top of page

دینہ:پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے CEOایجوکیشن جہلم کا آرڈر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا واضع احکامات کے باوجود یونیفارم نہ پہننے والے طلبہ پرجرمانے کرنے لگے۔چھٹی کرنے پر 100روپے جگا ٹیکس وصول کیا جانے لگا

جہلم ( رپورٹ:پروفیسر خورشید علی ڈار)

محکمہ تعلیم جہلم کے احکامات پر عمل درآمد کروانا سی ای او ایجوکیشن جہلم کی ذمہ داری ہے مقام افسوس بعض پرائیویٹ تعلیمی اداروے کھلم کھلا جاری شدہ نوٹیفکیشن کا مذاق اڑا رہے ہیں یقینا اس کی معقول وجہ ہوگی بروے نوٹیفکیشن کوئی پرائیویٹ تعلیمی ادارہ دوران سال فیس میں اضافہ نہیں کر سکتا مگر عملی طور پر تمام تعلیمی ادارے فیس میں اضافہ کرتے ہیں حال ہی میں محکمہ تعلیم کے نوٹیفکیشن کے مطابق تمام تعلیمی اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ طلباء وطالبات کو سکول یونیفارم کے لیے پابند نا کریں بلکہ سردی سے بچنے کے لیے طلباء وطالبات یونیفارم کے بجائے گرم لباس استعمال کرنے کے مجاز ہیں تاکہ سردی سے محفوظ رہ سکیں اس پر بھی بعض پرائیویٹ ادارے عمل نہیں کر رہے اس حوالے سے فوجی فاؤنڈیشن سکول دینہ سرفہرست ہے یونیفارم نا پہننے پر بچوں کو جرمانہ کیا جاتا ہے اسی طرح جب بچہ بیمار ہو جائے تو مذکورہ سکول چھٹی کی درخواست منظور نہیں کرتا بلکہ سو روپے جرمانہ کرتا ہے حالانکہ والدین اسی روز متعلقہ ادارے کو تحریری درخواست پہنچا دیتے ہیں سماجی و تعلیمی زعماء دینہ نے سی ای او ایجوکیشن جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کروائیں بصورت دیگر موجودہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے تعلیم دینے کے بجائے منفی انداز میں اپنی آمدن میں اضافہ کرنا شروع کر دینگے

0 comments

Comentários

Avaliado com 0 de 5 estrelas.
Ainda sem avaliações

Adicione uma avaliação
bottom of page