top of page

مد ت معین کر کے نکاح کرنا جائز نہیں جو کہ آج کل حلالہ کے نام پر عام ہو رہا ہے،امیر عبدالقدیر اعوان



جہلم(ادریس چودھریJhelumnews.uk)نکاح اور طلاق سے متعلقہ احکامات اللہ کریم کی حدیں ہیں ان سے تجاوز ظلم ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان.طلاق اور حلالہ سے متعلق قرآن کریم میں واضح احکامات موجود ہیں۔اللہ کریم کی مقرر کردہ حدود پر اپنی پسند یا ناپسند کا اطلاق تجاوز ہو گا مرد کو اللہ کریم نے طلاق کا اختیا ر دیا ہے لیکن خاتون کو ایذا کی غرض سے پابند رکھے اور طلاق نہ دے تو یہ سرا سر ظلم ہے۔اس زیادتی کا حساب دینا ہوگا۔ مد ت معین کر کے نکاح کرنا جائز نہیں جو کہ آج کل حلالہ کے نام پر عام ہو رہا ہے۔یہ تجاوز اللہ کریم کے ارشادات کے ساتھ مزاق ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب.انہوں نے کہا کہ آج کل معاشرے میں طلاق کا رجحان بہت زیادہ ہو چکا ہے۔جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے دین اسلام پر عمل چھوڑ دیا ہے۔دینی احکامات کا علم ہونے کے باوجود ہم اپنی پسند سے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔حالانکہ کہ اگر کسی عورت کے ساتھ آپ کا نبھانہ ہو رہا ہو تو طلاق کی اجازت ہے جسے ہم نے اپنی ذاتی انا کی تسکین کے لیے ایسے اختیار کیا ہے کہ دونوں خاندانوں میں باہم دشمنی اور دست و گریبان ہونے کا سبب بن گیا ہے۔اسی وجہ سے خاندانوں میں فساد پیدا ہو رہے ہیں۔عورت کے لیے یہ تکلیف کافی نہیں کہ اس نے زندگی گزارنے کے لیے نکاح کیا اور اب علیحدگی کا دکھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔طلاق کے بعداگرخاتون کو ایذا دینے کی غرض سے کوئی اقدام اٹھایا جائے گا تو یہ ظلم ہو گا جس کی جواب دہی ہو گی۔اور اسے اللہ کریم کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز سمجھا جائے گا۔حلالہ سے مراد یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے لیے کسی دوسری جگہ نکاح کیا جائے پھر وہ خاوند فوت ہوجائے یا کسی وجہ سے ناچاکی ہوجائے اور نبھا نہ ہو سکے وہاں سے بھی طلاق ہو جائے تو عدت پوری کرنے کے بعد پہلے خاوند سے نکاح ہو سکتا ہے۔نکاح و طلاق کو مذاق نہ بنایا جائے۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔





0 comments

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page