top of page

پنڈدادنخان ۔میٹھے پانی کا بے دریغ استعمال۔ زیر زمین پانی کا لیول خطرناک حد تک کم ہو گیا۔

پنڈدادنخان( تحصیل رپورٹر)ترقی یافتہ ممالک میں زیر زمین پانی نکالنے اور ضرورت سے زیادہ پانی ضائع کرنے پر جرمانہ اور نوٹس لیا جاتا ہے۔ زیر زمین پانی کا لیول خطرناک حدتک نیچے جارہا ہے اور اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو چمن جس کو باغوں کا شہر کہا جاتا ہے اسکا واٹر لیول 1500فٹ سے نیچے جاچکا ہے کچھ عرصہ قبل تک زیر زمین 30 سے 50فٹ تک صاف اور میٹھا پانی میسر تھا جب کہ اس وقت 350فٹ پر بھی صرف گزارا کیا جارہا ہے صاف پانی کے بحران کے ذمہ دار بھی ہم خود ہیں صاف اور میٹھے پانی کو بے دریغ استعمال کم اور ضائع زیادہ کررہے ہیں ان خیالات کااظہار حکیم لطف اللّه سیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن. اور مرکزی سیکرٹری انفارمیشن حکیم سید اختر علی شاہ بخاری نے پانی کا بحران اور شجرکاری کے حوالہ سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوۓ کیا۔ ایک بالٹی نہانے کے لئے کافی ہم درجنوں بالٹیاں ضائع کرتے ہیں کپڑے ہینڈ پمپ سے بھی دھوئے جاتے تھے آج ہم واٹر پمپ چلا کر بے تحاشا پانی ضائع کرتے ہیں۔برتن دھونے، فرش دھونے گاڑیاں دھونے میں ٹنوں لیٹر پانی گٹروں میں بہا دیتے ہیں اگر ہم چاہتے ہیں ہیں کہ ہمارا ملک آئندہ چند سالوں میں ریگستان کا نقشہ نہ پیش کرے تو حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہونگے جس میں سب سے پہلے کالا باغ ڈیم کی تعمیر ہے کیونکہ باقی تمام ڈیمز 2030 سے پہلے مکمل نہیں ہوسکتے اور ان ممالک کے ماڈلز کی پیروی کرنی ہوگی جس نے اس مسلہ کے حل کے لئے جھیلیں اور دریا بنائےاور ان جھیلوں اور دریاؤں میں زیر زمین گڑھے بنا کر پانی کو روک کر ذخیرہ بھی کیا اور زیرزمین پانی کا لیول بھی پورا رکھا۔ ہمیں ڈرپ ایریگیشن سے آگے بڑھ کر طریقہ کار اختیار کرنے ہونگے جنگلات کے کٹاؤ پر پابندی عائد کرنا ہوگی۔صرف ماحول دوست درختوں کی شجرکاری کرنا ہوگی کسانوں میں اس بات کا شعور بیدار کرنا ہوگا کہ درخت انکی زمینی پیداوار میں اضافہ کا سبب ہیں نہ کہ کمی کا۔ گھروں میں اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہوۓ پانی کا کم سے کم استعمال کرنا ہوگا

0 comments

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page