top of page

ناحق قتل کی نحوست، سنگینی، سزا بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

*ناحق قتل کی نحوست، سنگینی، سزا*

بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

قارئین! ناحق قتل کی سنگینی، نحوست اور سزا کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ درج ذیل آیت کے مطابق قاتل لعنتی اور پکا جہنمی قرار دیا گیا ہے۔ {{وَمَنۡ یَّقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیۡہَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَلَعَنَہٗ وَ اَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیۡمًا}} سورۃ النساء۔ ترجمہ: اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر ڈالے، تو اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور اس پر الله تعالیٰ غضب ناک ہوں گے۔ اس کو اپنی رحمت سے دور کر دیں گے۔ اور اسے سخت ترین سزا بھی دیں گے۔

*آیت مذکورہ* میں جان بوجھ کر یعنی ناحق قتل کرنے والے کی سزا کے طور پرچار باتیں ذکر فرمائی گئی ہیں: 1:دائمی جہنم، 2:اللہ کا غضب، 3:اللہ کی لعنت، 4:سخت ترین عذاب۔

انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ میں جتنی تاکید کے ساتھ انسانی قتل کی حرمت کو بیان کیا گیا ہے، عصر حاضر میں اس کی اتنی ہی زیادہ بے حرمتی ہو رہی ہے۔ معمولی سی بات پر قتل کے واقعات روزانہ اخباروں کی شہ سرخیاں بنتے ہیں۔

*اس پر مستزاد* یہ کہ حالیہ دنوں میں مسلمان اس جرم کا ارتکاب بڑھ چڑھ کر کر رہے ہیں۔ حالانکہ قرآن و حدیث میں کسی انسان کو ناحق قتل کرنے پر ایسی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں جو کسی اور جرم کے حوالے سے نہیں بیان ہوئیں۔

*بلکہ* بعض بدبخت اپنے گھناؤنے اور ناپاک مقاصد کے حصول کےلیے عام شہریوں اور پُر اَمن انسانوں کو بے دریغ قتل کرنا سعادت سمجھتے ہیں۔ مگر سچ پوچھیے ایسے لوگوں کا اِسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سوچیے! وہ دین جو حیوانات و نباتات تک کے حقوق کا خیال رکھتا ہے، وہ اَولادِ آدم کے قتل عام کی اِجازت کیسے دے سکتا ہے؟!

*فرمان رسول* صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق ایک مومن کی جان کی حرمت کا اندازہ یہاں سے لگائیں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مومن کے قتل کو پوری دنیا کے تباہ ہونے سے بھی بڑا گناہ قرار دیا ہے۔

*قارئین!* قتل تو بہت دور کی بات کسی انسان پر دھشت و وحشت طاری کرنا بھی اسلام میں حرام ہے۔ چنانچہ رسول الله نے فرمايا :«جب كوئى كسى دوسرے كى طرف ہتهيار سے اشاره كرتا ہے، تو فرشتے اس پر لعنت بهيجتے ہيں» اندازہ لگائیں صرف اشاره كرنے سے يہ وعيد ہے كہ فرشتے لعنت كرتے ہيں، تو جو ناحق قتل كرے تو اس بدبخت كا كيا حال ہو گا؟

*اِسلام* نہ صرف مسلمانوں بلکہ بلا تفریقِ مذہب، بلا تفریقِ رنگ، بلا تفریقِ نسل، اِنسانی قتل کی انتہائی سختی سے ممانعت و مذمت کرتا ہے۔ اِسلام میں کسی اِنسانی جان کی قدر و قیمت اور حرمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید نے ایک ناحق انسانی قتل کو پوری اِنسانیت کا خون بہانے کے مترادف قرار دیا ہے۔

*خلاصہ کلام* یہ کہ ناحق قتل کرنے والا قرآن و حدیث کے مطابق پوری انسانیت کا قاتل ہے، لعنتی اور مغضوب علیہ ہے، پکا جہنمی ہے، اللہ کے سخت ترین عذاب کا مستحق ہے۔ *بلکہ* بعض أئمہ کے مطابق وہ کافر ہو جاتا ہے اور اسکی کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی؛ *کیونکہ* قرآن نے جسے پکا جہنمی قرار دیا ہو، تو وہ کافر ہوتا ہے، اور کافر کی کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی۔ *اِلا* کہ دنیا میں اس کےلیے حقیقی اور عمیقی معافی تلافی کی کوئی صورت نکل آئے۔ *جسکی* تفصیلات علمائے ملت اور فقہائے امت نے بیان کر دی ہیں۔

0 comments

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page