top of page

ذوالفقار علی بھٹو ۔۔۔۔۔۔4 اپریل کا سانحہ! انتخاب مشتاق رضا کھیوڑہ

4 اپریل کا سانحہ! انتخاب مشتاق رضا کھیوڑہ

اج سے 45 سال پہلے پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979 کی صبح راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں پھانسی دی گئی اور اسی دن سخت پہرے میں گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں دفنادیئے گئے، جنازے میں مشکل سے بارہ پندرہ لوگ تھے۔

ان کے عدالتی قتل کے حوالے سے ایک صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک تاریخ ساز فیصلہ سناتے ہوئے یہ قرار دیا ہے کہ شہید بھٹو کے مقدمے کا ٹرائل شفاف نہیں تھا۔ اس فیصلے سے بھٹو تاریخ میں امر ہو گئے ہیں۔

اپ پاکستان کے پہلے منتخب جمہوری اور مجموعی طور پر پاکستان کے نویں وزیراعظم اور چو تھے صدر مملکت تھے۔ان کا عہدِ سیاست صرف 12سال پر محیط تھا، جس میں 6 سال ان کے عہد ِحکومت کے بھی شامل ہیں۔ ان 12 برسوں میں ذوالفقار علی بھٹو کو غیر معمولی عزت اور شہرت نصیب ہوئی۔

بھٹو کو ملک کے اندر ہی نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا میں بے حد پذیرائی ملی۔ مسلم بلاک بنانے والے ان کے ہم خیال لوگوں میں سعودی عرب کا بادشاہ شاہ فیصل، مصر کا انورسادات اور لیبیا کا کرنل قذافی شامل تھا، لیکن بدقسمتی سے ان سب کو بے وقت موت کا سامنا کرنا پڑا۔

بھٹو نے سیاست میں عوامی طرز اپنایا۔ روایتی شلوار قمیص اور سر پر ٹوپی پہنتے تھے اور جب عوام سے خطاب کرتے تو سب پر سحر طاری ہو جاتا۔ وہ ان لوگوں میں شامل تھے جو سیاست کوبی ڈی ممبروں کے گھروں سے نکال کر گلی کوچے میں لائے۔ انہوں نے بی ڈی ممبروں کی غلامی کا طوق پہنے پھرتی عوام کو ووٹ کا حق دلوایا۔

بھٹو نے اردن کے شاہ حسین کی سفارش پر جنرل ضیاء الحق کو آٹھویں درجہ سے اٹھاکر آرمی چیف بنایا پھانسی کے لئے یہی جرم کافی و شافی تھا۔ بھٹو نے نہ تو معافی مانگی اور نہیں جلاوطنی کا معاہدہ کیا۔ وہ تاریخ کے کوڑے دان کا رزق بننے کی بجائے تاریخ میں زندہ جاوید رہے۔

بھٹو نے اپنی کتاب’’ اگر مجھے قتل کیا گیا ‘‘میں لکھا ہے کہ:

’’ اگر مجھے قتل کیا گیا تو ہمالیہ خون کے آنسو روئے گا ۔‘‘

اس وقت بھٹو کے مخالفین نے یہ بیانات دیئے تھے کہ:

’’ پہاڑ کبھی نہیں روتے ۔‘‘

یہ بیانات اخبارات میں شائع ہوئے تھے۔ مگر تاریخ نے دیکھا کہ صرف ہمالیہ ہی نہیں، قراقرم، ہندو کش اور سلیمان کے پہاڑی سلسلوں کے دامن میں واقع پوری وادی سندھ یعنی پورا پاکستان دہشت گردی، خونریزی اور بدامنی کا شکار ہے اور ہر طرف سے ماتمی صدائیں گونج رہی ہیں، وادی سندھ کے سارے پہاڑی سلسلے رو رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق وہ پاکستان کو ایک خود مختار اور جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے۔ ان کی سیاست کا محور یہ تھا کہ پاکستان عالمی طاقتوں کے مفادات کا آلہ کار نہ بنے کیونکہ یہ تباہی کا راستہ ہے۔ پاکستان غیر جانبدارانہ پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے کسی عالمی دباؤ میں آئے بغیر اپنے قومی مفادات کے مطابق اپنے فیصلے خود کرے اور یہ تب ہی ممکن ہے، جب پاکستان میں حکومتوں کی تشکیل جمہور کے فیصلوں سے ہو اور جمہوریت کی اصل روح مساوات ہے۔

بھٹو کا یہ فلسفہ تھا کہ پسے ہوئے اور مظلوم طبقات کو حقوق دلائے بغیر ایک حقیقی جمہوری معاشرہ قائم نہیں ہو سکتا۔

موت کی کال کوٹھڑی سے اپنی پیاری بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کو لکھے گئے خط میں انہوں نے کہا کہ :

’’ زندگی محبت کاملہ ہے۔ فطرت کی ہر خوبصورتی کے ساتھ عشق کیا جاتا ہے ۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی پس و پیش نہیں ہے کہ میرا سب سے زیادہ جذباتی عشق اور جذبات خیز یا جسم میں جھرجھری پیدا کردینے والا رومانس عوام کے ساتھ رہا ہے ۔‘‘

بھٹو نے یہ موت اس لیے قبول کی تھی کہ’’ وہ تاریخ کے ہاتھوں مرنے کی بجائے آمر کے ہاتھوں مرنا پسند کریں گے۔ ‘‘

تاریخ کا ایک سچ یہ بھی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کو 45 سال گزر جانے کے بعد بھی ان کی مقبولیت میں کمی نہیں، دوسری جانب ضیاالحق کا نام کوئی نہیں لیتا۔ پاکستان میں جمہوریت بھٹو شہید کے لہو سے سینچی گئی ہے، بھٹو آج بھی پاکستانیوں کے دلوں کا حکمران ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے ہارورڈ یونیورسٹی برکلے کیلی فورنیا اور آکسفورڈ یونیورسٹی انگلینڈ سے قانون کی تعلیم حاصل کی، 1963 میں وہ جنرل ایوب خان کی کابینہ میں وزیر خارجہ بنے اور بعد میں سیاسی اختلافات پر حکومت سے الگ ہوگئے۔ انہوں نے 30 نومبر 1967 کو پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی جو اپنے نظریات کی بدولت ملک کی مقبول ترین جماعت بنی۔ 1970 کے الیکشن میں ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا تاہم انتخابات میں کامیاب ہو کر جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو ملک دولخت ہو چکا تھا. آپ 1971 سے 1973 تک پاکستان کے صدر رہے جب کہ 1973 سے 1977 تک وہ منتخب وزیراعظم رہے۔

ان کے کچھ اچھے کارناموں میں امت مسلمہ کے اتحاد کی کوشش کی، 1974 میں اسلامی سربراہی کانفرنس پاکستان میں منعقد کی، 1973 کے متفقہ آئین بنایا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، پاک چین دوستی کا آغاز ہوا، روزگار کے ذرائع پیدا کرنے کےلیے اندرون و بیرون کوششیں کیں۔ لاکھوں پاکستانی غریب لوگ زندگی میں پہلی بار پاکستان کی سرحدوں سے باہر نکلے سعودی عرب اور دبئی کے طرف جس سے ان کے معاشی حالات میں بہتری محسوس ہوئی جو آج تک جاری ہے۔

0 comments

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page