top of page

پاکستانی قوم کے لئے میرے گھر کی ایک شاندار مثال! ✍️از قلم: لمبردار مہر تنویر احمد دھنیالہ


پاکستانی قوم کے لئے میرے گھر کی ایک شاندار مثال!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

✍️از قلم: لمبردار مہر تنویر احمد دھنیالہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دھنیالہ میرا گاؤں ہے جہاں کا میں نمبردار ہوں۔ تحصیل دینہ، ضلع جہلم کے میرے اِس گاؤں کے ایک محلے ڈھوک شیخ باغ علی یا شیخ بستی دھنیالہ میں ہمارے شیخ بھائیوں کے اب سو کے قریب گھر ہونے کو ہیں جو کہ ایک بڑی آبادی سمجھی جا سکتی ہے۔ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں سے آبائی تعلق رکھنے والی شیخ کمیونٹی دھنیالہ و چک جمال کو کالا ڈپو ضلع جہلم کے گردونواح میں آباد ہوئے اُتنے ہی برس ہو چکے ہیں جتنی خود پاکستان کی عمر ہے، اور شیخ برادری بھی ہمارے گاؤں و علاقے کے باقی لوگوں کی طرح ہی سماجی زندگی بسر کر رہی تھی، اور جیسے ہم باقی برادریوں کے لوگ سماجی رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں، ویسے ہی ہمارے شیخ بھائی بھی خوشی وغمی کے ساتھ جُڑی ہوئی فضول رسموں اور رواج کو اپنائے ہوئے تھے۔ جیسے ہم باقی لوگ غیر ضروری رسم و رواج کو باعثِ عزت و وقار سمجھتے ہیں اور ان غیر ضروری بلکہ غیر شرعی رسومات کو بڑے فخریہ انداز سے سرانجام دیتے ہیں کہ گویا یہ کلچر نہیں بلکہ عقیدہ ہو، ویسے ہی ہمارے شیخ بھائی بھی شادی بیاہ اور فوتگی کی تمام رسموں کی پوری پوری پابندی اور خرچ کرنے کا بھرپور دکھاوا کیا کرتے تھے، حالانکہ آج ہم اس دور سے گزر رہے ہیں کہ جس کے پاس تعلیم نہیں لیکن جیب میں موبائل فون اور گھر میں ٹی وی ہے تو مجھ جیسے دیہاتی لوگ بھی سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا سے بہت مُستفید ہورہے ہیں اور ذرائع ابلاغ کی وجہ سے لوگوں میں بہت زیادہ شعور بیدار ہو رہا ہے، مثلاً آج اس دور میں آپ کسی کے بارے میں بھی معلومات چاہتے ہوں تو آپ کی اُنگلی کی جُنبش سے ہر طرح کی انفارمیشن آپ کو انٹرنیٹ پہ دستیاب ہوتی ہے۔ آپ مذہبی سکالرز سے رائے اور علم حاصل کرسکتے ہیں، ترقی و خوشحالی کے رازوں سے آگاہی آپ کی دسترس میں ہے، آج آپ اچھے اور بُرے کام کی پہچان کرنے میں کبھی غلطی نہیں کرسکتے کیونکہ آپ کے پاس مکمل حوالہ جات کے ساتھ معلومات موجود ہیں، لیکن اِس کے باوجود اصلاح طلب سماجی معمولات اور اپنے مقامی کلچر کی فضول رسومات سے ہم چشم پوشی کررہے ہوتے ہیں۔

الغرض آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں علم نہیں ہے کہ ہم صحیح کر رہے ہیں یا غلط۔ ہاں یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ کیا کریں جی معاشرتی مجبوری ہے؛ نَک نِی رہندا (ناک نہیں رہتا)!

یعنی نمود ونمائش کو ہم معاشرتی برتری کے طور پر مقبول کرنے کی بے جا خواہشوں کے حصار میں جکڑے ہوئے ہیں۔

خیر ایسے میں میرے ہی گاؤں کے ایک باسی شیخ محمد یونس صاحب ہم سب کے لئے ایک مثال بن گئے ہیں کہ اُنہوں نے پنجاب، خیبرپختونخواہ اور آزاد کشمیر بھر میں پھیلی ہوئی اپنی شیخ برادری کو باور کروایا کہ خوشی وغمی کے ساتھ جُڑی ہوئی بے جا اسراف والی رسمیں فضول اور غیرشرعی ہیں جن کا خاتمہ کرنا وقت کی ناگزیر ضرورت ہے جن سے چھُٹکارا پا کر اور سادگی اپنا کر خوشحالی کی طرف قدم بڑھائے جا سکتے ہیں۔ اور مجھے یہ بتاتے ہوئے انتہائی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ شیخ یونس صاحب نے ہر طرح کی تنقید، مخالفت اور مشکلات کو برداشت کیا اور دل برداشتہ ہوئے بغیر اس نیک مقصد کے حصول کے لئے بہت زیادہ محنت کی اور آج تقریبا دو سال بعد الحمداللہ وہ اپنی ساری کمیونٹی کو ایک پیج پر لانے اور پاکستان و آزاد کشمیر کے لاکھوں اپنے شیخ بھائیوں سے یہ بات منوانے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ آئندہ سے ضلع جات جہلم، گجرات، راولپنڈی و اسلام آباد، واہ کینٹ، مری، میرپور و آزاد کشمیر اور خیبرپختونخواہ میں آباد اُن کی برادری خوشی وغمی کے مواقع پر فضول اخراجات والی فضول رسموں کو ترک کر کے سادگی اپنائے گی، بارات لے کر صرف 20 بندے جایا کریں گے، مہندی کے نام پر ڈِنر نہیں دیا جائے گا، مہنگے عرُوسی ملبوسات اور میک اپ سے گریز کیا جائے گا اور جہیز مانگا جائے گا نہ دیا جائے گا بلکہ اِس کے بدلے اولاد کو پڑھانے اور ان کا کیریئر بنانے پر خرچ کیا جائے گا۔ اسی طرح فوتگی پر پوری برادری کو بار بار بلایا جائے گا نہ مقامی لوگوں کو کھانا کھلایا جائے گا۔

لہذا اپنے گاؤں، اپنے علاقے اور اپنے ملک کی شیخ کمیونٹی کے قابلِ داد اور قابلِ تقلید فیصلوں کو نظیر کے طور پر پیش کرتے ہوئے میں اپنے تمام دوستوں، اپنے گاؤں کے باقی لوگوں، تمام برادریوں اور تمام پاکستانیوں سے گزارش کرتا ہوں اور پوری قوم سے اُمید رکھتا ہوں کہ ہم سب بھی کوشش کریں اور شیخ محمد یونس صاحب کے شیخ اتحاد ویلفیئر ٹرسٹ کے سادگی منشور کو اپناتے ہوئے میانہ روی اور قناعت کی اصولوں پر چلنے کی سعی کریں۔

خصوصاََ اب جبکہ اِس معاشرے کی بھاگ دوڑ نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے تو باقی برادریوں کے نوجوان بھی اگر اپنے اپنے گاؤں اور اپنے اپنے علاقے میں شادی بیاہ اور فوتگی کے مواقع پر فضول رسموں کو ختم کر کے سادگی اپنائے کی مُہم چلائیں تو شیخ محمد یونس صاحب کا چارٹر پاکستان کے پچیس کروڑ لوگوں کو جہالت سے خوشحالی کی طرف لانے کا سبب بن سکتا ہے۔

کبھی کبھی مجھے اس بات سے بہت دکھ ہوتا ہے کہ ہمارے نوجوان نام نہاد سیاسی لیڈران کے حق اور مخالفت میں تو سوشل میڈیا پر دھڑا دھڑ پوسٹیں کر اور بحث و مباحثہ میں بھی پڑے ہوتے ہیں، اور اپنی پارٹی اور اپنے لیڈروں کو اُونچا اور دوسروں کو نیچا دکھانے پر نیٹ کے بے تحاشا ایم بی خرچ کر رہے ہوتے ہیں، اور اپنے وقت اور ذہن کا غلط استعمال کر رہے ہوتے ہیں، تو کیوں نہ میرے دیس کے نوجوان اب یہ توانائیاں اپنے لیے، اپنے خاندان کے لئے اور اپنی اپنی کمیونٹی کی اصلاح کے لیے صرف کریں تاکہ وہ معاشرتی برائیوں، غیر ضروری اور غیر شرعی رسم و رواج کا قلع قمع کرسکیں، اور بہترین اصولوں پر قائم معاشرے کی بنیاد رکھ سکیں۔

میرے نوجوان دوستو! ہم ایک مسلمان اور پاکستانی قوم بن کر رہیں گے تو ہمارا ملک اور معاشرہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن رہے گا اور جو توانائیاں ہم لاحاصل بحث میں خرچ کرتے ہیں، وہ تعمیری کاموں اور تعمیری موضوعات پر بحث کر کے اور مسائل کے حل کے لیے اپنی تجاویز و آرأ دے کر معاشرے کی اصلاح کا کام کر سکتے ہیں، اور یقین کریں کہ آپ کو اِن شاءاللہ اپنے لوگوں کی اصلاح کرکے دلی سکون میسر ہوگا اور آپ کو بھی رہتی دنیا تک شیخ محمد یونس صاحب کی طرح یاد رکھا جائے گا کہ آپ نے بھی معاشرے کی اصلاح اور ترقی کے لیے کچھ کام کیا تھا۔

میرا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اپنے سیاسی قائدین سے مُنحرف ہو جائیں یا آپ سیاست نہ کریں۔ آپ نوجوانوں کا سیاست میں حصہ لینا بھی صحت مند معاشرے کے لیے ضروری ہے۔ لیکن آپ کو سیاسی شعور کی بھی ضرورت ہے کیونکہ اِس کے بغیر بھی آپ ملک و معاشرے کی ترقی میں ساتھی نہیں بن سکتے۔

اصل ہدف معاشرتی مسائل اور اُن کا حل ہونا چائیے اور سب سے بڑھ کر ہم سب کی اخلاقی اقدار بہت بہتر ہونی چاہئیں۔ اور اخلاقی اقدار کو پروان چڑھانے کے لیے بہت محنت درکار ہے۔

آج ہم سب کو دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہم اپنی معاشرتی ذمہ داریاں پوری کررہے ہیں؟ اور یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ آپ تمام نوجوان سوشل میڈیا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں، اور آپ کے واٹس ایپ گروپوں میں بھی کافی سارے تعلیم یافتہ دوست، اساتذہ، ڈاکٹرز، علمأ اکرام اور تمام شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار لوگ عموماً موجود ہوتے ہیں، تو آپ اُن سے راہنمائی لے سکتے ہیں اور معاشرتی برائیوں اور غیر ضروری رسم و رواج کو ختم کرسکتے ہیں۔

میرے نوجوان دوستو! آپ اس دور میں رہ رہے ہیں جہاں نفسا نفسی کا عالم ہے۔ آج آپ کو خود ہی خود کو جگانا اور ایجوکیٹ کرنا پڑے گا۔ آج آپ کو جگانے اور آپ کی ذہن سازی کرنے کے لئے اقبال رحمتہُ اللّٰہ موجود نہیں ہیں۔ آج آپ کو لِیڈ کرنے کے لئے محمد علی جناح رحمتہُ اللّٰہ علیہ بھی موجود نہیں ہیں۔ لیکن اُن کے اقوال بہرحال آپ کے پاس موجود ہیں۔ اُن کے دیئے ہوئے اسباق جو ہم بھول چکے ہیں، وہ آج بھی آپ کی راہنمائی کرسکتے ہیں۔ آج آپ کو خود ہی راہنمائی لینی ہے، خود ہی اپنے آپ کو ہمت دینی ہے، اپنا حوصلہ آپ نے خود ہی بننا ہے۔ آج آپ کے پاس وہ دولت موجود ہے جو پہلے نہ تھی۔ میری مراد آج آپ کے پاس جدید علوم ہیں، آج آپ کے پاس ٹیکنالوجی موجود ہے، جس سے آپ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ آج آپ اس دور میں رہ رہے ہیں جس میں آپ کو پوری دنیا کے حالاتِ حاضرہ پلک جھپکنے میں معلوم پڑ سکتے ہیں۔ آپ لوگوں کے مسائل سے گھر بیٹھے آگاہی حاصل کرسکتے ہیں۔ مسائل اور اُن کا حل تلاش کرنے میں آج کے ذرائع ابلاغ کے سبب اب کوئی دِقت درپیش نہیں ہے، اور آپ کے پاس اچھائی کے بارے میں بھی مکمل علم آ چکا ہے۔

گزشتہ دنوں فیس بُک پر ایک پوسٹ دکھائی دی، جس پر بڑی پیاری بات لکھی ہوئی تھی کہ جتنی اچھائی کی باتیں دنیا میں کی جاسکتی تھیں یا سمجھائی جاسکتی تھیں، وہ سب لوگوں نے پڑھ لی ہیں لیکن ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہم نے عمل کیسے کرنا ہے اور کب کرنا ہے۔ تو میرے خیال میں میرے نوجوانوں! اب عمل کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ اب آپ کے پاس گنجائش نہیں ہے کہ آپ وقت ضائع کریں۔ اب اگر آپ سب نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو ہم ان بے جا رسم و رواج کو کبھی بھی ختم نہیں کرپائیں گے جن کی وجہ سے ہم سب عذاب میں مبتلا اور قرضوں میں جکڑے جاتے ہیں لیکن اُنہیں چھوڑ نہیں رہے ہوتے۔ لہذا آنیوالی نسلیں یہی کہیں گی کہ یہ رسم و رواج ہمارے بزرگوں کے دیئے ہوئے ہیں۔ یعنی آپ کے دیئے ہوئے۔ ذرا سوچئے کہ کیا آپ اپنے سر یہ الزام لینا چاہیں گے کہ یہ فضول رسم و رواج آپ نے قائم رکھے ہیں؟

میں یہ ہرگز نہیں کہہ رہا کہ ہمارے بزرگوں نے غلط رسم و رواج قائم کیے تھے کیونکہ شاید یہ سب کچھ یعنی فوتگی پر اور شادی پر زیادہ ہجوم اکٹھا کرنا یا کھانے دینا اُس وقت کی ضرورت، مجبوری یا تقسیمِ ہند سے پہلے کا کلچر ہو۔ یعنی اُس وقت لوگ صرف غمی، خوشی کے مواقع پر ہی اپنے دور دور کے رشتےداروں سے مل پاتے تھے کیونکہ تب ذرائع آمد ورفت اور ذرائع مواصلات کا فُقدان تھا، بلکہ فوری پہنچنے اور واپس لوٹ آنے کے ذرائع نقل و حمل تب تھے ہی نہیں تو مہمان زیادہ دیر تک رُکے رہتے تھے تو شاید خوشی غمی کے مواقع پر طعام و قیام کرانا ہمارے بزرگوں کی تب مجبوری ہو، لیکن اب وہ زمانہ نہیں رہا تو وہ رسمیں اور رواج بھی باقی نہیں رہنا چاہئیے۔ اب خوشی وغمی کے مواقع پر لوگ آتے ہیں، غم میں شریک ہوتے ہیں اور گھروں کو چل دیتے ہیں، لیکن اِس کے باوجود ہم نے رسم و رواج کو تبدیل نہیں کیا جس کی وجہ سے آج کے دور میں سفید پوش لوگ اور کم آمدنی والے لوگ بہت متاثر ہو رہے ہیں۔

میرے نوجوانوں! آپ نے ان سفید پوش لوگوں کا بھرم رکھنا ہے، آپ نے لوگوں کو سمجھانا ہے، آپ نے یہ تبلیغ اپنے گھروں سے شروع کرنی ہے، اپنے محلے سے، اپنے گاؤں اور شہر سے تاکہ مہندی، جہیز، بارات اور شادی بیاہ پر بے تحاشا اخراجات والی رسموں سے پورے ملک کو نجات مل سکے۔ اسی طرح جب کسی کی فوتگی ہو جائے تو قُل کے ختم، درُود، دسویں، چالیسویں اور جمعراتوں کے ختم کے نام پر پوری پوری برادری کو بار بار بلانے اور مقامی لوگوں کو بھی مدعو کر کے اُن کی دعوتیں کرنے کے رواج کو بھی ختم کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اور یہ کام اتنا مشکل بھی نہیں ہے کیونکہ میرے گاؤں دھنیالہ کے سپوت جناب شیخ محمد یونس صاحب نے ڈیڈھ، دو سال کے اندر اندر اپنی شیخ برادری سے مرنے اور جینے کو آسان بنانے کی بات منوا کر عملاً یہ کامیابی حالیہ دنوں میں حاصل کر لی ہوئی ہے جسے بہت بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔

لیکن ہر برادری اور ہر گاؤں کو شیخ یونس صاحب جیسا ایک ایک ریفارمر درکار ہے تاکہ آنے والی نسلوں پر آپ بھی یہ احسان کر سکیں کہ فضول رسم و رواج پر پیسہ لُٹانے کے بجائے اپنی کمائی ہوئی رقم اپنے بچوں کی تعلیم، صحت اور کیرئیر پہ خرچ کرکے آپ اُنہیں کارآمد شہری بنا سکیں۔

ترقی یافتہ اقوام کب کی ایسی فضول رسموں کو چھوڑ چکی ہیں جس کی وجہ سے اُن کے معاشرے تعلیم یافتہ اور صحت مند ہیں۔ ہمیں بھی اب شیخ برادری کی طرح نکاح کو آسان بنانا ہوگا اور فوتگی والے گھر سے کھانا کھانے سے انکار کرنا ہوگا۔

آپ باقی باتوں اور سیاسی بحث مباحثوں کو پسِ پُشت ڈالتے ہوئے یونس شیخ صاحب کے اُس مشن کو آگے بڑھائیں جس کا عملاً اظہار اور سادگی اپنانے کا عہد شیخ کمیونٹی نے کر کے ہم سب کو لمحۂ فکریہ دے دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم پرانے رسم و رواج کو چھوڑ کر سادگی اپنائیں اور خوشی وغمی کے مواقع پر خرچے گھٹا کر زندگی کو آسان بنائیں۔

اگر یونس شیخ صاحب، جنہوں نے زیادہ تر زندگی بیرونِ ملک گزاری تھی، وہ اِن مسائل کو سمجھ کر اپنی برادری سے سادگی کے منشور پر دستخط کروا سکتے ہیں تو ہمارے یہاں رہنے والے لوگ کیونکر نہیں سمجھ سکتے کہ نکاح کو اخراجات کی وجہ مشکل بنا دینے اور فوتگی ہونے پر رواج کے طور پہ لوگوں کی دعوتیں کرتے رہنے سے ہم اپنی وہ کمائی ناحق ضائع کر دیتے ہیں جسے اپنے بچوں کی تعلیم اور کیرئیر پر خرچ کرنا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔ لہذا وہ بات جو آج تک ہم خود نہیں سمجھ سکے تھے، یونس شیخ صاحب اور اُن کی برادری نے اگر عملاً اس پر عملدرآمد شروع کر ہی دیا ہے تو اچھائی کی باتوں کی ہم سب کو اب تقلید کرنی ہوگی اور شادی کی فضول رسموں؛ مہندی، مہنگے عرُوسی لباس، بارات اور جہیز لینے اور دینے کو ختم کر کے نکاح کو آسان بنانا ہوگا، اور اسی طرح اپنے گھر میں فوتگی ہو جانے پر جنازے، قُل، درود، سوئم، جمعراتوں، چالیسویں اور برسی کے ختم پر لوگوں کو بُلا بُلا کر دعوتیں کھلانے کا رواج بھی ختم کرنا ہوگا، کیونکہ ہمارے بچوں کی صحت اور خاص طور پر تعلیم پر خرچ کی جانیوالی رقم اِن فضول رسموں کی نذر ہو جائے گی تو اس سے نقصان ہمارا اپنا ہوگا۔

میرا آخری ایک سوال یہ ہے کہ کیا آپ نے کبھی یہ منظر دیکھا ہے، اور یقیناً دیکھا ہے، کہ گھر میں جوان میت پڑی ہوتی ہے تو اُس وقت ورثأ لوگوں کے لیے کھانے کی تیاری کرنے کے بارے میں فکرمند ہو رہے ہوتے ہیں۔ کسی کا بیٹا، کسی کا باپ، کسی کی ماں یا کسی کی بہن کی میت صحن میں پڑی ہوتی ہے تو وارث کو غم کرنے کی فرصت نہیں ہوتی کیونکہ اُس نے آپ کے لیے ضیافت کا بندوبست کرنا ہوتا ہے۔

کیا ہم مُردہ دل ہیں کہ سب کچھ دیکھ کر بھی سمجھ نہیں سکتے؟

لہذا اس مسئلے کے حل کے لیے آپ کے پاس بہت آپشنز موجود ہیں جن پر بحث کی جا سکتی ہے یا دانشور طبقے سے راہنمائی لی جا سکتی ہے۔ بہترین چارٹر شیخ محمد یونس صاحب کا بھی ہے جس کا اُن کی اپنی برادری پر اطلاق ہو چکا ہے۔

لہذا تمام نوجوانوں سے میری اپیل ہے کہ سوشل میڈیا پر آپ شیخ اتحاد ویلفیئر ٹرسٹ کے سادگی منشور کی بھرپور تشہیر کریں اور واٹس ایپ گروپوں میں بھی گروپ ڈسکشن کرنے کے لئے آپ تمام دوست ایک فارمیٹ تیار کریں اور اس موضوع پر تبصرہ و مفید بحث کیا کریں کہ ہم اپنے معاشرے کی اصلاح کیسے کر سکتے ہیں۔

واٹس اپ گروپوں میں اور فیس بُک پر محمد یونس شیخ صاحب کے منشور کو صدقۂ جاریہ سمجھ کر پھیلائیں اور خود بھی فی الفور معاشرے کی اصلاح کے لئے عملی کام کا آغاز فرمائیں۔

یہ کام اکیلے نہیں ہوسکتا اور کمیونٹی کو اکٹھا کرنا پڑتا ہے جیساکہ یونس شیخ صاحب نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پہلا شیخ اتحاد کنونشن بلا کر سب شرکأ سے اجتماعی حلف لیا ہے کہ آئندہ سے وہ جہیز دیا کریں گے نہ لیا کریں گے، اور مہندی، بارات اور لہنگے اور مہنگے ملبوسات کے خرچے گھٹا کر نکاح کو آسان بنائیں گے۔ اور اِسی طرح فوتگی کے موقع پر لوگوں کو بلا بلا کر کھانے نہیں کھلایا کریں گے۔

لہذا آؤ ناں کہ ہم بھی اپنی اپنی برادری اور اپنی اپنی بستی سے اس نیک مشن کا آغاز کریں اور سادگی اپنا کر زندگی کو آسان بنائیں۔

مجھے اُمید ہے کہ شیخ اتحاد ویلفیئر ٹرسٹ کا "سادگی اپناؤ، خرچے گھٹاؤ اور جینا مرنا آسان بناؤ" منشور میرے گاؤں کی شیخ بستی دھنیالہ سے نکل کر پورے ملک میں ایک نہ ایک دن پھیل جائے گا!

نہیں ہے نااُمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے،

ذرا نَم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

0 comments

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page