top of page

ہم اس کے پاسبان ہیں (یوم دفاع پاکستان) تحریر: مولانا امیر محمد اکرم اعوان

ہم اس کے پاسبان ہیں

(یوم دفاع پاکستان)

تحریر: مولانا امیر محمد اکرم اعوان

طلوع وغروب ہویاستاروں، سیاروں کا گردش میں آنا ہو۔یہ سب کچھ ایک مربوط نظام پیدا کرتا ہے، جس کے زمین پر بے شماراثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جب ہم بات کرتے ہیں ماہ و سال کی،شمار کی، اس وقت کی جو گزر گیا،لیکن اس شمار کے تحت جب ایام بدلتے ہیں تو واقعات اجاگر کرتے رہتے ہیں،جن کی یاداشت انسانی ذہنوں اور قلوب میں گونجتی رہتی ہے۔جیسے آج 6 ستمبر ہے،اسی طرح ایک 6 ستمبر ایسی بھی تھی جس میں کچھ واقعات رونما ہوئے۔ایک نوزائیدہ ریاست کو ضم کرنے کی کوشش کی گئی، اسے زیر کرنے کی کوشش کی گئی،اسے تباہ کرنے کی کوشش کی گئی، جس کا اظہار آج ہم کررہے ہیں۔

ہماری نیت کیا ہے؟ہماری سوچ کیا ہے؟کس درجے کا اظہار ہے؟ کیا ظاہر ہے؟کیا باطن ہے؟ ایسا اس زمین و آسمان نے دیکھا اوراس کی شہادت دیتی ہیں کہ اللہ کے نام پر،اللہ کی مخلوق نے اپنی جانیں، اپنے وطن عزیز پر نچھاو ر کیں۔ یہ ممالک کی ضدانسانی فطرت کی عکاسی کرتی ہے کہ جب وہ حق پر نہیں ہوتا تو اپنی پسند کا نفاذاورکمزور کو محکوم کرناچاہتا ہے۔ جب نفس انسانی مضبوط ہوتا ہے، خواہشات انسانی کا اطلاق اسے پسند آتا ہے تو پھر شیطان بھی اسے بے شمار راہیں دکھاتا ہے۔ جو جدید ترین ہتھیار ہم بنا رہے ہیں،یہ کس لیے بنا رہے ہیں؟ اس کا نقصان حضرت انسان نے ہی اٹھانا ہے،کتنی جنگیں ہوئیں؟لیکن کیا اس سے اجتناب کر لیا جائے کہ میں اس سے باہر ہوں تو پھر غزوات و سرایہ کے بارے میں کیا کہو گے؟حق کا نافذ ہونا اورظلم کا روکا جانااور مظلوم کی دسترس کرنا اسلام کے احکاما ت میں سے ہے۔

وطن عزیز ریاست مدینہ کے بعدآج تک اس دنیا میں پہلاملک ہے جو اسلام کے نام پرمعرض وجود میں آیا۔تحریک پاکستان کے وقت بڑا زور لگایا گیا،لوگوں نے بڑے نعرے دیے لیکن تحریک تقسیم ہند میں مضبوطی نہیں آ سکی۔لیکن بات جب لاالہ اللہ محمد رسول اللہ ﷺ کی آئی تو بے شمار مخلوق نے اپنی جانیں قربان کیں۔تب جاکریہ وطن عزیز معرض وجود میں آیا۔وہ خلش، وہ تکلیف جو ایک کافر کے ذہن کی ہے کہ اسلام کے نام پر یہ ملک کیوں معرض وجود میں آیا ہے؟اس کا دنیا کے نقشوں پر شمار کیوں ہے؟ اسی نیت کے تحت 5 اور6 ستمبر 1965کی درمیانی رات کو پہلا حملہ لاہور کے باڈر پرکیا گیا تھا۔ یہ جنگ 17 روز تک جاری رہی،ان 17 دنوں کو مرکزی طور پر اگر آپ دیکھیں تو تین جگہوں پر لڑائی کا مرکز ملتا ہے۔ ایک حملہ لاہوربی آربی نہر پر دوسرا سیالکوٹ کی طرف چونڈہ باڈرپر اورتیسرا حملہ فضائیہ کاتھا۔

اللہ کریم نے افواج پاکستان کو وہ حوصلہ عطا فرمایاکہ انہوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں اور نذرانے دے کراس ملک کی حفاظت کی اور فضائیہ کی تاریخ میں چند سیکنڈمیں اتنے زیادہ جہازوں کاگرانا آج تک ایک ریکارڈ ہے۔جو ایم ایم عالم (اللہ کریم ان کے درجات بلند فرمائے) نے قائم کیا۔ اللہ جل شانہ کا کرم اور احسان ہے کہ دشمن دعویٰ کررہا ہے کہ ناشتہ لاہو ر جا کرکریں گے اور انٹرنیشیل میڈیا کہہ رہا ہے کہ لاہور فتح ہوگیا۔ یہاں اہل لاہور کوانتظامیہ کہہ رہی ہے کہ شہر خالی کردوکہیں تمہارا اس جنگ میں نقصان نہ ہوجائے۔ اللہ کریم نے اس عوام کو اس جذبے سے سرشار کیا ہے کہ صرف شہر خالی کرنے کی بات کسی نے نہ سنی بلکہ شہر سے لے کر باڈر تک مخلوق کو خود فوج روکتی تھی کہ تم آگے نہ جاؤ لیکن جہاں تک جو ہو سکا،کسی نے راشن پہنچایا تو کسی نے زخمیوں کو سنبھالنے کی کوشش کی اور جتنی فضائیہ کی لڑائی تھی وہ مخلوق گھر کے چھتوں پر کھڑے ہو کر دیکھ رہی تھی۔ یہ اللہ کا بڑا احسان ہے کہ اس وطن عزیز کو جہاں اللہ کریم نے لوگوں کو ایسے جذبے سے سرشار کیا ہے۔ جس کے تعین کی ضرورت ہے اس کے راستے کی کمی بیشیوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ یہا ں صحیح العقیدہ اور عمل کرنے والے مسلمان موجود ہیں۔ اپنے وطن سے محبت یا اپنی قوم سے محبت، صرف ایک دن کی نہیں ہو سکتی اور نہ ہی یہ کسی مخصوص دن میں قید کی جاسکتی ہے۔یہ وہ عمل ہے جو مسلسل ہے،جو زندگی کے ساتھ ہے، ہم اس دھرتی پر اپنا وقت پورا کرر ہے ہیں۔یہاں آج بھی ایسے لوگوں کے مزار ملتے ہیں جواپنی وردیوں میں سلامت ہیں۔اسی چونڈہ کے باڈر کے قریب دیہاتی ٹریکٹر چلا رہے تھے۔ٹریکٹر کے بلیڈ سے کوئی چیز اٹکی تو دیکھا وہ کسی شہید کی ٹانگ تھی وردی میں بھی تھااور جہاں بلیڈ لگا وہاں سے اس کا خون رسا،مٹی میں لت پت، زخموں سے چور شہید،صحیح سلامت،کسی مٹی کے ذرے نے، کسی چیونٹی نے اس کے وجود کو چھوا تک نہیں۔ مٹی میں موجودہے لیکن مٹی نے چھوا تک نہیں،مٹی اپنا اثر ظاہر نہیں کر سکی اور کتنے ہی شہداء کے ایسے مزار ہیں جنہیں میدان کارزار سے قبرستانوں میں دفن کیا گیا۔

جنگ عظیم کے بعد دوسری دفعہ ٹینک کی اتنی بڑی تعداد سیالکوٹ میں چونڈہ کے باڈر پر حملہ کر رہی تھی،کوئی مقابلہ نہیں تھا۔جہاز کو دیکھیں تو اگرایک جہاز پاکستان کا ہے تو مقابلے میں دشمن کے 5 جہازتھے۔اسی طرح جب ٹینک کی بات آتی ہے تو مقابلے میں ٹینک نہیں تھے لیکن بندہ مومن کے سینے میں، جہاں ایمان جلوہ افروز ہے پھر اسے ٹینک نہیں روک سکے۔اس یونٹ میں کتنے بندے تھے جنہوں نے اپنے سینوں کے ساتھ بم باندھے اوراللہ کانام لے کر ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے؟ دشمن کوسمجھ نہیں آئی کہ ہمارے ساتھ ہواکیا ہے؟ وہ جو ناشتہ لاہور جم خانہ میں کرنا چاہتے تھے، نہ انہیں ناشتے کا ہوش رہااور نہ دوپہر کے کھانے کی بات رہی۔اس قوم میں جذبہ ہے لیکن اس دن کو مناکر،اس کا اظہارکرکے اسے قید نہیں کیا جا سکتا ہے۔اگر اسے دنوں میں قید کریں گے،تواریخ میں قید کریں گے تو ملک کی تعمیر کون کرے گا؟

یہ ملک ہمارا ہے۔ ہم اس کے پاسبان ہیں، اللہ کے نام پر دین اسلام کی سربلندی کے لیے بناہے۔ہماری ذمہ داری ہے کہ پاکستان کی اکائی یہ چار ہاتھ کا میرا وجود جو میرے پاس ہے اس پر تومیں اللہ کے دین کو نافذ کروں ہمارا اٹھایاگیا کوئی بھی قدم اس ملک کو مزید تقسیم نہ کرے۔یہ ملک بھی ہمارا ہے، اس کے ادارے بھی ہمارے ہیں اور ہم پورا ہی تب ہوتا ہے جب ساری عوام اس میں شامل ہو۔ اللہ کریم یہ اپنایت کا جذبہ من حیث القوم ہم سب میں عطا فرمائے۔اٰمین۔

0 comments

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page