top of page

زکوٰۃ کے تین اہم ترین پہلو بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی (جہلم)

زکوٰۃ کے تین اہم ترین پہلو

بقلم:

ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

قارئین! زکوٰة کے حوالے سے تین اہم ترین پہلو جاننا ہر مسلمان کےلیے ضروری ہے۔ آئیے، شرعی اور اخلاقی روشنی میں ان تین پہلوؤں کو سماعت فرمائیے!

اس کا پہلا پہلو یہ ہے کہ زکوٰة اسلام کا ایک اہم ترین رکن ہے۔ جس کا ادا کرنا نہایت ضروری ہے، اس کے بغیر مالی عبادت ہی ادھوری ہے۔ جس نے بر وقت ادا کر دی بروز قیامت یہ اس کےلیے راحتِ جان بن جائے گی۔ کیونکہ عام سے عام بھی صدقہ دیا جائے تو رسول پاکﷺ نے فرمایا اللہ کریم اس کو اس طرح بڑھاتے ہیں، اس طرح پالتے سنبھالتے ہیں، جیسے گھوڑی کے بچے کو اس کا مالک پالتا سنبھالتا ہے، اس کی پرورش کر کے اسے ببر شیر بنا دیتا ہے۔ اور اگر ادا نہیں کی تو یہ وبالِ جان بن جائے گی- اس حوالے سے ٹو دی پوائنٹ بتانا چاہتا ہوں: نمبر1 قرآن مجید میں مذکور ہے کہ واجب ہونے کے باوجود اگر کوئی زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا تو یہی سونا، یہی چاندی، اور یہی پیسے لوہے کی مانند سلاخیں اور پترے بنا دیے جائیں گے۔ اور پھر ان کو آگ کے اندر انتہائی درجہ حرات پر تپا کر زکوٰۃ نہ دینے والے کے پہلوؤں پر داغا جائے گا- ساتھ ساتھ یہ پترے بولتے جائیں گے کہ ہم تمہارا مال ہیں اب مزہ چکھو!۔ نمبر2 حدیث پاک میں تو اس سے بھی زیادہ خطرناک صورت حال بیان گئی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: یہ سونا، چاندی، مال وغیرہ زہریلا ترین سانپ بن کر مانع زکوٰۃ کے گلے میں چمٹ جائے گا۔ ڈنگ پہ ڈنگ مارے گا اور کہے گا:(میں تمہارا وہ مال و خزینہ ہوں جسکی تم زکوٰۃ نہیں دیتے تھے، اب مزہ چکھو!)۔ اس لیے زکوٰۃ کا ادا کرنا از حد واجب و ضروری ہے۔ اس میں کوتاہی بندے کو بروز قیامت ذلت و رسوائی کے ساتھ ساتھ درد ناک عذاب میں دھکیل دے گی۔ (نعوذ بالله من ذلك)۔

اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کئی احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ زکوٰة ادا کرنے سے نہ صرف دینے والے کے رزق میں بڑھوتری آتی ہے بلکہ اس کی وجہ سے پورا ماحول ہی خیر و برکت کا گہوارہ بن جاتا ہے، رزق حلال کی وسعت آ جاتی ہے، اور خدائی رحمتوں کا مختلف انداز میں نزول جاری رہتا ہے۔ اس کے بر عکس اگر ادا نہ کی جائے تو اس علاقے اور کمیونٹی سے خیر و برکت نفور ہونا شروع ہو جاتی ہے، امن و امان تباہ ہو جاتا ہے۔ بلکہ ایک حدیث پاک میں فرمایا: کہ اگر اللہ تعالی کے پیش نظر غریب و ضعفا لوگ اور جانور نہ ہوتے تو مانعین زکوٰۃ کی نحوست کی بنا پر لوگ پانی کے قطرے قطرے کو ترستے اور بلکتے مر جاتے۔ ایک دوسری حدیث کا مفہوم کچھ یوں ہے (کہ زکوٰة ادا کرو، اللہ کے راستے میں خرچ کرو، کیونکہ انہی غریبوں اور مسکینوں کی بدولت تمہیں رزق دیا جاتا ہے، تمہیں آفات و بلیات سے محفوظ رکھا جاتاہے) ۔ لہذا معلوم ہوا کہ زکوٰۃ و صدقات غریبوں کا حق ہے جس کا ادا کرنا لازمی اور ضروری ہے۔

زکوٰۃ کا تیسرا پہلو اس میں پنہاں ایک عظیم ترین فلسفے اور راز کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ زکوٰة صرف اور صرف ان لوگوں پر واجب ہوتی ہے جن کے پاس مال و دولت ہوتا ہے۔ جبکہ ان لوگو پر واجب نہیں ہوتی جو صاحبِ استطاعت نہیں ہوتے۔ اس کے مقابلے میں ٹیکسز کو دیکھ لیں وہ سرمایہ داروں پر تو لاگو ہونے ہی ہوتے ہیں، ساتھ میں ان پر بھی سیم ٹو سیم لگ جاتے ہیں جن کے پاس مال و زر نہیں ہوتا۔ مثلاً ماچس کی ڈبیا سے لے کر کریانہ کی ہر چیز میں ٹیکس، پانی کی ٹوٹی سے لیکر سینٹری کی ہر چیز میں ٹیکس، اینٹ سے لے کر بلڈنگ مٹیریل کی ہر چیز میں ٹکیس، ڈسپرین سے لے کر ہر میڈیسن میں ٹیکس، کپڑ جوتے، پھل سبزی، بجلی گیس الغرض روز مرہ کے استعمال کی ہر چیز میں امیر پر بھی اتنا ٹیکس فقیر پر بھی اتنا ٹیکس-

مگر زکوٰة میں یہ عظیم الشان فلسفہ ہے جو ہم نے اس تیسرے پہلو کی صورت میں آپ کے سامنے پیش کیا کہ زکوٰۃ صرف اور صرف ان لوگوں پر ہی لاگو ہوتی ہے جن کے پاس مال و دولت فروانی سے موجود ہوتا ہے۔ ہاں جن کے پاس نصابی حد تک مال و دولت نہیں ان پر قطعاً لاگو نہیں ہوتی۔ اس لحاظ سے اگر ٹیکس کو زکوٰة سے کمپیئر کیا جائے تو ان کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس لیے میں کہتا ہوں: کہ سیاستدان اور علما و مشائخ بالخصوص حکمران حضرات اس بات پر خصوصی توجہ فرمائیں، ایسا ماحول بنائیں کہ لوگ بر وقت اور پوری زکوٰة ادا کریں۔ تاکہ غریب لوگ جو پہلے ہی غربت کی چکی میں پس رہے ہیں ان کو ٹیکسز کی بھرمار سے نجات دلائی جا سکے۔ مطلب جب کسی کے پاس پراپرٹی اور مال و دولت ہوگی تو زکوٰة واجب ہوگی۔ اور جن کے پاس نہیں تو ان پر لاگو نہیں ہوگی۔ نتیجتاً غریب عوام کی ظالمانہ ٹیکس سے جان چھوٹ جائے گی۔ سچ پوچھو تو ٹیکسز ایک ایسا خنجر ہے جو امیروں کو نہیں صرف غریبوں اور فقیروں کو موت کے گھاٹ اتارتا ہے۔ یاد رہے! اس خونی خنجر سے غریبوں کو نجات صرف زکوٰۃ ہی دلا سکتی ہے بشرطیکہ یہ ایمانداری اور خلوص کے ساتھ پوری اور بر وقت ادا کی جائے۔

آخر میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ جن لوگوں کو اللہ تعالی نے مال و دولت سے نوازا ہے کہ بھئی قرآن کا تو فیصلہ اٹل ہے، نبی کریمﷺ کے فرمان میں بھی دو ٹوک موجود ہے کہ زکوٰۃ دینا ضروری اور واجب ہے) اگر پھر بھی کسی کے دل میں بطور انسان یہ قلق ہو کہ مجھے اپنے لاکھوں یا کروڑوں روپے میں سے اتنی۔۔۔۔۔ زکوٰۃ ہر سال دینا پڑتی ہے، تو پھر میں ان کو سمجھانے کےلیے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ یوں سوچیں کہ اگر ہم ایک تربوز لے کر آئیں جو پانچ کلو وزن کا ہو، اب ہم پیسے پورے 5 کلو کے دے کر آئے ہیں جبکہ تربوز میں 2 کلو چھلکا بھی اتر جاتا ہے جو ہم بخوشی برداشت کر لیتے ہیں۔ علی ھذا القیاس یارانِ من اپنے دل کو سمجھا لیں کہ زکوٰۃ مال کا چھلکا ہے، جسے بر وقت ادا کر دیا کریں۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ اس وجہ سے خیر و برکات کس طرح نازل ہوتی ہیں، کس طرح جگہ بہ جگہ امن و امان قائم ہوتا ہے اور کیسے غُربت رفو چکر ہوتی ہے!!!

0 comments

Comentarios

Obtuvo 0 de 5 estrellas.
Aún no hay calificaciones

Agrega una calificación
bottom of page