top of page

ذِکر اللہ کی فضیلت و اہمیت، اِفادیت و ضرورت ۔بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی(فاضل مدینہ یونیورسٹی - مدینہ منورہ)

ذِکر اللہ کی فضیلت و اہمیت، اِفادیت و ضرورت

بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

(فاضل مدینہ یونیورسٹی - مدینہ منورہ)

توفیق باری تعالیٰ سے گزشتہ خطباتِ جمعہ میں ایک خطبے کا موضوع (ذِکر اللہ کی فضیلت) تھا۔ سوچا اسے تحریری صورت میں بھی پیش کر دیا جائے تاکہ اِفادہ عام ہو سکے۔

قارئین! لفظِ ذِکر عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا لغوی معنی کسی کو یاد کرنا، یاد تازہ کرنا ،کسی شے کو بار بار ذہن میں لانا، دل و زبان سے دہرانا یا یاد کرنا ہے۔ جبکہ ذِکر الہٰی یادِ الہٰی سے عبارت ہے۔ ذکر الہٰی کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ ہر وقت اور ہر حالت میں اپنے معبودِ حقیقی رب العالمین کو یاد رکھے اور اس کی یاد سے کبھی غافل نہ ہو۔ کیونکہ ذکر الہٰی ہر عبادت کی اصل ہے۔ تمام جنوں انسانوں کی تخلیق کا مقصد بھی عبادتِ الہٰی ہے۔ بلکہ کوئی عبادت اور کوئی نیکی بھی اللہ کے ذکر سے خالی نہیں۔ مردِ مومن کی یہ شان و پہچان ہے کہ وہ جب بھی کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اس کا مطمعِ نظر اور نصب العین فقط رضائے الہٰی کا حصول ہوتا ہے۔ اسی لیے ذکرِ الہٰی رضائے الہٰی کا زینہ قرار پایا ہے۔

اس اہمیت کے پیش نظر قرآن و سنت میں جا بجا ذکر الہٰی کی تاکید و تلقین کی گئی ہے۔ قرآن کریم نے کئی مقامات پہ ہمیں بتایا کہ انسانی قلب کا سکون و چین اللہ کی یاد میں ہے۔ ذکرِ الہی سے مضطرب کو قرار مل جاتا ہے، بے سکونی کا احساس ختم ہو جاتا ہے، ظلمتوں کا بادل چھٹ جاتا ہے۔ پر المیہ یہ ہے کہ ہم بیماریوں کا شور تو مچاتے ہیں مگر اس کے روحانی علاج کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ ہم زبانی کلامی ٹوٹکوں پر تو یقین و عمل کر لیتے ہیں مگر قرآن و حدیث کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے کتراتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کریم بڑے واضح الفاظ میں ارشاد فرماتے ہیں: "بھلا وہ کون ہے کہ جب کوئی بے قرار اُسے پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے اور تکلیف دور کردیتا ہے اور تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ ہر گز نہیں! بلکہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو" (سورۃالنمل)۔

دوسرے مقام پہ فرمایا: "پس تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کرو" (سورۃالبقرۃ)۔

تیسرے مقام پہ فرمایا: "جو لوگ ایمان لائے، ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، جان لو کہ اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے" (سورۃالرعد)۔

چوتھے مقام پہ فرمایا: "اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد (کہیں) تمہیں اللہ کی یاد سے ہی غافل نہ کر دیں، اور جو ایسا کرے گا تو وہی نقصان اٹھانے والوں سے ہے" (سورۃالمنفقون)۔

جبکہ دوسری طرف حدیث قدسی میں آیا ہے: "کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرا بندہ میرے متعلق جیسا گمان رکھتا ہے میں اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں۔ جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ اپنے دل میں میرا ذکر (ذکرِ خفی) کرے تو میں بھی (اپنے شایان شان) خفیہ اس کا تذکرہ کرتا ہوں، اور اگر وہ مجمعے میں میرا ذکر (ذکرِ جلی) کرے تو میں اس کے مجمعے سے بہتر جماعت میں اس کا تذکرہ کرتا ہوں۔ اگر وہ ایک بالشت میرے نزدیک آئے تو میں ایک بازو کے برابر اس کے نزدیک ہو جاتا ہوں۔ اگر وہ ایک بازو کے برابر میرے نزدیک آئے تو میں دو بازؤوں کے برابر اس کے نزدیک ہو جاتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آئے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں" (بخاری شریف)۔

دوسری حدیث میں فرمایا: جب بھی لوگ اللہ تعالیٰ کے ذکر کےلئے بیٹھتے ہیں تو انہیں فرشتے ڈھانپ لیتے ہیں۔ رحمت الہی انہیں اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ اور ان پر سکینت (سکون و طمانیت) کا نزول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کا تذکرہ اپنی بارگاہ میں حاضرین کے سامنے کرتا ہے" (مسلم شریف)-

قارئین! ﷲ کا ذکر زنگ آلود دلوں کے لیے آبِ حیات ہے، بے چین دلوں کےلیے باعث راحت ہے۔ موجودہ دور میں بے شمار سائنسی آلات و ایجادات نے اگرچہ انسانی زندگی کو کافی سہل بنا دیا ہے۔ تاہم ان تمام سہولتوں کے باوجود انسان بے سکون کے عالم میں مستغرق ہے۔ اور سکونِ قلب حاصل کرنے کے لیے نہ جانے کیا کچھ کر گزرتا ہے۔ لہذا ایسے لوگ جو حقیقی سکون و راحت کے متلاشی و طبگار ہیں اُنہیں قرآن مجید میں غوطہ زن ہونا ہوگا۔ جیسا کہ ایک آیت کا ترجمہ گزر چکا ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "جو لوگ ایمان لائے، ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، جان لو کہ اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے" اس آیت مبارکہ میں ذکر ﷲ کا سب سے بڑا فائدہ بیان کیا گیا ہے کہ جو بھی اپنے رب کو یاد کرتا ہے، اسے سکونِ قلب ضرور حاصل ہو جاتا ہے۔

چنانچہ رسول کریمﷺ نے مختلف مقامات پر ذکر اللہ کے فضائل کچھ یوں بیان فرمائے ہیں: 1-"بہترین عمل یہ ہے کہ انسان کی زبان ذکر ﷲ سے تر رہے، حتیٰ کہ اس حال میں اس کو موت آجائے" (ترمذی شریف)۔ 2-"شیطان انسان کے دل پر چمٹا رہتا ہے اور ﷲ کے ذکر سے بھاگ جاتا ہے" (بخاری شریف)۔ 3-"غافلوں میں ذکر ﷲ کرنے والا ایسا ہے جیسے بھاگے ہوئے لشکر میں جہاد کرنے والا، جیسے خشک درخت میں ہری شاخ اور جیسے اندھیرے گھر میں چراغ" (مسلم شریف)۔ 4-"جو ﷲ کو اپنے دل میں یاد کرتا ہے ﷲ بھی اسے اسی طرح یاد کرتا ہے اور جو جماعت میں ﷲ کو یاد کرتا ہے ﷲ اسے ملائکہ کی جماعت میں یاد کرتا ہے۔" (بخاری شریف)۔ 5-"قیامت کے دن کچھ لوگ نورانیت سے معمور ہوں گے۔ نور کے منبروں پر جلوہ افروز ہوں گے، اور لوگ ان پر رشک کرتے ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کا ذکر کرتے ہوں گے" (طبرانی شریف)۔ 6-ایک طویل حدیث مبارکہ میں فرمایا: "فرشتے محافلِ ذکر کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں جہاں کہیں ذاکرین کو پا لیتے ہیں تو پوری محفل کو رحمت کے پروں سے گھیر لیتے ہیں۔ جب محفل ختم ہو جاتی ہے تو رب عزوجل کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں کہ ہم تیرے ایسے بندوں کے پاس سے آ رہے ہیں جو تیرا ذکر کر رہے تھے۔ رب عزوجل فرماتا ہے: اے فرشتوں تم گواہ ہو جاؤ میں نے سب ذکر کرنے والوں کو بخش دیا ہے۔ پھر ایک فرشتہ عرض کرتا ہے، باری تعالیٰ اس کے بارے کیا حکم ہے جو محفل میں کسی کام سے آیا تھا۔ اللہ فرماتا ہے میں نے ذکر کرنے والوں کی برکت سے اس کی بھی مغفرت کر دی ہے" (مسند احمد)۔

یاد رہے! ذکرِ باری تعالی مصائب و آلام کو ٹال دیتا ہے مشکلات و آفات سے نکال دیتا ہے۔ اسی لیے مصائب میں رب العالمین کو یاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ جب کوئی مشکل ہو یا حاجت پوری نہ ہو رہی ہو تو نماز حاجت پڑھیں۔ بارش نہ ہو رہی ہو تو نماز استسقاء پڑھیں۔ کوئی کام کرنے جا رہے ہو اور اچھے برے کا پتا نہ چل رہا ہو تو نماز استخارہ پڑھیں۔ سورج یا چاند کو گرہن لگ جائے تو نماز کسوف و خسوف پڑھیں کیونکہ نماز (ولذکر اللہ اکبر) بہت بڑا ذکرِ ربی ہے۔

قارئین! جو انسان دل سے ذاکر و شاکر ہو تو اُسے ان شاء اللہ ذکر اللہ پر ہی موت آئے گی۔ ذکر الہی کرنے والی بعض ایسی بھی ہستیاں ہوتی ہیں کہ جو جس محفل سے گزر جاتی ہیں ساری محفل کے دلوں کو ذکر اللہ پر لگا دیتی ہیں، جس جگہ بیٹھ جائیں وہاں در و دیوار بھی ذکر اللہ کرنے لگتے ہیں۔

رہی بات یہ کہ کونسا ذکر افضل ہے؟ بعض کے نزدیک افضل الذکر کلمہ طیبہ خاص کر (لا الٰہ الا ﷲ محمد رسول اللہ) ہے کیونکہ یہ توحید و رسالت کی گواہی پر مبنی ایسا عمل جس سے دل کی شرک و بدعت سے صفائی ہو جاتی ہے۔ بعض کے نزدیک تلاوتِ قرآن افضل الذکر ہے کیونکہ اس میں ہر حرف پڑھنے پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔ بعض کے نزدیک افضل الذکر توبہ ہے کیونکہ اس سے گناہوں اور بلاؤں سے نجات ملتی ہے۔ بعض کے نزدیک افضل الذکر درود شریف ہے کیونکہ یہ رب عزوجل اور ملائکہ کا وظیفہ ہے۔ بعض کے نزدیک افضل الذکر سبحان ﷲ وبحمدہ سبحان ﷲ العظیم ہے کیونکہ اس سے بروز قیامت میزان کا پلڑہ بھر جائے گا۔ بعض روایتوں کے مطابق افضل الذکر تسبیحِ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہے یعنی سبحان ﷲ، الحمدﷲ اور ﷲ اکبر۔ الغرض! یہ سب روایتیں مختلف اذکار کی ترغیب کےلیے وارد ہوئی ہیں۔ بندے کو چاہیے کہ زمان و مکان، ضروریات و حالات اور شرعی تقاضہ جات کے پیش نظر اللہ تعالی کے ذکر میں مشغول رہے۔ یہی اس کےلیے افضل الذکر بلکہ اسم اعظم بن جائے گا۔

قارئین! قرآن و حدیث سے اخذ کردہ ذکر ﷲ کے فضائل و خصائل پڑھ کر ہر شخص کو چاہیے کہ وہ کثرت سے ذکر ﷲ کرتا رہے تاکہ دونوں جہاں میں اس کی زندگی امن و سکون کا گہوارہ بن جائے۔ یہ حقیقت ہے کہ سکونِ قلب وہ چیز ہے جو کسی بازار میں نہیں ملتا، جو پیسے سے نہیں خریدا جاسکتا۔ دنیا کی کسی چیز میں اگر تھوڑا بہت سکون ہے بھی تو وہ عارضی ہے۔ حقیقی اور دائمی سکون صرف اور صرف ذکر ﷲ میں ہے۔

یاد رکھیے! اگر کسی کی زندگی میں حقیقی سکون ہے تو اس کی زندگی جیتے جی جنت کا نمونہ بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس تمام تر نعمتوں کے باوجود اگر کسی کی زندگی میں حقیقی سکون نہیں ہے تو اس کی زندگی جیتے جی جہنم کا نمونہ بن جاتی ہے؛ کیوں کہ جنت میں سکون ہی سکون ہوگا اور جہنم میں بے چینی ہی بے چینی ہوگی۔

0 comments

Comentarios

Obtuvo 0 de 5 estrellas.
Aún no hay calificaciones

Agrega una calificación
bottom of page