top of page

راجہ یاور کمال اور چودھری زاہد اخترکادینہ میں مشاورتی میٹنگ سے خطاب ،ڈٹ جانے کا اعلان



دینہ ( رضوان سیٹھی Jhelumnews.uk) میرے ساتھ زیادتی ہوئی میں اپنا مقدمہ عوام کی عدالت میں لے کر آیا ہوں ہم نے کسی کی غلامی نہیں کی آج دینہ کی عوام نے فیصلہ کر دیا ہے کہ صرف سچ کے ساتھ ہیں میرا قصور یہی تھا کہ میں نے پی ٹی آئی لدھڑ گروپ کو فروغ نہیں دیا پی ٹی آئی کے ورکر کو عزت دی یہ میرا قصور تھا تو یہ میں جرم بار بار کروں گا ، 2018میں آیا تو مجھے کہا جاتا تھا کہ یہ ڈومیلی کا ہے یہ سوہاوہ میں سیاست کرے ہمیں کوئی اعتراض نہیں جب میں ترقیاتی فنڈز لے کر آیا تو مجھے کہا گیا کہ آپ نے ہم سے پوچھے بغریر فنڈز نہیں دینے تو میں نے کھڑے ہو کر ان کو کہا کہ میں سیاست میں رہوں یا نہ رہوں اس حلقے کا ہر غریب بھائی اتنا ہی عزیز ہے جتنا عمران خان عزیز ہے وقت آنے پر حلقہ پی پی 25کی عوام ان کو بتا دے گی کہ عزت کس کی ہوتی ہے ان خیالات کا اظہار حلقہ پی پی 25کے سابق ایم پی اے راجہ یاور کمال نے دینہ میں مشاورتی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی ووٹوں کے ساتھ تحریک انصاف میں شامل ہو ئے تھے تحریک انصاف پارٹی کے 3بڑے اصول تھے اسلامی فلاحی ریاست ، کرپش کے خلاف جہاد اور تیسرا موروسی سیاست کا خاتمہ تھا مگر افسوس یہ سب کچھ ڈرامہ تھا میرا قصور یہ تھا کہ میں غریب آدمی کے ساتھ کھڑا ہوں پنجاب کی سیاست کی جب بولی لگی ضمیروں کے سودے ہو رہے تھے تو نظر میرے حلقے پر تھی مگر میری طرف کسی کو جرأت نہ ہوئی میں نہ خود بکا نہ اپنے حلقہ پی پی 25کی عوام کو بکنے دیا میں نے ان کو بتا دیا تھا کہ حلقہ پی پی 25کے لوگ برائے فروخت نہیں ہیں جبکہ پارٹی کا ٹکٹ چینج ہوا تو مجھے اس بات کا دکھ نہیں کیونکہ میں نے چیئر مین عمران خان کے پاس اکیلا بیٹھا تھا وہ چیئر مین جو مدینہ کی ریاست کی بات کرتا ہے کرپشن کی نفی کرتا ہے موروسی سیاست کی نفی کرتا ہے اس نے مجھے کہا کہ عوام تم سے خوش ہے کمیٹی کے تمام لوگ بھی تم سے خوش ہیں تم جا کر اپنے حلقے میں الیکشن کی تیاری کرو مگر جس نے پارٹی ٹکٹ کے لیے انٹرویو بھی نہیں دیا فرق اتنا تھا کہ وہ فواد چوہدری کا کزن ہے میں نے 4سال سے ایسا کوئی کام نہیں کیا جو حکومتی جبر میں شامل ہو ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سابق ضلعی صدر چوہدری زاہد اختر نے کہا کہ جو شخص انٹرویو دینے نہیں آیا وہ اس چیز کے لیے کیسے اہل ہو گیا اس کو ٹکٹ دے کر میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی گئیں صرف اور صرف فواد کے کزن ہونے کی خاطر اس کو ٹکٹ دیا گیا پاکستان تحریک انصاف کا یہ نظریہ اور سوچ تھی جو شخص 24گھنٹے عوام کے لیے دروازے کھلے رکھے 4سال تک عوام کی خدمت کرتا رہا حلقہ پی پی 25کی تقدیر بدلی اس کو ٹکٹ نہیں دیا گیا کیا میرے عمران خان کا یہ نظریہ تھا پارٹی ورکروں کی تذلیل کی گئی ہم صرف نظریے کے پیچھے کھڑے ہیں مجھے پارٹی ٹکٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہم عوام میں موجود ہیں ہم عمران خان کے ساتھ اس لیے کھڑے تھے کہ ہم یہاں پر باتیں کرنے نہیں آئے کام کرنے آئے ہیں جس جگہ پر سمجھ آ جائے یہ سارے کا سارا رونگ نمبر ہے یہ ساری دو نمبری ہے ہم اگر عوام کے صحیح نمائندے نہ بن سکے تو ایسی سیاست کا کیا فائدہ ، تقریب سے میاں ہارون اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔


0 comments

Comentários

Avaliado com 0 de 5 estrelas.
Ainda sem avaliações

Adicione uma avaliação
bottom of page