top of page

دعا۔۔۔ تحریر: امیر عبدالقدیر اعوان

دعا


تحریر: امیر عبدالقدیر اعوان


وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ [2:186]

’’اورجب میرے بندے آپ سے میرے متعلق پو چھیں تومیں قریب ہوں اور قبول کرتا ہوں پکا رنے والے کی دعا جب وہ مجھ سے مانگے پس چا ہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لا ئیں تا کہ وہ ہدا یت پا ئیں ۔‘‘

لفظ دعا کے معنی مانگنا ،التجا کرنا ،بہتری کی خوا ہش اور مراد کے ہیں ۔کسی کو کچھ سنا نے کے لیے پکا رنا بھی دعا کہلا تا ہے جیسا کہ سورۂ النمل میں ہے: وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآئَ [27:80]

’’اور نہ بہروں کو اپنی آواز سنا سکتے ہیں ۔‘‘

اصطلاحاً دعا کے معنی اللہ تعا لیٰ سے مانگنے کے ہیں ۔دعا ایک درخواست ہے ،وسیلہ ہے ،پکار ہے اور احساس کم ما ئیگی،بے اختیا ری ،بے کسی و لا چا ری ہے ۔

انسان کا مقصد ِحیات معرفت ِالٰہی ہے ،معرفت ِالٰہی کا تقا ضا عبا دتِ الٰہی اور عبا دتِ الٰہی کا حاصل قربِ الٰہی ہے ۔حیا ت کی ابدیت اور مقصد ِحیا ت کی عظمت ،قربِ ذات باری تعالیٰ ہے اور اسے پا نے کے لیے اس رحمن و رحیم نے اپنے بندوں کو ایک خو بصورت ذریعہ عطا فرما دیا کو ئی ،کہیں سے بھی اور کبھی بھی اسے پکا ر سکتا ہے ۔اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآئِ[14:39](بے شک میرا پروردگا ر دعا کو بہت سننے والا ہے )لفظ رب کا مطلب ہی ہر ضرورت مندکی ،ہر ضرورت، ہر وقت اورہر جگہ پوری کرنے والا ہے۔

قا رئینِ کرام !ما نگا اس سے جا تا ہے جس پہ یقین ہو کہ وہی دے سکتا ہے ۔پکا را اسے جا تا ہے جس پہ اعتبار ہو کہ وہ سن رہا ہے اور ذاتِ با ری پہ یہی ایمان عقیدہ ٔاسلام کی بنیا د ہے لَہٗ دَعْوَۃُ الْحَقِّ [13:14](اسی کے لیے پکا رنا سچا ہے )یہی ایقان آرزوؤں کو الفاظ کے روپ میں ڈھا لتا اور خوا ہشوں کو زبا ن دیتا ہے ۔عبا دات کی روح اللہ بزرگ و برتر کی کبر یا ئی پہ ایمان اور اپنی کم مائیگی ولاچاری کا اظہا ر ہے اور یہی احساس دعا کا جزو کل ہے۔ حدیث ِپا ک ہے:

الدعاء ھوالعبادۃ(سنن الترمذی)(دعاعین عبادت ہے )اپنی حاجا ت کے لیے ہی سہی لیکن اس رحیم و کریم کو بندے کا اپنی طرف رجوع کرنا اتنا پسند ہے کہ حضرت ابو ہریرۃ ؓسے مروی حدیث ِپا ک ہے :

لیس شیء اکرم علی اللہ تعالی من الدعاء(سنن الترمذی)(اللہ کے نزدیک کو ئی چیز ،کو ئی عمل دعا سے زیا دہ عزیز نہیں ) بلکہ حضرت ابو ہریرہ ؓ ہی نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان بھی روایت کرتے ہیں کہ:من لم یسال اللہ یغضب علیہ(سنن الترمذی)(جو اللہ سے سوال نہ کرے اللہ اس سے نا راض ہو تا ہے )یہ شان ِکریمی و ادائے رحیمی کہیں اور کہا ں مل سکتی ہے ۔

ان کا کرم پھر ان کا کرم ہے ان کے کرم کی بات نہ پو چھو

رحمت ِباری جہاں بندے کے مانگنے پہ متوجہ ہونے کو تیار ہے وہاں بندے کو اسلوب و اصولِ دعا تک تعلیم فرما ئے گئے ہیں ۔قرآن مجید و فرقان حمید کی پہلی سورۂ فا تحہ پو ری کی پو ری آداب ِدعا کی تربیت دے رہی ہے کہ اپنے مالک سے مخا طب ہو نے سے پہلے بندہ اس ایمان کے سا تھ اس کی حمد و ثنا بیا ن کرے کہ تمام تر تعریفیں فقط اسی ذات کو سزا وار ہیں ۔وہی رب اور پا لنہا ر ہے اس کی رحمت ِبے پا یا ں پہ کا مل یقین کے سا تھ اس سے مانگے کہ بلا شبہ رحمت ِحق بہانہ می جو ید (اللہ کی رحمت بہانے تلاش کرتی ہے)۔یہ سورۂ مبا رکہ یہ بھی سمجھا رہی ہے کہ بندہ کی سب سے پہلی اور سب سے بڑی طلب راہِ ہدا یت پہ چلنا ہو نی چا ہیے کہ اس کے بغیر دنیا و ما فہیا بے معنی ہے ۔

قا رئین ِکرام ! اس سے بڑھ کر خیر خوا ہی کیا ہو گی کہ رب العالمین اپنے بندوں کو دعا کے لیے الفا ظ تک عطافرما دے ۔قرآ ن پا ک کھو ل کردیکھیے ہر حاجت ،ہر ضرورت ،ہر احتیا ج کے لیے دعا مو جو د ہے۔ الفاظ اللہ کریم کے ہیں اور زبا ن اس کے اخص الخواص بندوں کی ۔ہمیں فقط قلوب میں خلوص پیدا کرنے کی ضرورت ہے یا کم از کم پو ری توجہ ،پو رے درد سے مانگنے کی کہ حدیث ِپا ک ہے : ان اللہ لا یستجیب دعاء من قلب غافل لاہ(سنن الترمذی)(اللہ اس کی دعا قبول نہیں کرتا جس کا دل (دعا کے وقت)اللہ سے غا فل او ر بے پرواہ ہو)

قا رئین ِکرام! دعا کی طا قت کا اندا زہ ہم نہیں لگاسکتے نبی کریم ﷺ کا فرما ن ہے :الدعاء ینفع مما نزل ومما لم ینزل فعلیکم عباد اللہ بالدعاء(المستدرک)(دعا نازل شدہ مصیبت ،اور جو ابھی نہیں نازل ہوئی ہے اس سے بچنے کا فائدہ دیتی ہے ،تو اے اللہ کے بندو ! تم اللہ سے برابر دعا کرتے رہو)

ایک ایسی ہستی جو ستر ما ؤ ں سے بڑ ھ کر محبت کرتی ہو ،جسے پھیلے ہو ئے ہا تھوں کی حیا ہو ،جو خود پکا رتی ہو ’’ہے کوئی مانگنے وا لا ‘‘،اس کے سا منے پھیلے ہو ئے دامن کیو نکر خالی لو ٹا ئے جا سکتے ہیں۔وہ تو نہاں خانۂ دل میں نمو پا نے وا لی آرزؤوں تک سے وا قف ہے ۔حضرت قا سم فیوضاتؒ فرمایا کرتے تھے ’خوا ہش بذات ِخود دعا ہو تی ہے ،با ت تو یہ ہے کہ کو ئی مانگنے وا لا بھی ہو ہم تو مائل بہ کرم ہیں کو ئی سا ئل بھی تو ہو ۔

اس سے مانگیے اور دل کھو ل کر مانگیے کہ مانگنا اسے محبوب ہے لیکن تین باتیں ذہن نشین کرنا ضروری ہیں۔ ہمیشہ حدود ِشریعی کے اندر رہ کر دعا مانگنا چاہیے ۔بلا شبہ وہ بڑا کریم ہے لیکن وہ بہت غیور بھی ہے۔دوسرا دعا ایک استدعا ہوتی ہے ،حکم ہر گز نہیں اور تیسرا اس کی قبولیت کے لیے جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے کہ عطا کا بہترین وقت وہ مسبب الاسباب بہتر جانتا ہے ۔حدیث ِپاک ہے :

لا یزال العبدبخیرما لم یستعجل۔۔۔۔۔الخ(مسنداحمد)(بندے کی ہمیشہ خیر اور بھلائی ہے، جب تک کہ وہ جلد بازی نہیں کرتا۔صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ بندہ جلد بازی کس طرح کرتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جب وہ کہتا ہے کہ میں نے رب سے بہت دعا مانگی ،لیکن میری دعا اس نے قبول نہیں کی)

اللہ کریم ہمیں اپنے لیے، اپنو ں کے لیے بھلائی و عا فیت ما نگنے کی تو فیق عطا فرما ئے اور اس خلوص سے نوا زے جو اس کی با رگا ہ میں درجہ ٔ قبو لیت رکھتا ہو ۔






1 comment

1 Comment

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
Adeel Malik
Adeel Malik
Nov 03, 2023
Rated 5 out of 5 stars.

Great

Like
bottom of page