top of page

دینہ!شعبہ زوالوجی کے طلباء کی بڑی کامیابی ۔قلعہ روہتاس سے 15 لاکھ سال پرانا ہاتھی کا ڈھانچہ دریافت

دینہ(سید ذوالقرنین شاہ Jhelumnews.uk) شعبہ زوالوجی کے طلباء کو ایک بہت بڑی کامیابی ملی ہے قلعہ روہتاس کے قریب گاؤں کلری متیال کے ساتھ پہاڑی سلسلے سے ہاتھی کا ڈھانچہ دریافت ھوا ھے یہ پنجور فارمیشن ھے سوالک کی پہاڑی سلسلے کے ساتھ ھے جو کہ قلعہ روہتاس کے قریب واقع ہے۔ ایم فل کے دو طالب علم قربان حسین اور آفتاب احمد (جامعہ اوکاڑہ) اور علاقے کی سماجی اور سائنس دوست شخصیت چوہدری عابد حسین دھمیال اور مقامی گاؤں کلری متیال سے امیر علی تھے بتایا گیا کہ یہ دونوں طالب علم ڈاکٹر محمد ادیب بابر (جامعہ اوکاڑہ) اور ڈاکٹر محمد اکبر خان (جامعہ پنجاب) کی نگرانی میں کام کر رہے ہیں۔ کھوج کئے جانے والے دانتوں میں ایک دکھانے والے دانتtusk) ) جس کی لمبائی 8 فٹ اور تقریباً 8 انچ موٹائی ہے، اور یہ محفوظ حصے کے مرکز سے اوپر کی طرف مڑتا ہے۔ انہوں نے ایک تالو بھی دریافت کیا ہے جس میں دائیں اور بائیں طرف کی دونوں داڑھیں ہیں، اور یہ دونوں دانت اور داڑھ کی شکلیں ہاتھی خاندان Stegodontidae نسل کے جینس Stegodon اور ممکنہ طور پر S. ganesa کی نوع کی ہیں۔ تاہم، نمونوں کی مزید تحقیق سے پتہ چلے گا کہ Stegodontidae نسل کے اندر درست درجہ بندی کیا ہے۔ ان کے علاوہ انہوں نے ہاتھی کی دیگر اعضاء کی ہڈیاں بھی دریافت کی ہیں موسمی حالات اور مشکل ترین جگہ ھونے کی وجہ سے یہاں کام کرنا اور مکمل اعضاء کو نیچے لانا نا ممکن ہےان نمونوں کو عارضی طور پر پنجاب یونیورسٹی کے عجائب گھر میں رکھا جائے گا۔ اتنے لمبے ہاتھی کے دکھانے والے دانت کی دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ سیوالک میں قدیم ہاتھی خاندان کے افراد طویل دکھانے والے دانت کے حامل تھے اور معدوم ہونے سے پہلے اپنی نشوونما کے لیے صحت مند ماحول کا لطف اٹھایا ۔ نیز، یہ پاکستان پنجور فارمیشن سے اتنے بڑے دکھانے والے دانت کی دوسری دریافت ہے، جسے پہلی بار 2015 میں ڈاکٹر سید غیور عباس (جامعہ سیالکوٹ) نے دریافت کیا تھا، سید غیور عباس نے بتایا کہ بعض محققین کی بحث کو ختم کرنے کے لیے کہ ہندوستانی پنجور حیوانات پاکستان سے بہت مختلف اور الگ ہیں میں مددگار ہے یہ اور بات کی تائید کرتے ہیں کہ پاکستان اور ہندوستانی پنجور فارمیشن کے حیوانات ایک جیسے ہیں ۔ اس موقع پر چوہدری عابد حسین دھمیال نے بتایا کہ یہ پچھلے پچیس سالوں میں یہ مختلف جامعات اور طلباء کے ساتھ ساتواں ہاتھی کا دکھانے والا دانت ھے جو میں نے دریافت کیا ھے مقامی دوست امیر علی کا بھی ہم شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ھماری راہنمائی کی یہاں پہنچ پانا بہت ھی مشکل ھے یہ بات بڑی دلچسپ ھے کہ یہاں تقریباً آٹھ سو سال پہلے آبادی تھی جگہ جگہ مٹی کے برتن ٹوٹے ہوئے نظر آتے ہیں ایک اونچی جگہ کھدائی بھی نظر آتی ہے یہاں آرکیالوجی والوں کو کام کی ضرورت ہے یہ پہلی مرتبہ میری زیر نگرانی طلباء نے اس علاقے میں کام کیا ہے اس سے پہلے ڈاکٹر محمد اختر نے یہاں کام کیا ہے اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہاں سے مکمل ڈھانچہ دریافت ھوتا ھے یہ جگہ گورنمنٹ کی ھے یہاں پر کام کرنے کی ضرورت ہے یہاں شعبہ زوالوجی اور شعبہ آرکیالوجی مل کر کام کریں اور یہاں سیرو سیاحت کے فروغ دینے کے لیے پارک بنایا جاۓ قریب ھی قلعہ روہتاس ھے اور ساتھ ہی ٹلہ جوگیاں پر جانے کے لیے راستہ ہے۔

0 comments

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page