top of page

پاکستان میں خاص کے لیے اور قانون اور عام کے لیے علیحدہ قانون۔ انصاف خواب بن گیا۔

رپورٹ!تصور حسین ولیال للہ شریف Jhelumnews.uk)

ایک محتاط سروے کے مطابق اس وقت پاکستان میں چھہتر لاکھ کی آبادی نشے جیسی لت میں مبتلا ہے جس میں اسی فیصد آبادی مردوں کی ہے جبکہ پاکستان سود میں بھی سر فہرست ملکوں میں شامل ہو چکا ہے جو کہ شرعی اخلاقی اور قانونی لحاظ سے ایک خطرناک صورتحال ہے کیونکہ یہ دو بنیادی وجوہات ہیں جن سے قومیں تباہ ہو جاتی ہیں اور جہاں تک میرا ذاتی خیال ہے اس تباہی کے دھانے پر پہنچنے کی سب سے بڑی وجہ ہمارے حکومتی منتخب نمائندے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں اور یہ سارے غیر قانونی معاملات ان دونوں اداروں کے زیر نگرانی ہی ہوتے ہیں جبکہ اگر کوئی اس کے خلاف ایکشن ( چاہے اس میں کوئی ذاتی مفاد ہی ہو.) لینے کی کوشش کرتا ہے تو سابقہ وزرا شرجیل میمن سے لیکر علی امین گنڈا پور تک سب کی شراب کو شہد میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جبکہ ایک عام شہری سے معمولی سی نشہ آور چیز برآمد ہونے پر اسے چھ ماہ کیلئے جیل بھیج دیا جاتا ہے حالانکہ تمام صحافی برادری اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ ایک علاقائی سیاسی نمائندے سے لیکر پارلیمنٹ تک کس طرح نجی محفلوں میں منشیات کا بے دھڑک استعمال کیا جاتا یے جو کہ ایک اسلامی ریاست کے سراسر منافی اقدام ہے۔

0 comments

Commenti

Valutazione 0 stelle su 5.
Non ci sono ancora valutazioni

Aggiungi una valutazione
bottom of page