top of page

قربانی: أحکام و مسائل بقلم: *ڈاکٹر فیض احمد بھٹی* (فاضل مدینہ یونیورسٹی)

*قربانی: أحکام و مسائل*

بقلم: *ڈاکٹر فیض احمد بھٹی*

(فاضل مدینہ یونیورسٹی)

ویسے تو قربانی سنتِ ابراہیی کے طور پر مشہور ہے۔ لیکن ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے بالدوام اِس سنتِ کا التزام فرمایا۔ اور ہم مسلمان بھی ہر سال اسی لیے قربانیاں ذبح کرتے ہیں کیونکہ ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں بھی اس کی تلقین و تاکید فرمائی ہے۔ *لہٰذا* اس عظیم الشان سنت کی اہمیت و افادیت کے پیشِ نظر ہر صاحبِ استطاعت کےلیے ضروری ہے کہ وہ عملی مظاہرہ کرتے ہوئے قربانی دے، اور اس کے أحکام و مسائل سے بھی اچھی طرح آگہی حاصل کرے۔ *کہیں* ایسا نہ ہو کہ مال بھی خرچ کیا جاۓ اور ثواب سے بھی محروم رہے! *لہذا* قرآن و حدیث کی روشنی میں قربانی کے چند اہم مسائل بالاختصار اور بحوالہ پیشِ خدمت ہیں۔ *پس قربانی* کا جانور خریدتے وقت اچھی طرح چیک کر لیں تا کہ بعد میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ *کیونکہ* مویشی منڈیوں اور بازاروں میں رطب و یابس دونوں طرح کے جانور پائے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ درج ذیل مسائل کو مدِ نظر رکھنا از حد ضروری ہے:

1-بکرا ہو یا مینڈھا، گائے ہو یا اونٹ سب کے لئے ضروری ہے کہ وہ مُسِنّة ہوں۔ ہاں اگر کسی مجبوری کے پیش نظر "مُسِنّة" نہ ملے تو پھر بھیڑ کا "جذعہ" ذبح کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ حدیث پاک میں ہے: ((لا تذبحوا إلا مسنة إلا أن یعسر علیکم فتذبحوا جذعة من الضأن)) (صحیح مسلم، کتاب الاضاحی). حدیثِ مذکور میں موجود لفظ "مُسِنّة" کے بارے میں اہل علم کے ہاں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے: بعض کے نزدیک اس سے مراد دو دانتوں والا یعنی دوندا جانور ہے اور بعض کے نزدیک ایک سال تک کی عمر کا جانور ہے۔ *جبکہ راجح قول* یہی ہے کہ ’’مُسِنّة‘‘ سے مراد دوندا جانور ہی ہے۔ جیسا کہ لمعات شرح مشکوٰۃ، مجمع البحار اور تاج العروس وغیرہ میں مذکور ہے۔ پھر ایک اور حدیث سے اس قول کی تائید بھی ملتی ہے جس کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں: ((ضحوا بالثنایا)) (نصب الرایۃ للزیلعی) یعنی تم دو دانتوں والے جانور کی قربانی کیا کرو۔ درج بالا احادیث و اقوال سے واضح ہوا کہ قربانی کے لئے جانور کا "مُسِنّة" ہونا ضروری ہے اور ’’مُسِنّة‘‘ سے مراد دوندا جانور ہی ہے۔ صحیح مسلم شریف کی مذکورہ حدیث میں یہ بھی وضاحت موجود ہے کہ اگر کسی مجبوری کی بِنا پر مُسِنّة میسر نہ ہوسکے تو پھر جنسِ بھیڑ کا جذعہ کرنا جائز ہے۔ اس مقام پر ہم چاہتے ہیں کہ *لفظِ ’’جذعة‘‘* کی بھی کچھ وضاحت ہو جائے؛ کیونکہ بعض دوست اس لفظ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بالکل چھوٹے چھوٹے جانور قربانی کےلیے ذبح کر لیتے ہیں اور تمام جانوروں کے بچوں کو بطورِ قربانی ذبح کرنا جائز بھی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ مسلم شریف کی اس حدیث سے بالکل واضح ہے کہ "جذعة" یعنی بھیڑ کا بچہ اس صورت میں قربانی کرنا جائز ہے جب دوندا ملنا محال ہو جائے بصورتِ دیگر نہیں۔ *رہی بات "جذعة"* کی تو یہ لفظ مضبوط اور قوی کے معنی میں آتا ہے۔نیز یہ مُسنہ کا نصف ہوتا ہے۔ اب جب نبی کریم ﷺ نے (جذعة من الضأن) کی قید لگا دی تو ظاہر یہ ہوا کہ دوندا نہ ملنے کی صورت میں جذعہ قربانی کیا جا سکتا ہے لیکن وہ بھی جنسِ بھیڑ سے ہو نہ کہ کسی اور جنس سے۔ جیسا کہ اس بات کو حافظ ابنِ حجر عسقلانی نے فتح الباری اور علامہ ابن عثیمین نے الشرح الممتع میں راجح قرار دیا ہے۔ بعض اہلِ علم نے اس بات کو بھی واضح کیا ہے کہ جذعہِ ضأن تقریباً گیارہ سے بارہ ماہ تک کے بھیڑ کے بچے کو کہتے ہیں۔

2-قربانی کا جانور موٹا تازہ اور صحت مند ہونا چاہیے۔ (صحیح البخاری، کتاب الاضاحی/ مستدرک الحاکم/ مسند احمد)۔

3-قربانی کے لئے بیمار، لاغر، لنگڑا، معذور، کانا، بھینگا، کان کٹا یا سینگ ٹوٹا یعنی ناقص اور عیب دار جانور نہیں ہونا چاہیے۔ (مسند احمد/ سنن ابی داود، کتاب الضحایا/ سنن الترمذی، ابواب الاضاحی)۔

4-خصی جانور کی قربانی بھی جائز ہے؛ کیونکہ خصی ہونا کوئی نقص یا عیب نہیں ہے۔ (سنن ابی داود، کتاب الضحایا/ مجمع الزوائد، کتاب الاضاحی)۔

5-آلاتِ ذبح مثلاً چھری ٹوکہ وغیرہ جانوروں سے چھپا کر تیز کریں۔ نیز ایک جانور دوسرے جانور کے سامنے ذبح کرنے سے گریز کریں؛ کیونکہ اس عمل سے جانور تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ اِلاّ کہ کوئی مجبوری آڑے آجاۓ۔

6-قربانی کا جانور خود ذبح کریں یا پھر کم از کم وقتِ ذبح قریب کھڑے رہیں؛ کیونکہ جانور کے خون کے قطرے زمین پر گرنے سے قبل ہی بندے کے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ (صحیح مسلم، کتاب الاضاحی/ مسند البزار)۔

7-نمازِ عید الأضحیٰ ادا کرنے کے بعد جانور ذبح کرنا مسنون ہے۔ کیونکہ جو قربانی نماز عید سے پہلے کی جائے وہ قربانی نہیں بلکہ عام صدقہ شمار ہوگا۔ (صحیح البخاری، کتاب الاضاحی/ صحیح مسلم کتاب الاضاحی)۔

8-کسی فوت شدہ مسلمان کی طرف سے قربانی کرنا بھی جائز ہے، مگر تب جب آدمی خود اپنی طرف سے بھی قربانی کرے اور میت کے لئے علیحدہ دے۔ (صحیح مسلم، کتاب الاضاحی/ مستدرک الحاکم/ مسند احمد/ فتاوی ابن باز)۔

9-ایک جانور (بکری، بکرا، دنبہ یا بھیڑ وغیرہ) تمام اہل خانہ (جن کا کھانا پینا مشترکہ ہو) کی طرف سے کفایت کرتا ہے۔ (صحیح مسلم کتاب الاضاحی/ مستدرک الحاکم/ سنن الترمذی، ابواب الاضاحی)۔

10-گائے اور اونٹ میں سات حصے دار شریک ہو سکتے ہیں۔ (صحیح مسلم، کتاب الحج/ سنن ابی داود، کتاب الضحایا)۔ ایک دوسری روایت کے مطابق اونٹ میں دس حصے دار بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ (سنن الترمذی، ابواب الاضاحی/ سنن ابن ماجہ، ابواب الاضاحی)-

11-قربانی دن کو بھی کی جا سکتی ہے اور رات کو بھی۔ (تفسیر سورۃ الحج الآیۃ: ۸۲)۔

12-قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کرنا جائز ہے، ایک اپنے لیے، دوسرا عزیز و اقارب، دوست احباب اور ہمسایوں کے لئے، جبکہ تیسرا غربا، فقرا اور مساکین کے لئے۔ (سورۃ الحج تفسیر ابن کثیر/ الشرح الممتع لابن عثیمین)۔

13-قربانی کی کھال اور گوشت قصاب کو ہر گز نہ دیں بلکہ ذبح کروانے کی اجرت دیں اور کھال صدقہ کریں۔ (صحیح البخاری، کتاب الحج/ صحیح مسلم، کتاب الحج)۔

14-قربانی کی کھالیں وہیں استعمال کریں، جہاں زکوٰۃ استعمال کی جاتی ہے یعنی غربا، فقرا، مساکین، قرضدار اور دینی مدارس وغیرہ۔ (سورۃ الحج تفسیر ابن کثیر)۔

15-قربانی کی رقم کسی دوسرے اچھے کام پہ خرچ کرنے سے نہ تو قربانی کا ثواب ملتا ہے اور نہ ہی یہ قربانی کا بدل (alternative) بن سکتا ہے۔ (سنن الدارقطنی)-

16-قربانی کرنے والے کے لیے مسنون ہے کہ وہ ذوالحجہ کا چاند طلوع ہونے کے بعد سے قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔(صحیح مسلم، کتاب الاضاحی/ سنن ابو داود، کتاب الضحایا)۔

17-قربانی کےلیے کُل چار دن ہیں، ایک دن عید کا اور متصل تین دن اس کے بعد بھی۔ *یعنی* قربانی کے اختتام کا وقت چوتھے دن (13 ذو الحجہ) کا غروب آفتاب ہے۔ *جیسا* کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ((وفی کل أیام التشریق ذبح))۔

ترجمه: أیام تشریق (11، 12، 13 ذو الحجہ) قربانی کرنے کے دن ہیں۔ (مسند احمد بتحقیق شعیب الأرناؤوط/ الاحسان فی تقریب صحیح ابن حبان، کتاب الحج/ سنن الدارقطنی موصولاً/ سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی/ الہدایۃ، کتاب الاضحیۃ/ زاد المعاد لابن القیم/ غنیۃ الطالبین)۔ *مزید تفصیل* کے لئے دیکھیں: فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء)۔

18-عید الأضحی کی نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا اور بعد میں قربانی کا گوشت کھانا سنت ہے۔ (مسند احمد)۔

*19- قربانی ذبح کرنے کا مسنون طریقہ:* قربانی کا جانور اس طرح زمین پر لٹائیں کہ اس کا پیٹ اور مُنہ قبلہ رخ ہو، پھر بائیں ہاتھ میں اُس کا مُنہ پکڑ لیں جب کہ دایاں پاؤں اس کی گردن پر رکھیں اور فوراً تکبیرے (بسم اللہ واللہ أکبر) پڑھ کر چُھری چلا دیں۔ (صحیح البخاری/ صحیح مسلم)۔ *جبکہ اونٹ کے لئے افضل اور آسان طریقہ* یہ ہے کہ اسے کھڑا کیا جائے پھر اس کا بایاں پاؤں فولڈ کر کے مضبوطی سے گُھٹنے کے ساتھ اچھی طرح باندھ دیں۔ بعد ازاں تیز نوکدار چھری اس کی شہ رگ میں تکبیر پڑھتے ہوئے پیوست کر دیں۔ خون بہتا رہنے دیں یہاں تک کہ وہ خود بخود نیچے گر جائے۔ (صحیح البخاری، کتاب الحج/ سنن ابو داود، کتاب المناسک)۔

*الله تعالى* تمام مسلمانوں کی قربانیاں اپنی بارگاہِ عالیہ میں قبول و مقبول فرماۓ۔ آمین!

0 comments

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page