top of page

دینہ (نثار احمد مغل)دینہ میں 16 سالہ نوجوان کو مبینہ طور پر تیز دھار آلے سے قتل کر کے ٹریفک حادثہ قرار دے دیا گیا، حکام بالا فوری نوٹس لے کر انصاف فراہم کریں،والد کی اپیل

دینہ (نثار احمد مغل)دینہ میں 16 سالہ نوجوان کو مبینہ طور پر تیز دھار آلے سے قتل کر کے ٹریفک حادثہ قرار دے دیا گیا۔سوہاوہ کے نواحی علاقہ کے رہائشی شخص نے کہا کہ میرے 16 سالہ بیٹے کو مبینہ طور پر تیز دھار آلے سے قتل کر کے ٹریفک حادثہ قرار دے دیا گیا ہے، حکام بالا فوری نوٹس لے کر انصاف فراہم کریں۔ تھانہ سوہاوہ کے علاقہ کولیاں کے رہائشی اسرار حسین ولد محمد صنور نے ڈی پی او جہلم کو درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ 7 مارچ 2024 کو رات 10 بجکر 50 منٹ پر نامعلوم نمبر سے فون کال موصول ہوئی جس نے اپنا نام کاظم حسین بتایا اور کہا کہ تمہارے بیٹے شہریار سکندر کا دینہ میں حادثہ ہو گیا ہے اور وہ زخمی حالت میں رورل ہیلتھ سنٹر دینہ میں موجود ہے۔ اسرار حسین نے بتایا کہ میں رورل ہیلتھ سنٹر دینہ پہنچا تو وہاں پر اسسٹنٹ سب انسپکٹر عرفان نے 3 سادہ کاغذات پر دستخط اور انگوٹھے لگوائے اگلے دن سائل کو پتا چلا کہ سائل کو مستغیث بنا کر جھوٹا مقدمہ درج کردیا گیاہے۔ متاثرہ شخص نے تحریرکیا ہے کہ سائل کے بیٹے شہریار سکندر کو تیز دھارآلے سے قتل کیا گیا اور بعد ازاں ایکسیڈنٹ کا رنگ دیکر سارا ڈرامہ رچایا گیا اگر میرے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہوتا اور وہ ٹرک کے نیچے آتا تو جسم، ہڈیاں ٹوٹی اور کچلی ہوئی ہوتیں اور جسم پر زخموں کے نشان اور چوٹیں وغیرہ ہوتیں اور جائے حادثہ پر خون ہوتا جو کہ کچھ بھی نہیں۔ متاثرہ شخص نے تحریر کیا کہ سائل کا بیٹا رکشہ پر تھا اور متوفی بیٹا بھی رکشہ پر سوار تھا جو کہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے ، اس طرح جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے میں نے اپنے طور پر مختلف مقامات پر لگے ہوئے سی سی ٹی وی کیمراز چیک کئے ہیں کسی بھی جگہ سے کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا۔ متاثرہ شخص نے تحریر کیا کہ میرا بیٹا ابھی نابالغ تھا اور بہت خوبصورت تھا جس کا کسی دیگر مقام پر تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا، مجھے قوی یقین ہے کہ طاہر محمود نے اپنے دیگر ساتھیوں سے ملکر میرے بیٹے کا قتل کیا ہے اور بعد ازاں ایکسیڈنٹ کا ڈرامہ رچایا گیا ہے اور ملی بھگت کرکے جھوٹا مقدمہ درج کروایا گیاہے۔ متاثرہ محنت کش نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، آرپی او راولپنڈی اور ڈی پی او جہلم سے مطالبہ کیاہے کہ مجھے انصاف فراہم کیا جائے اور اصل ملزمان کو گرفتار کیا جائے تاکہ اصل حقائق منظرعام پر آسکیں

0 comments

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page