top of page

نیم مُلّا خطرۂ اِیمان بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

نیم مُلّا خطرۂ اِیمان

بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

قیامت کب قائم ہوگی اس کا ٹھیک وقت تو صرف عالم الغیب کی ذات ہی جانتی ہے۔ مگر رسالت مآب ﷺ نے اس کے وقوع پذیر ہونے سے قبل کی چند نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے۔ جو اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ قیامت اب قریب آ چُکی ہے۔ اُن ذکر کردہ علامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ بھی دینِ اسلام کی ترویج و خدمت کے مدُّعی بن بیٹھیں گے جن کا شرعی علوم و فنون سے دُور دور کا بھی کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوگا۔ نتیجتاً یہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور عوام الناس کو بھی راہ راست سے ہٹائیں گے۔ جیسا کہ مسلم شریف میں مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: {يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، يَأْتُونَكُمْ مِنَ الْأَحَادِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ، وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ، لَا يُضِلُّونَكُمْ، وَلَا يَفْتِنُونَكُمْ} يعنی قُربِ قیامت میں بعض ایسے دجالی صِفت جھوٹوں کا بھی ظہور ہوگا جو لوگوں کو صحیح آحادیث کی بجاۓ اپنی طرف سے ایسی عجیب و غریب اور من گھڑت باتیں پیش کریں گے جنہیں سلف صالحین نے نہ کبھی سُنا اور نہ ہی بیان کیا ہوگا۔ یہ لوگ خود بھی راہِ راست سے ہٹے ہوں گے اور امت کو بھی گمراہ کریں گے۔ خبردار! ان سے بچ کر رہنا۔

قارئین! اگر ہم موجودہ معاشرے پہ ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو یہ حدیثِ پاک اپنی پوری معنویت کے ساتھ متشکل نظر آۓ گی۔ جس پیغمبر ﷺ کے فرمودات کے متعلق لب کُشائی سے پہلے انتہائی احساس اور ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا، آج اس کی ذات کے ساتھ بلاتامل ہر رطب و یابس منسوب کیا جا رہا ہے۔ جھوٹ تو عام افراد کے بارے میں بھی ناقابل قبول اور ناقابل برداشت ہے چہ جائیکہ امام الرسل ﷺ کی ذاتِ اقدس پہ اس کا عکس پڑے! لہذا شرعی ترجمانی، خاص کر حدیث بیانی کرنے سے قبل ایک بار نہیں سو بار سوچنا چاہیے۔ اور شرعی علوم کی باقاعدہ تحصیل و تکمیل کے بغیر دینی مسائل میں اپنی راۓ اور فتویٰ دینے سے ازحد احتراز کرنا چاہیے۔

یاد رکھیے! مذہب ایک منقول من اللہ امانت ہے، یعنی خدا سے جبریل، جبریل سے رسول کریم ﷺ اور رسول کریم ﷺ سے صحابہ کرام اور پھر سلسلہ وار نیچے تک یہ اپنی اصل صورت و معنویت میں ہو بہُو نقل ہوتا آ رہا ہے۔ اس میں جھوٹ کی آمیزش تو درکنار اس کی معنویت میں بھی رائی جتنا بگاڑ پیدا کرنا حرام اور سنگین جرم ہے۔ سنن ابو داود کی ایک حدیث کے مطابق، جنگ کے دوران ایک صحابی کے سر میں شدید زخم ہوگیا۔ ناگہاں اُسے غسلِ واجب کی حاجت ہوئی۔ لہذا اس نے جب اپنے ایک ساتھی سے پوچھا تو محض اپنی راۓ کی بنا پر اس نے یہ فتویٰ دے ڈالا کہ غسل کیے بغیر چارہ نہیں۔ چنانچہ سائل نے فتوے کے مطابق غسل کیا۔ زخم مزید بگڑ گیا اور وہ بے چارہ دم توڑ گیا۔ رسالت مآب ﷺ کو جب اس سانحے کا علم ہوا تو آپ ﷺ سخت ترین ناراض ہوۓ۔ اور اسے قاتل قرار دیتے ہوۓ بایں الفاظ سخت ترین سرزنش بھی کی: {قَتَلُوهُ قَتَلهُمُ اللهُ، ألا سألوا إذ لم يعلموا، فإنَّما شِفاءُ العيِّ السؤال} فرمایا: ان لوگوں نے غلط راۓ دے کر اُسے قتل کر ڈالا۔ جب انہیں مسئلے کا علم ہی نہیں تھا تو بغیر تحقیق کیوں فتوی دیا!؟

قارئین! صحیح اور جعلی روایات کو خلط ملط کرنے کا سلسلہ تو تابعین اور تبعِ تابعین کے زمانے سے ہی چل پڑا تھا۔ مگر اللہ بھلا کرے ان محدثین کا جنہوں نے دین کے اس متوازی مکتب کی کوئی چال نہ چلنے دی اور بڑے خلوص و محنت سے صحیح اور من گھڑت روایات کے ما بین ایک ناقابلِ تسخیر حدِ فاصل قائم کر دی۔

فی زمانہ بھی کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو نئے نئے طریقوں سے دین کے اصل تشخص کو مجروح کرنے پہ تُلے ہوۓ ہیں۔ ان میں کچھ تو معروف فرقوں سے منسوب ہیں، جنہوں نے روایتی طور پہ دینی اداروں سے کچی پکی سند لی اور پھر اپنے نام کے ساتھ خود ساختہ سابقے لاحقے لگا گر دین کے مبلغ و سکالر بن بیٹھے۔ اور بعض ایسے بھی ہیں کہ شرعی علوم و فنون پڑھنا یا سیکھنا تو بہت دور کی بات انہوں نے کبھی کسی دینی مدرسے کا منہ تک نہیں دیکھا۔ بس اپنے بے لگام مطالعے اور بے مہار فکر کو ایک الگ مکتبِ فکر کی شکل دے ڈالی، چند عقیدت مند سامنے بٹھاۓ، ویڈیو کیمرا آن کیا، اور حساس ترین شرعی مسائل کے حوالے سے شوشے پہ شوشہ چھوڑے جا رہے ہیں۔ یہ نام نہاد سکالرز آیات اور روایات کے معانی و مفاہیم کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ اس پر مستزاد کہ تبلیغِ دین کی آڑ میں اصحابِ رسول ﷺ کے مابین ہونے والے بعض اجتہادی اختلافات کو بنیاد بنا کر جلیل القدر صحابہ کو نشانہ بناتے ہیں۔ جن نفوسِ پاک کے ایمانی تقدس کی قسم خود خدا کھاۓ، جنہیں وہ اپنی رضا و خوشنودی کے کنفرم سرٹفکیٹ عطا فرماے، آج کے یہ بے علم بے سند، فیسبکی اور یوٹیوبی مفکرین ان پاکباز ہستیوں کو مطعون قرار دیں!؟ الحذر! سو بار الحذر!

قارئین! جمہور أئمہ دین، مفسرین، محدثین، اور فقہائے متین مشاجراتِ صحابہ کے متعلق واضح طور پہ امت کو آگاہ کر گئے ہیں کہ اِن مشاجرات کے بارے میں اپنی زبانوں کو خاموش رکھو۔ ہر طرح کے تبصرے سے کلی طور پہ گریز کرو۔

مگر افسوس صد افسوس! آج کے کچھ نام نہاد اور ناقابلِ اعتماد یوٹیوبر مبلغین نے یہ ٹھان رکھی ہے کہ سلف صالحین تو اس معاملے میں انصاف نہیں کر سکے، اب ہم اپنی عدالتیں لگا کر اصحابِ رسول ﷺ کو تختۂ مشق ضرور بنائیں گے۔ معروف عربی کہاوت ہے: (لکل فن رجال) کہ ہر ہُنر اس کے ماہر کو ہی زیب دیتا ہے۔ اب اگر کوئی انسان کسی فن میں دسترس حاصل کیے بغیر ہی اس کی شناخت و مہارت کا دعوی کرے اور مزید بر آں اس کی ترویج پہ بھی کمر کس لے تو یہ اس فن کی توہین کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے لیے بھی ازحد ضرر رساں ثابت ہوگا جنہیں اس فن کا مخاطب بنایا جاتا ہے۔

جیسے کوئی شخص ڈاکٹری سیکھے بغیر ہی مریضوں کا علاج یا آپریشن کرنے لگے تو اس کی غلط تشخیص و علاج کے باعث اگر مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے یا اس کے مضر اثرات کے باعث کئی اور امراض کا شکار ہو جائے تو شرعی اعتبار سے بھی وہ ایک قاتل و مجرم ہے اور ملکی قوانین کے لحاظ سے بھی۔ اسی طرح اگر ایک جعلی ٹھیکے دار کی نا اہلی کے باعث کوئی بلڈنگ یا پُل گر جاتا ہے تو اس کی زد میں آنے والوں کی ساری ذمے داری اس جعلی ٹھیکیدار پہ عائد ہوگی، بھلے وہ زخمی ہوں یا جاں بحق۔

سو مذہب کا باقاعدگی سے علم حاصل کیے بغیر ہی حساس ترین دینی مسائل پہ گفتگو کرنا یا فتوی دینا عطائی ڈاکٹرز اور جعلی ٹھیکیداروں سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ کیونکہ ایسا بے علم شخص لوگوں کے ذہنوں میں بد عقیدگی پیدا کرتا ہے، فرقہ واریت پھیلاتا ہے، نیز قوم کو اخلاقیات سے بھی عاری کر دیتا ہے۔ کسی دانشور نے سچ کہا ہے کہ (نیم حکیم خطرہ جان، نیم درزی خطرہ تھان، نیم مُلا خطرہ ایمان)۔

یوں سمجھیے! جیسے بھٹہ، مِل یا فیکٹری مالکان حکومت کی وضع کردہ احتیاطی تدابیر کو خاطر میں نہ لا کر فضائی آلودگی پھیلاتے ہیں، بعینہٖ مذہب سے نا آشنا اور دینی علوم و فنون سے نابلد یہ فیسبکی اور یوٹیوبی مفکرین بھی اپنی من پسند توضیحات کے سہارے قوم میں فکری آلودگی پھیلانے کے ذمے دار ہیں۔ اول الذکر فضائی لحاظ سے سماج کو مکدر کر رہے ہیں جبکہ یہ مذہبی اور فکری اعتبار سے معاشرے کو پراگندہ کر رہے ہیں۔

محلِ حیرت ہے کہ لوگوں کے جانی نقصانات پہ تو ریاست و عدالت مجرمین کے لیے کڑی سزائیں تجویز کرتی ہے، مگر لوگوں کے ایمانی نقصانات پہ اس کے ہاں مکمل سکوت ہے۔ دوسرے لفظوں میں: جو کسی کی جان سے کھیلے تو پابندِ سلاسل یا تختہ دار پہ، اور جو کسی کے ایمان سے کھیلے اس کے لیے کوئی پوچھ تاچھ نہیں!

قارئین! یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ حفظِ دین کا ذمہ چونکہ خود اللہ نے اٹھا رکھا ہے اس لیے اس میں رد و بدل ممکن نہیں۔ کوئی لاکھ کوشش کرے تو بھی وہ نامراد ہی ٹھہرے گا۔ ہاں! نیگٹو فکر کے حاملین اور جھوٹی شہرت کے قائلین ضرور بروزِ قیامت اپنی سخت باز پرس کا سامان پیدا کر رہے ہیں۔

یہاں ان لوگوں سے بھی ہماری گزارش ہے (جو بالکل بہرے گونگے بن کر اور حقائق کو بالاۓ طاق رکھ کر اِن بزعمِ خوِیش مبلغین کے دین نُما ملفوظات پہ سر دُھنتے ہیں) اُنہیں چاہیے کہ وہ دینی مسائل کو سمجھنے کےلیے جید مشائخ اور مستند علما کی طرف رجوع کیا کریں۔ تاکہ ان کی صحیح رہنمائی و تشفی ہو سکے۔

ویسے بھی کامن سینس کی بات ہے کہ ہر کوئی اپنے دُنیاوی مسائل میں بہت حساس ہوتا ہے، مثلا: گھر کا سودا سلف لینا ہو یا مکان کی تعمیر کےلیے مٹیریل و معمار درکار ہو یا کسی مرض کے علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانا ہو وغیرہ وغیرہ۔۔۔ تو وہ بڑی سوچ پرکھ اور تحقیق کرتا ہے کہ کہیں اسے ٹھوکر نہ لگ جاۓ اور وہ دنیاوی سامان یا اپنی جان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے! یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی حساسیت کا مظاہرہ پھر دین و ایمان کے بارے میں کیوں نہیں کیا جاتا!؟ ہمارے ذہنوں میں عارضی زندگی برتر کیوں اور ایک دائمی زندگی کمتر کیوں ہوچکی ہے!؟ حالانکہ اس دائمی زندگی پر ہماری جزا و سزا اور حقیقی کامیابی یا ناکامی منحصر ہے۔ پس ہر وہ شخص جس میں ایمان کی اہمیت کا رتی بھر بھی احساس و پاس ہے اُسے چاہیے کہ وہ دینی رہنمائی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ان مستند علماء و شیوخ کی طرف رجوع کرے جنہوں نے محدثین اور ائمہ دین کے منہج کے مطابق شرعی علوم خاص کر عربی گرائمر، تفسیر و اصول تفسیر، حدیث و اصول حدیث اور فقہ و اصول فقہ کی باقاعدہ تعلیم و تربیت حاصل کی ہو۔ جنہیں شرعی مسائل پر مکمل عبور و دسترس ہو۔ جنہیں عصری مسائل کا ادراک ہو۔

آخر میں ہم اربابِ اختیار سے بھی کہیں گے: کہ وہ شرعی مسائل کی تحلیل و وقوف کے لیے تمام مسالک کے جید علما پر مشتمل کوئی متفقہ بورڈ وضع کرے، یا پھر اسلامی نظریاتی کونسل میں ہی مزید جدت و وسعت پیدا کرے۔ اور پھر اسے فیڈرل سے لیکر یونین کونسل تک کمیٹیوں کی صورت میں رسائی بھی دی جائے، تاکہ اس کے ذریعے جہاں جعلی مبلغین و مفکرین کی جعل سازی سے لوگ بچیں گے، وہاں علماۓ حق سے مذہب کی صحیح رہنمائی بھی حاصل کر سکیں گے۔

نیز حکومت سے ہمارا یہ بھی پرزور مطالبہ ہے کہ علوم شرعیہ سے نابلد اور بے سند فیسبکی و یوٹیوبی مبلغین پہ -ان کی غلط سلط بیان کردہ اسلامی تشریحات اور مقدس شخصیات پر کیچڑ اچھالنے کی بِنا پر- فی الفور پابندی لگائی جائے تاکہ فساد فی الدین، فساد فی الارض اور فرقہ واریت و منافرت کے راستے بند ہوں۔

0 comments

Recent Posts

See All

تحصیل پنڈدادنخان میں پرائیویٹ سکولوں کی لٹ مار کا بازار گرم،بھاری فیسیں وصول کرنے کے باوجود سہولیات ناپید بچے گھروں سے پینے کے صاف پانی کی بوتلیں لے کر جانے پر مجبور،محکمہ تعلیم جہلم میٹھی نیند سو گیا

تحصیل پنڈدادنخان میں پرائیویٹ سکولوں کی لٹ مار کا بازار گرم،بھاری فیسیں وصول کرنے کے باوجود سہولیات ناپید بچے گھروں سے پینے کے صاف پانی کی بوتلیں لے کر جاتے ہیں،گرم اور بند کمرے حبس کا مرکز بن گئے کھی

جہلم(ریاض گوندل)جہلم کے شہریوں پر چاروں طرف سے گردآلود دھول کی برسات، محکمہ ماحولیات خاموش تماشائی،چک دولت رانجھامیرا قلعہ روہتاس اور ملوٹ سے نکلنے والے کرش بجری ریت خاکے،شہری بیمار

جہلم(ریاض گوندل)جہلم کے شہریوں پر چاروں طرف سے گردآلود دھول کی برسات ہو رہی ہے محکمہ ماحولیات خاموش تماشائی بنا ہوا ہے چک دولت رانجھامیرا قلعہ روہتاس اور ملوٹ سے نکلنے والے کرش بجری ریت خاکے کے ڈمپرز

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page