جاتے رہیں گے!!

قارئین! مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس 263ویں کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ پاکستانی سالمیت کے تقاضاوں اور عوامی امنگوں کے عین مطابق تھا۔

0 comments

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page