top of page

محبتِ رسولﷺ کی اہمیت، ضرورت، مفہوم، اور تقاضے بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

jhelumnews.uk

*محبتِ رسولﷺ کی اہمیت، ضرورت، مفہوم، اور تقاضے*

بقلم: *ڈاکٹر فیض احمد بھٹی* (فاضل مدینہ یونیورسٹی مدینہ منورہ)

یہ بات ہر قسم کی تشکیک سے ماورا ہے کہ کوئی بھی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کا ایمان مکمل ہی نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بعد کائنات کی ہرچیز سے بڑھ کر حتیٰ کہ اپنی جان سے بھی زیادہ رسول کریمﷺ سے محبت کا اقرار و اظہار نہ کرے۔ کیونکہ محبتِ رسولﷺ ایمان کا جُزوِ اعظم ہے۔ ارشاد رب العالمین ہے: {قل إن کان آباءکم.۔۔} (سورت التوبہ) ترجمہ: (اے نبی) کہہ دیجیے: اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور بیویاں اور تمہارا کُنبہ قبیلہ اور جو مال تم کماتے ہو اور وہ تجارت جس کے مندا پڑنے سے تم ڈرتے ہو اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو، (یہ سب کچھ) تمہیں اگر اللہ اور اس کے رسولﷺ اور جہاد فی سبیل اللہ سے زیادہ محبوب ہے تو پھر تم عتاب الٰہی کا انتظار کرو۔ جبکہ حدیث پاک میں کچھ اس طرح ہے: {لایؤمن أحدکم حتی أکون أحب إلیه من والدہ وولدہ والناس أجمعین} (بخاری شریف) ترجمہ: تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک صاحبِ ایمان نہیں ہو سکتا جب تک وہ مجھے اپنے باپ، بیٹے اور ہر انسان سے زیادہ محبت نہ کرے۔

*مذکورہ* آیت اور روایت کی روشنی میں بڑی وضاحت و صراحت سے ثابت ہوا کہ محبت رسولﷺ ایمان کا اہم ترین جُز ہے اور اس کے بغیر ایمان نامکمل ہے۔

*اب* دیکھنا یہ ہے کہ مذکورہ محبت سے کیا مراد ہے، یا وہ کیسی محبت ہے کہ جس کا یہاں مطالبہ کیا جا رہا ہے!؟ تو آئیے اس بات کا جواب بھی ہم اپنے محبوب قائد، مرشدِ کامل، امامِ اعظم، جناب محمدﷺ کے فرامینِ عالیہ میں تلاش کرتے ہیں تو ہمارے سامنے آنجنابﷺ کا درج ذیل فرمان بایں الفاظ آشکار ہوتا ہے کہ: {من أحب سنتی فقد أحبنی ومن أحبنی کان معی فی الجنة}۔ (ترمذی شریف) ترجمہ: جس نے میری سنت (طریقے) سے محبت کی درحقیقت اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میری رفاقت میں ہوگا۔

*قارئین!* محبتِ رسولﷺ کے حوالے سے مذکورہ حدیث شریف نے ہر پہلو واضح کر دیا ہے بلکہ ہمارے لیے محبتِ رسولﷺ کے بارے میں ایک سنہری اصول قائم کر دیا کہ محبتِ رسولﷺ کا مفہوم اور تقاضا یہ ہے کہ رسالت مآبﷺ کے فرمانِ مستطاب (آحادیث و سنن) کو دل میں جگہ دی جائے، ان کے طریقے سلیقے کے مطابق عبادات و معاملات کو ادا کیا جائے۔ نیز اپنی خوشی غمی، دکھ سکھ سمیت تمام معمولات میں آپﷺ کی سیرت طیبہ کو اپنایا جائے۔ کیونکہ اصل اور حقیقی محبتِ رسولﷺ یہی ہے۔ بلکہ اللہ نے بھی اپنی محبت کے دعویداروں کےلیے یہی معیار و پیمانہ مقرر فرمایا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {قل إن کنتم تحبون الله فاتبعونی.۔۔} (سورت آل عمران) ترجمہ: (اے محبوب) کہدو: اگر تم اللہ سے محبت (کا دعویٰ) کرتے ہو تو میری اطاعت کرو۔

*لہذا* معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے کا مطلب اور تقاضا بھی یہی ہے کہ اس کے رسول محمدﷺ کی سیرت کو اپنایا جائے۔ اب اگر کسی شخص کی محبت اس پیمانے پر پوری اترتی ہے تو وہ یقیناً ایک سچا اور سُچا محبِ خدا بھی ہے اور محبِ مصطفی بھی ہے۔ اور ایسے شخص سے اللہ تعالیٰ نہ صرف پیار کرتے ہیں بلکہ اس کے گناہوں کو بھی معاف کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن نے بتلایا ہے: {یحببکم الله ویغفرلکم ذنوبکم} (سورت آل عمران) ترجمہ: اللہ تعالیٰ تم سے پیار کرے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دے گا۔ جبکہ آخرت میں اسے جنت الفردوس کا داخلہ اور رسول کریمﷺ کا ساتھ نصیب ہوگا۔ جیسا کہ حدیث میں ہے: {۔۔۔کان معی فی الجنة} ترجمہ: وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔

*اقبال مرحوم* نے بھی درج ذیل شعر میں اسی بات کو واضح کیا ہے: (کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں، یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں) یعنی رسول کریمﷺ سے اگر وفاداری اور تابعداری ہے تو پھر دنیا وآخرت کی تمام نعمتیں اور کامیابیاں تیرا مقدر ہیں۔ اس کے برعکس اگر کوئی محبتِ رسولﷺ کا مُدعی تو ہو مگر اسکی عبادات و معاملات رسول اکرمﷺ کے فرامین کے تابع نہیں بلکہ اس کی اپنی خواہشات یا کسی غیر نبی شخصیت کے تابع ہیں تو پھر اسے اپنے ایمان کے بارے سوچنا اور فکر کرنی چاہیے! کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کس راستے پر گامزن ہے!؟ کیونکہ اللہ رب العالمین نے واضح طور پر یہ فرمایا ہے: {فلیحذر الذین یخالفون عن أمرہ أن تصیبهم فتنة أو یصیبهم عذاب ألیم} (سورت النور)۔ جو لوگ فرمانِ رسولﷺ کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی آفت نہ آپڑے یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچ جائے۔ جبکہ حدیث پاک میں کچھ اس طرح وعید آئی ہے کہ: {ومن عصانی فقد أبی} (بخاری شریف) ترجمہ: جس نے میری نافرمانی کی اس نے یقینا (جنت جانے سے) انکار کیا۔

*اور بقول شاعر* ایسا آدمی جھوٹا ہے جو محبتِ رسولﷺ کا دعویٰ تو کرتا ہے مگر اپنی زندگی اطاعتِ رسولﷺ کے خلاف بسر کرتا ہے: (تعصی الرسولﷺ وأنت تظهرہ حبه والله ھذا فی الزمان بدیع، لو کان حبك صادقاً لأطعته؛ لأن المحب لمن یحب مطیع) خدا کی قسم یہ بات بڑی حیران کن ہے کہ تم محبت رسولﷺ کا دعویٰ تو کرتے ہو مگر اپنے معمولاتِ زندگی خلافِ سنت گزارتے ہو۔ اگر تمہاری محبت سچی ہوتی تو تم آپﷺ کی اطاعت کرتے؛ کیونکہ محبِ صادق وہی ہوتا ہے جو اپنے محبوب کی مکمل تابعداری کرتا ہے۔

*سو* (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) کے قائل کے لیے زندگی گزرانے میں بہترین نمونہ آنجنابﷺ کی سیرت مبارکہ کو ہی قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل آیت میں ہے: {لقد کان لکم فی رسول الله أسوۃ حسنة} (سورۃ الأحزاب) ترجمہ: بے شک تمہارے لیے رسول اللہﷺ کی سیرت بہترین نمونہ ہے۔

*قارئین!* لاجیکلی بھی دیکھا جائے تو درج ذیل وجوہات کی بنا پر بھی تمام بنی نوع انسان کو صرف اور صرف سیرت مصطفیﷺ کو ہی اپنانا اور مشعل راہ بنانا چاہیے؛ کیونکہ اگر *منقولات* کی روشنی میں دیکھیں تو بھی آپﷺ کی سیرت طیبہ ہی قیامت تک آنے والے تمام جنوں، انسانوں کےلئے بہترین نمونہ ہے: اولاً جیسا کہ گزشتہ آیات و روایات میں آپ پڑھ چکے ہیں۔ ثانیاً آپﷺ کا ہر قول، فعل، عمل اور تقریر اللہ رب العالمین کی وحی و منشا کے عین مطابق ہوتا ہے۔ جیسے ارشاد ہے: {وما ینطق عن الهوی إن ھو إلا وحی یوحی} (سورۃ النجم) ترجمہ: اور وہ (رسول) اپنی خواہش سے بات نہیں کرتا بلکہ وہ اللہ کی طرف سے آمدہ وحی سے ہی بولتا ہے۔ اور اگر *معقولات* کے تناظر میں دیکھیں تو تب بھی آپﷺ کی سیرت ہی اعلیٰ ترین نمونہ اور آئیڈیل زندگی ہے؛ کیونکہ آنحضرتﷺ کی سیرت طیبہ تاریخی اعتبار سے انتہائی مستند، مکتوب اور محفوظ ہے۔ اور بنی نوع انسان کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو محیط ہے۔ اس کا ہر گوشہ کامل اور ہر زاویہ مکمل ہے۔ بلکہ عملی لحاظ سے بھرپور ہے۔ یعنی جس کا حکم دیا اسے آپﷺ نے خود بھی عملی طور پر کر کے دکھایا۔ مذکورہ وجوہات کہ پیش نظر خالق کائنات نے ایک مقام پر سیرت رسولﷺ کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے دو ٹوک فرمایا: {من یطع الرسول فقد أطاع الله} (سورۃ النساء) ترجمہ: جس نے رسولﷺ کی اطاعت کی گویا اس نے اللہ کی اطاعت کی۔

*لہذا قرآن و حدیث* کے ان واضح اور کھرے دلائل کے مطالعے کے بعد بھی اگر کوئی شخص محبتِ رسولﷺ کا دعویٰ تو کرے مگر معمولاتِ زندگی و بندگی اور عبادات و معاملات اپنی من مانی سے یا اوروں کے طریقے پر گزارے تو پھر ایسے دوغلے پن پر مولوی عبدالستار مرحوم کے اس معروف شعر کی صداۓ بازگشت کے سوا کیا ہے: (دن ہُندیاں جو دِیوا بالے تے احمق اُس نوں کَہیےّ، نبیﷺ ہُندیاں جو مرشد بَھالے تے نام کی اُسدا لَیّے) یعنی سورج کی روشنی کے باوجود اگر کوئی چراغ جلاتا پھرے تو اسے بےوقوف کہتے ہیں۔ اسی طرح جو مرشدِ کامل، امام الرسل، حضرت محمدﷺ کی راہنمائی کے باوصف کسی اور رہنمائی کو تلاش کرے تو ایسے بدنصیب کے بارے میں کیا کہیں؟!

*قارئین* ! اگر مکمل کالم یاد نہ بھی رہے تو درج ذیل 2 حدیثوں کا ترجمہ ہی ذہن نشین کر لیں ان شآء اللہ زیر مضمون بات آسانی سے آپ کی سمجھ میں آ جائے گی:1-{لا یؤمن أحدکم حتی أکون أحب إلیه من والدہ وولدہ والناس أجمعین} ترجمہ: تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ مجھے اپنے باپ، بیٹے اور ہر انسان سے زیادہ محبوب نہ جانے (بخاری)، 2-{من أحب سنتی فقد أحبنی ومن أحبنی کان معی فی الجنة} ترجمہ: جس نے میری سنت (طریقے) سے محبت کی، اس نے درحقیقت مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا (ترمذی)۔

0 comments

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page