top of page

فطرانہ: فلسفہ و مسائل تحریر:ڈاکٹر فیض احمد بھٹی


*(فطرانہ: فلسفہ و مسائل)*

بقلم: *ڈاکٹر فیض احمد بھٹی*

1-فطرانہ ایک ایسا صدقہ یا زکاۃ ہے، جو رمضان المبارک کے روزے ختم ہونے پر واجب ہوتا ہے۔ 2-فرمانِ رسولﷺ کے مطابق فطرانہ اِس لیے فرض قرار دیا گیا ہے تاکہ روزے داری میں اگر کوئی کمی بیشی واقع ہوگئی ہو تو فطرانہ ادا کرنے کی صورت میں اللہ کریم اُسے دور فرما دے۔ اِس صدقے میں دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ عید پر فقرا و مساکین کے ساتھ تعاون ہو جاۓ۔ تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں برابر شریک ہوسکیں۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں: کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا: روزے دار کے روزے کو لغو اور بے ہودگی سے پاک صاف کرنے، اور مساکین کی خوراک کا بندوبست کرنے کےلیے فطرانہ فرض کیا گیا ہے۔ 3-فطرانہ ادا کرنے کا صحیح وقت چاند رات سے نمازِ عید ادا کرنے سے پہلے تک ہے۔ اور یہ وقتِ فضیلت ہے۔ تاہم یہ تین چار دن پہلے بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ اور يہ وقتِ جواز ہے۔ جیسا کہ حضرت ابنِ عمر رضي الله عنهما وغیرہ سے ثابت ہے۔ 4-امسال فطرانہ نقدی کی صورت میں (375 روپے) جبکہ جنس (آٹا٬ گندم، چاول) کی صورت میں ڈھائی کلو فی کس کے حساب سے ادا کیا جا سکتا ہے۔ 5-حسبِ ضرورت و تقاضا فطرانہ جنس یا نقدی دونوں میں سے کسی ایک صورت میں ادا کرنا جائز ہے۔ اول الذکر میں سنت رسولﷺ موجود ہے جبکہ ثانی الذکر میں تعاملِ صحابہ رضي الله عنهم موجود ہے۔

6-فطرانے کے بھی وہی مصارف ہیں جو عام طور پہ زکوٰة و صدقات کے ہیں۔ 7-یاد رہے فطرانہ امیر غریب، مرد عورت، چھوٹے بڑے، مقیم مسافر اور بیمار وغیرہ سب مسلمانوں پر واجب ہے۔ بعض صحابہ تو حاملہ کے پیٹ میں موجود جنین(بچے) کی طرف سے بھی ادا کر دیا کرتے تھے۔

0 comments

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page