top of page

فکر من۔تحریر:حافظ محمد ندیم عنصر(دینہ)

فکر من

تحریر:حافظ محمد ندیم عنصر(دینہ)

بارش کے موسم میں ہلکی ہلکی بوندا باندی,

ذرا سی سرد ہوا کے جھونکے،

دن کے وقت بادلوں کے سبب چھایا ہوا اندھیرا،

جسم میں سردی کی لہر،

ادھورے کام جو شاید اس موسم میں تو قطعا پورے نہ ہوں۔ برآمدے میں بیٹھ کر،

باہر صحن میں فرش پر اور پودوں کے سبز پتوں پر،

گرتے قطرے،

صحن میں بسبب بارش مختلف جگہوں میں تھوڑا تھوڑا پانی کا جمع ہونا،

اور ان پر بارش کے قطروں سے بننے والے بلبلے،

جنہیں بعد میں آنے والے قطرے پھوڑ رہے تھے،

خاموشی سے کرسی پر بیٹھے اور برسات کے موسم اور قطروں کو گھورتی نظریں،

چہرے پر گہری سوچ کے اثرات: معاملات نے کیسے حل ہونا ہے؟ یہ فکر دامن گیر،

ایک خیال، اور اس خیال میں ہی یہ جواب:

جب بارش تھمے گی،

ہوا رکے گی،

بادل چھٹیں گے،

فضا نکھرے گی،

سورج چمکے گا،

چہرہ کھلے گا تو حل ہوں گے یہ معاملات

مگر کب؟

کیسے ہوگا یہ سب؟

ہوگا! اور ضرور ہوگا

ہر ظلم کے بعد آزادی،

ہر رات کے بعد صبح،

ہر تاریکی کے بعد سفیدی آنا قانون فطرت ہے۔

ایسے ہی

وہ پستی کے بعد بلندی لاتا ہے،

زوال کے بعد عروج لاتا ہے

جیسے

دکھ کے بعد سکون لاتا ہے

ایسے ہی

یہ جہالت،

یہ بدحالی،

یہ بد امنی،

یہ بے چینی،

یہ گمراہی کی سیاہ تاریک رات،

ختم ہونے والی ہے

شعور کی ہوا چلنے والی ہے

بہت جلد

شاید

بہت جلد۔۔۔

0 comments

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page