top of page

زندگی کے معاملات میں دین اسلام کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کے لیے ایک ایسی قوت درکار ہے جس سے بندہ دین اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل کر سکے۔امیر عبدالقدیر اعوان

دینہ ( ادریس چودھری)موجودہ معاشرے میں جتنی بھی تلخیاں ہیں وہ اولاد کی طرف سے ہوں یا میاں بیوی کے درمیان،اگر ہم ان معاشرتی مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ ہم نماز قائم کریں۔اگر ہم نماز قائم کر لیں تو یہ معاشرتی مسائل ازخود سدھرتے چلے جائیں گے۔زندگی کے معاملات میں دین اسلام کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کے لیے ایک ایسی قوت درکار ہے جس سے بندہ دین اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل کر سکے۔فرائض میں سب سے بڑا فرض نماز ہے۔نماز ایسی قوت عطا کرتی ہے جس سے اللہ کریم اور بندے کے درمیان رشتہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جاتا ہے۔برائی اور بے حیائی کا علاج بھی نماز بتایا جاتا ہے۔اسی طرح معاشرتی زندگی کے تمام معاملات کے لیے بھی نماز کی تائید فرمائی گئی ہے۔دکھ کی بات یہ ہے کہ نہ ہم خود نماز پڑھتے ہیں اورنہ اپنے بچوں کو نماز کی ترغیب دیتے ہیں۔ہماری معاشرتی زندگیوں میں جو تلخیاں ہیں ان کی بڑی وجہ بے نمازی ہونا ہے۔نماز سے اللہ کریم کے ساتھ شرف ہمکلامی نصیب ہوتی ہے نمازوں کی حفاظت کا حکم ہے نماز تقوی تک لے جاتی ہے۔بندے کو خالص کر دیتی ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب انہوں نے کہا کہ کیفیات قلبی کے لیے جو محنت کرائی جاتی ہے اس لیے کہ بندہ خود سے سچ پولے،اپنی فکر کرے،اپنا محاسبہ کرے۔اللہ کریم کا احسان کہ ہمیں ایمان عطا فرمایا۔ہماری حالت ایسی ہو چکی ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان اکھٹے نہیں بیٹھ سکتے۔ کیفیات قلبی نصیب ہوتو دین اسلام کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق ہوتی ہے اور اپنی ذات کی نفی ہوجاتی ہے۔جہاں اللہ کریم کا ماننا نصیب ہوتا ہے وہاں باقی ہر ایک شئے کی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔ہر شئے کا ہونا اسی کی عطا سے ہے۔کسی کا اپنا ذاتی وجود نہیں ہے سب اس کے قائم رکھنے سے قائم ہے۔آپ ? کی ذات قرآن کریم کا عملی نمونہ ہے۔اور ہمارے لیے راہنمائی عطا فرماتی ہے۔یہ ہماری ضرورت ہے کہ ہم ان احکامات پر عمل پیرا ہوں تا کہ دنیا و آخرت کی کامیابی نصیب ہو۔اتنا تعلق مع اللہ نصیب ہو کہ خود کو اس کے سپردکر دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ نیکی اور بھلائی کرنی چاہیے۔ہم گھر اجاڑ دیتے ہیں لڑائی جھگڑے تک نوبت چلی جاتی ہے۔ہر حال میں ہر معاملے میں اللہ کی طرف دیکھنا چاہیے کہ اس بارے کیا حکم ہے۔در گزر کا حکم ہے معاف کرنے کا حکم ہے بھلائی میں جلدی کا حکم ہے۔معاف کر دینا پرہیز گاری کے زیادہ قریب ہے۔نکاح و طلاق کو اگر اللہ کریم کے حکم کے مطابق نہیں دیکھیں گے تو تلخیاں بڑھیں گی گھر وں میں فساد ہوں گے۔اتنے خوبصورت رشتے ہیں اور ہم نے انہیں اپنی خواہشات کے بھینٹ چڑھا دیا ہے۔اللہ کے نام پر بننے والے رشتے میں اگر علیحدگی بھی کرنی ہے تو وہ بھی اللہ کے حکم کے مطابق ہونا چاہیے حق مہر کے متعلق احکامات موجود ہیں اس میں بھی اپنی پسند کو نہیں لانا چاہیے۔ہر ایک کو اپنی حیثیت کے مطابق حق مہر رکھنا چاہیے۔حق مہر کو اہمیت دی جائے یہ عورتوں کا حق ہے بعد میں لوگ قبروں پر جا کر حق مہر معاف کرا رہے ہوتے ہیں۔صحیح اور غلط کی نشاندہی لازمی ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی

0 comments

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page