top of page

نیا سال مبارک تحریر : نعمان فاروق


نیا سال مبارک

تحریر : نعمان فاروق

نئے سال کے سورج کی آنکھیں اس ظلم کو دیکھ کر نم۔۔۔جو چکوال کی دھرتی بالخصوص کہون اور ونہار کی وادیوں میں شکار کے اجازت نامے دے کر شیطان حکومت(المعروف نگران حکومت)نے کیا۔۔۔خرگوش اور بھورے تیتر کے شکار کے اجازت ناموں پر کس طرح ہرن، کالے تیر،چکور اور دوسرے معصوم پرندوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی اس کی گواہ اب وہ فصلیں بھی نہیں رہیں جن کو پورے پاکستان سے شکار کے لیے آنے والی شکار پارٹیوں نے اپنے ویگو ڈالوں تلے روند ڈالا۔۔شکار کے اجازت ناموں کے نام پر وادیوں میں شب خون کے لیے داخل کیے جانے والے کو یہ بتا دیا گیا تھا کہ نہ تو پرمٹ پر دی گئی شکار کی تعداد کا خیال رکھنے کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی اس بات کا دھیان کرنا ہے کہ کس چیز کے شکار کا پرمٹ ہے اور کس کا نہیں۔۔۔بس جو سامنے آئے قتل کرتے جاو۔۔۔حملہ آوروں کو خبر دے دی گئی تھی کہ ایسا پھدو علاقہ پاکستان میں کہیں نہیں ملے گا۔۔۔ان کے جنگلوں سے جانور اور پرندے تو کیا اگر جنگل اور پہاڑ بھی غائب کر دو تو بھی کوئی مزاحم نہ ہو گا(میں تو کہتا ہوں اگر انسانوں کو بھی غائب کر دیا جائے تو بھی کوئی نہ بولے)۔۔۔پھر یہی ہوا۔۔۔ بھورے تیتر اور خرگوش کے شکار پر دیے گئے پرمٹ کے نام پر جس طرح ہرن، کالے تیتر، چکور اور ان کے علاوہ بھی کئی طرح کے جانوروں اور پرندوں کے خون سے یولی کھیلی گئی اس کی مثال نہیں ملتی۔۔۔

بہت سی جگہوں نے شکاریوں نے اپنا نشانہ چیک کرنے کے لیے موروں کو بھی نشانہ بنایا۔۔۔ہر طرف اس سانحے پر غم و غصہ لیکن چپ ہیں تو ان علاقوں کے باسی۔۔۔

شکار کے پرمٹ ملنے کے بعد فقط ایک روز میں۔۔پہلے اتوار کو انیس ہزار 19000 پرندوں کا قتل ہوا۔۔۔

بھورے تیتر کا تو صفایا ہی کر دیا گیا۔۔۔

اب کسی کنج سے تیتر کی آواز نہیں آ رہی۔۔۔آ رہی ہے تو فقط بارود کی بو۔۔۔اگر اس ظلم پر کوئی بول رہا تو فقط جنگل کا سناٹا۔۔۔

ہے کوئی پوچھنے والا جو پوچھے کہ شکار کے اجازت ناموں پر لکھی گئی تعداد اور شکار کیے گئے پرندوں کی تعداد میں ایسا فرق کیوں۔۔ہے کوئی پوچھنے والا کہ قاتلوں کو ہرن، چکور،موروں کے قتل کا پروانے کس نے جاری کیے۔۔۔یہ سب کھیل پولیس کے پہرے میں ہوتا رہا۔۔۔بالکل اسی طرح جس طرح فوج کے پہرے میں سیمنٹ فیکٹریاں لگا کر کہون کی عصمت دری کے عمل کا آغاز کیا گیا۔۔۔لکھنے کو تو میں لکھ رہا لیکن ان معاملات کا حل رضائی میں سر دے کر چند لفظ لکھنے والوں کے پاس نہیں۔۔۔اس کا حل۔۔خیر چھوڑیں میں کیسے لوگوں سے کیا بات کرنے لگا۔۔۔۔

روحِ شاران بلوچ ہم پر سایہ کر کہ ہم اپنے علاقے کے ساتھ ہونے والی ہر طرح کی زیادتی پر کوئی ردعمل دکھا سکیں۔۔۔اپنی ڈاکٹری کی ڈگری پر پاوں رکھ کر بلوچستان کے وسائل کا بلوچ لوگوں میں تقسیم نہ ہونے کا غم لے کر بندوق اٹھانے والے ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ۔۔۔آپ جہاں بھی ہیں وہیں سے ہمارے علاقے کی طرف بھی نگاہ کریں کہ سنا ہے غیرت مندوں کی آنکھوں کی تاثیر فاصلوں سے ورا اثر کرتی۔۔۔ماہرنگ بلوچ ۔۔۔کسی لمحے زمین پر تھوکتے ہوئے اپنے رخ کو ہمارے علاقے کی طرف کر۔۔۔۔۔۔

0 comments

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page