top of page

سیلولر کمپنی ’جاز‘ نے تیزترین انٹرنیٹ سروس کا کامیاب تجربہ کر لیا


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سیلولر کمپنی ’جاز‘ نے تیزترین انٹرنیٹ سروس کا کامیاب تجربہ کر لیا۔ ڈیلی پاکستان گلوبل کے مطابق کمپنی کی طرف سے اپنے آپٹیکل فائبر نیٹ ورک کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے، جس میں انٹرنیٹ کی رفتار حیران کن طور 1.6ٹیرابائٹس فی سیکنڈ (ٹی بی پی ایس)حاصل ہوئی۔

یہ تجربہ 13دسمبر کے روز چینی کمپنی ہوائی کے جدید ترین کیپلر پلیٹ فارم کے ذریعے کیا گیا۔ اس تجربے کے بعد جاز یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کی پہلی کمپنی بن گئی ہے جس نے اس قدر تیزرفتار انٹرنیٹ کا تجربہ کیا ہے۔جاز کے سی ٹی او خالد شہزاد کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ”جاز اور پاکستان کے ٹیلی کمیونیکیشنز سیکٹر کے لیے یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ 

واضح رہے کہ 1.6ٹیرابائٹس فی سیکنڈ کی سپیڈ کے حامل اس انٹرنیٹ کے ذریعے صارفین ایک سیکنڈ میں 2لاکھ80ہزار گانے ڈاﺅن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اس سپیڈ پر 5لاکھ 32ہزار تصاویر ڈاﺅن لوڈ یا اپ لوڈ کی جا سکتی ہیں،16لاکھ ویب سائٹ ایک سیکنڈ میں وزٹ کی جا سکتی ہیں، 4کروڑ 56لاکھ ای میلز(ٹیکسٹ)بھیجی جا سکتی ہیں، 56لاکھ آڈیو گیت چلائے جا سکتے ہیں اور ایک سیکنڈ میں فور کے کوالٹی کی80ہزار ویڈیوسٹریمز کی جا سکتی ہیں۔1.6ٹی بی پی ایس سپیڈ پر یہ تمام کام محض ایک سیکنڈ میں کیے جا سکتے ہیں۔



0 comments

Recent Posts

See All

تحصیل پنڈدادنخان میں پرائیویٹ سکولوں کی لٹ مار کا بازار گرم،بھاری فیسیں وصول کرنے کے باوجود سہولیات ناپید بچے گھروں سے پینے کے صاف پانی کی بوتلیں لے کر جانے پر مجبور،محکمہ تعلیم جہلم میٹھی نیند سو گیا

تحصیل پنڈدادنخان میں پرائیویٹ سکولوں کی لٹ مار کا بازار گرم،بھاری فیسیں وصول کرنے کے باوجود سہولیات ناپید بچے گھروں سے پینے کے صاف پانی کی بوتلیں لے کر جاتے ہیں،گرم اور بند کمرے حبس کا مرکز بن گئے کھی

جہلم(ریاض گوندل)جہلم کے شہریوں پر چاروں طرف سے گردآلود دھول کی برسات، محکمہ ماحولیات خاموش تماشائی،چک دولت رانجھامیرا قلعہ روہتاس اور ملوٹ سے نکلنے والے کرش بجری ریت خاکے،شہری بیمار

جہلم(ریاض گوندل)جہلم کے شہریوں پر چاروں طرف سے گردآلود دھول کی برسات ہو رہی ہے محکمہ ماحولیات خاموش تماشائی بنا ہوا ہے چک دولت رانجھامیرا قلعہ روہتاس اور ملوٹ سے نکلنے والے کرش بجری ریت خاکے کے ڈمپرز

Commentaires

Noté 0 étoile sur 5.
Pas encore de note

Ajouter une note
bottom of page