top of page

دینہ(سہیل انجم قریشی سے)دینہ میں لاقانونیت انتہا تک پہنچ گئی رکشہ ڈرائیورز اور لوڈرز رکشہ والوں نے انت مچا رکھی ہے جن کو پوچھنے والا چیک کرنے والا کوئی نہیں. آئے روز حادثات

دینہ(سہیل انجم قریشی سے)دینہ میں لاقانونیت انتہا تک پہنچ گئی رکشہ ڈرائیورز اور لوڈرز رکشہ والوں نے انت مچا رکھی ہے جن کو پوچھنے والا چیک کرنے والا کوئی نہیں آئے روز حادثات کے ذمہ دار یہی رکشہ ڈرائیورز ہی ہیں جن کی غلطی اور روڈ پر لاقانونیت کی وجہ سے حادثات رونما ہونا معمول بن چکا ہے یہی نہیں بلکہ سواریوں کے گریبان تک پکڑنا اور خواتین سے بدتمیزی سے پیش آنے تک کے واقعات بھی رونما ہونے لگے ہیں۔تفصیلات کے مطابق دینہ شہر اور گردونواح میں اگر ایک ہزار رکشہ ہے تو ان میں سے نو سو نوے ڈرائیوز کے پاس لائیسنس ہی نہیں اور نہ ان کے پاس کاغذات ہیں جس میں کم عمر بھی شامل ہیں رکشہ چلاتے نظر آتے ہیں جن کی وجہ سے منگلا روڈ جی روڈ سمیت شہر کے چوک چورائے سروس روڈ اور پوری تحصیل میں چلنے والی ٹریفک متاثر ہوتی ہے گزشتہ روز بھی ایک لوڈر رکشہ جس کو کم عمر پٹھان ڈرائیور چلا رہا تھا نے ایک محنت کش نوجوان کو جو سڑک کنارے کھڑا تھا کو اتنی تیز رفتاری سے ٹکر ماری کہ اس کے جسم کی تقریبا ہڈیاں ٹوٹ گئیں وہاں پر موجود لوگوں کے مطابق اس کا بچ جانا کسی معجزے سے کم نہ ہو گا جسے فوری لوگوں نے ریسکیو کر کے ہسپتال پہنچایا اللہ پاک اس کی حفاظت کرے اور لوڈر رکشہ ڈرائیور رش کا فائدہ اٹھا کو موقع سے رکشہ سمیت بھاگ گیا شہری کب تک ان لوگوں کو برداشت کریں گے اگر لاقانونیت اسی طرح ہی رہی تو لوگ قانون ہاتھ میں لینے پر مجبور ہو جائیں گے کیا کب قانون حرکت میں آئے گا کون ائے گا جو ٹریفک قوانین کی پاسداری کروائے گا کون ان بے لگام رکشہ چلانے والوں کو لگام ڈالے گا کون ہو گا جو لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کے اس کھیل کو بند کروائے گا کون آئے گا جو ان بدتہذیب اور بدمعاشوں کو ہماری ماوں بہنوں بیٹیوں سے بدتمیزی اور بدکلامی سے روکے گا

یہ قانون کے لیے ایک چیلنج ہے جس کو لگام ڈالنا اور لوگوں کی حفاظت کرنا انتظامیہ کا فرض ہے دینہ کی عوام یہ نہیں چاہتی کہ کوئی بے روزگار ہو لیکن قانون کی حد میں رہ کر قانونی تقاضے پورے کر کے اگر کوئی مزدوری کر رہا ہے تو خدا را اس سے کوئی شکائیت نہیں لیکن ان بدمعاش بھیڑیوں سے جو جائز طریقے سے روزی کما رہے ہیں ان کی صفوں میں شامل ہو کر سارے شہر کو متاثر کر رہے ہیں سے جان چھڑائی جائے۔

0 comments

Commentaires

Noté 0 étoile sur 5.
Pas encore de note

Ajouter une note
bottom of page