top of page

قرار دادِ مقاصد اور اُن کی تکمیل ۔۔۔۔۔تحریر: امیر عبدالقدیر اعوان

قرار دادِ مقاصد اور اُن کی تکمیل

تحریر: امیر عبدالقدیر اعوان

مینارِ پاکستان لاہور، فنِ تعمیر کا ایک خوبصورت نمونہ ہی نہیں بلکہ ببانگِ دہل اس تاریخ سازدن کی یاد دلاتا ہے جب عین اسی جگہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس23 مارچ 1940 میں قراردادِ پاکستان پیش اور منظور کی گئی۔اگر قرار داد کے محرکات کا اجمالی جائز لیا جائے تو مندرجہ ذیل باتیں سامنے آتی ہیں۔

ہندوؤں کی مذہبی منافرت،تہذیب وتمدن کا ٹکراؤ،نظریاتی اختلاف او راسی دو قومی نظریہ کے تحت ایک ایسی الگ ریاست کا قیام جہاں کا نظم و نسق قرآن و سنت کے تحت ہو۔

آج ہمارانظام ِعدل،معیشت،تعلیم اورسیاست اس قابل نہیں کہ ہم قراردادِمقاصد کے مقاصد کی تکمیل کر سکیں۔یہی وجہ ہے کہ آزادی کے ستر(76) سال بعد بھی ہم قراردادِ مقاصد کے نتائج کے حصول سے کلُی طور پر قاصر ہیں۔ کیسی عجیب اور کیسی دکھ کی بات ہے کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ریاست میں ناموسِ رسالتﷺ تک پہ حرف آرہاہے۔

آج 23 مارچ کے موقع پریہ مینار،یہ یاد گارِ قراردادِ پاکستان ہم سے قرارداد کے مقاصد کے حصول کاسوال کرتی ہے اور یہ کہ وہ کون ہو گاجو قرارداد کے مقاصد کی تکمیل کرے گا؟ کیا کوئی مسیحا آئے گا؟

حیران کن بات تو یہ ہے کہ جتنا بڑا یا گھمبیر یہ سوال سمجھا جارہا ہے، اُتنا ہی آسان اس کا جواب ہے۔

اور جواب ہے " ہم خود"

آئیں! ملک و قوم کی ترقی میں ہم اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

0 comments

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page