top of page

🌾(فِطرانه)🌾 بقلم💫ڈاکٹر فیض احمد بھٹی💫

🌾(فِطرانه)🌾

بقلم

💫ڈاکٹر فیض احمد بھٹی💫

1-فطرانہ ایک ایسا صدقہ یا زکاۃ ہے، جو رمضان المبارک کے روزے ختم ہونے پر واجب ہوتا ہے۔

2-فرمانِ رسولﷺ کے مطابق فطرانہ اِس لیے فرض قرار دیا گیا ہے، تاکہ روزے داری میں اگر کوئی کمی بیشی واقع ہوگئی ہو تو فطرانہ ادا کرنے کی صورت میں اللہ کریم اُسے رفع کر دے۔ اِس صدقے میں دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ عید پر فقرا و مساکین کے ساتھ تعاون ہو جاۓ۔ تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں: کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا: روزے دار کے روزے کو لغویات اور بیہودگی سے پاک صاف کرنے، اور مساکین کی خوراک کا بندوبست کرنے کےلیے فطرانہ فرض کیا گیا ہے۔

3-فطرانہ ادا کرنے کا صحیح وقت چاند رات (عید کا چاند دیکھنے کے بعد) سے نمازِ عید ادا کرنے تک ہے۔ اور یہ وقت "وقتِ فضیلت" ہے۔ تاہم عيد سے پہلے بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ اور يہ وقت "وقتِ جواز" ہے۔ جیسا کہ حضرت ابنِ عمر رضي الله عنهما اور دیگر صحابہ سے ثابت ہے۔

4-فطرانہ (آٹا٬ گندم، چاول وغیرہ) کی صورت میں ڈھائی کلو فی کس کے حساب سے یا پھر ڈھائی کلو اناج کی قیمت کے برابر نقدی (روپیہ وغیرہ) کی صورت میں ادا کیا جا سکتا ہے۔

5-حسبِ ضرورت و تقاضا فطرانہ "جنس یا نقدی" دونوں میں سے کسی ایک صورت میں ادا کرنا جائز ہے۔ اول الذکر میں سنت رسولﷺ موجود ہے، جبکہ ثانی الذکر میں تعاملِ صحابہ رضي الله عنهم موجود ہے۔

6-فطرانے کے بھی وہی مصارف(حقدار) ہیں جنہیں عام طور پہ زکوٰة و صدقات دیے جاتے ہیں۔

7-یاد رہے! فطرانہ امیر غریب، مرد عورت، چھوٹے بڑے، مقیم مسافر اور بیمار وغیرہ سب مسلمانوں پر واجب ہے۔ بعض صحابہ تو حاملہ کے پیٹ میں موجود جنین(بچے) کی طرف سے بھی ادا کر دیا کرتے تھے۔

0 comments

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page