top of page

روس سے آنے والا تیل کا جہاز کہاں گیا؟ حکومت نے  جاتے جاتے عوام کو زندہ درگور کر دیا

جہلم (ڈسٹرکٹ رپورٹر) روس سے آنے والا تیل کا جہاز کہاں گیا پیٹرول کی کمی کے جھوٹے نعرے لگانے والی حکومت نے  جاتے جاتے عوام کو مزید مشکلات میں ڈال دیا  پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 19 روپے لیٹر تک اضافہ جس کے بعد مہنگائی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان حکومت نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا روس سے آنے  والا پیٹرول کہاں گیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے جھوٹے وعدے کر کے حکومت خود چلتی بنی شہریوں کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پر شدید ردعمل کا اظہار تفصیلات کے مطابق حکومت جاتے جاتے عوام کو مہنگائی میں مزید دھکیل گئی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 19 روپے لیٹر اضافہ کر کے عوام کو مزید مہنگائی کے بوجھ تلے دبا گئی روس سے تیل آنے کے باوجود حکومت نے عوام سے کیے گئے جھوٹے وعدوں کی روایت قائم رکھی روس سے پیٹرول لے کر آنے والے جہاز میں پیٹرول تھا یا کچھ اور شہریوں نے حکومت کو جھوٹا ترین قرار دے دیا  شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے اور وفاقی وزیر پیٹرولیم نے کس ڈھٹائی سے جھوٹ بولا کہ روس سے پیٹرولیم مصنوعات کا معاہدہ ہوچکا ہے پیٹرول میں کافی حد تک کمی واقع ہوگی لیکن روس سے پیٹرول کا جہاز آنے کے باوجود وہ پیٹرول کہاں گیا کیا اس جہاز میں پیٹرول تھا یا کچھ اور حکومتی وزیر نے ہمارے ساتھ جھوٹ بولنے کی روایت کو قائم رکھا پہلے ہی بجلی اور گیس کے بلوں نے ہمارے ہوش اڑا دئیے ہیں اب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی 19 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا حکومت ہمارے ساتھ مسلسل یہ وعدے کرتی رہی کہ روس سے پیٹرول خریدنے کے بعد ہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کافی حد تک کمی کریں گے لیکن روس سے تیل کا جہاز آنے کے باوجود بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی واقع نہ ہوسکی اب تو اس ملک میں مہنگائی اتنی ہوچکی کہ اب ایک وقت کا کھانا بھی بمشکل پورا ہورہا ہے شہریوں نے کہا کہ آئیندہ ہونے والے الیکشن  میں ہم ان کو آئینہ بھی دکھا دیں گے کیونکہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہی ہوتے ہیں 

0 comments

ความคิดเห็น

ได้รับ 0 เต็ม 5 ดาว
ยังไม่มีการให้คะแนน

ให้คะแนน
bottom of page