top of page

خدارا نسلِ نو کو تباہی سے بچائیں انتخاب و ترتیب ڈاکٹر فیض احمد بھٹی


خدارا نسلِ نو کو تباہی سے بچائیں

انتخاب و ترتیب

ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

وہ نسل جو سن 2000عـ کے بعد پیدا ہوئی ہے، اور آج تقریبا 23، 24 سال اس کی عمر ہو چکی ہے۔ پوری دنیا میں یہ نسل انسانی تاریخ کی جسمانی طور پر سب سے لاغر اور ذہنی طور پر نفسیاتی مریض سمجھی جاتی ہے۔ یہ نسل جس دور میں بڑی ہوئی ہے، وہ تاریخ انسانی کا سب سے زیادہ ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا دور ہے۔ گویا یہ نسل ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے بڑی ہوئی ہے۔ اس کی دسترس میں تیز ترین انٹرنیٹ، سمارٹ موبائل فونز، ٹیبلٹز، ٹی وی چینلز اور دیگر سوشل میڈیا ہے۔

اس نسل کی تربیت میں بزرگوں کا کم جبکہ سوشل میڈیا کا بہت زیادا ہاتھ ہے۔ پوری دنیا میں اس نسل کا ایک ہی مسئلہ ہے کہ ان میں صبر کم غصہ بہت زیادہ ہے۔ جھک کر ہر وقت موبائل فون استعمال کرنے کی وجہ سے ان کی گردنوں میں بہت خم آ گیا ہے۔ ہر وقت سکرین کے آگے بیٹھنے کی وجہ سے ان کی آنکھیں اور دماغ کمزور ہو چکے ہیں۔ سارا وقت بیٹھ کر ٹیکنالوجی سے کھیلنے کی وجہ سے ان کی جسمانی صحت انتہائی نحیف و ناتواں ہوچکی ہے۔ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کےلیے انسانی تاریخ میں یہ نسل سب سے زیادہ وقت لے رہی ہے۔

مغربی دنیا میں لاکھوں نوجوان اس مرحلے کا شکار ہونے کے بعد اب واپس اپنے ماں باپ کے گھر لوٹ رہے ہیں۔ کیونکہ وہ باہر کی دنیا میں گزارا ہی نہیں کر سکتے۔ ان کو بومی رینگ جنریشن کہا جا رہا ہے یا بومی رینگ چلڈرن۔ یہ اسٹریلیا کے اس قدیم ہتھیار کے نام پر ہے کہ جس کو ہوا میں پھینکو تو وہ گھوم کر واپس اپنے مالک کے پاس آ جاتا ہے۔

پاکستان میں آپ اس نسل کو ٹک ٹاک جنریشن کہہ سکتے ہیں۔ کسی پاکستانی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس جنریشن کا کتنا برا حال ہو چکا ہے!!! ان کے اخلاق میں کتنی پستی آچکی ہے؟! ان کی تعلیم کتنی کمزور ہو چکی ہے؟! ان کی تہذیب کس قدر گر چکی ہے؟! ان کی زبان کتنی دراز ہو چکی ہے؟! ان کی تربیت کتنی مخدوش ہو چکی ہے؟! اور ان کا مستقبل کتنا تاریکی میں جا چکا ہے؟!

یہ نسلِ نو پاکستان کی تقریبا 40 سے 50 فیصد آبادی ہے۔ یعنی 10 سے 12 کروڑ۔ آپ سوچیں! خدا نخواستہ اگر پاکستان کو غزہ، عراق، شام، لیبیا یا یمن جیسی آزمائش کا سامنا کرنا پڑ جائے تو اس نسل کا کیا حال ہوگا؟ یہ لکڑی سے آگ نہیں جلا سکتے، ان کو نقشہ دیکھ کر مشرق اور مغرب کا پتہ نہیں ہوتا، ہتھیاروں کا استعمال اور سروائیول تو چھوڑ ہی دیں، یہ دھوپ میں آدھا گھنٹہ کھڑے نہیں رہ سکتے، یہ چند کلومیٹر پیدل نہیں چل سکتے۔ یہ نسل نہ جسمانی سختیاں برداشت کر سکتی ہے، نہ نفسیاتی سختیاں۔

اسی لیے ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ شادیاں اسی نسل کی فیل ہو رہی ہیں۔ کیونکہ ان کو رشتوں کو نبھانا ہی نہیں آتا، چھوٹے بڑوں سے بات کرنے کا سلیقہ نہیں ہے، معاملات کو سلجھانے کےلیے صبر نام کی چیز ہی نہیں ہے۔

آج آپ ویڈیو گیم کھیلتے کسی بچے کا نیٹ بند کر دیں پھر دیکھیں کہ اس میں کس طرح عفریت نمودار ہوتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں نے اپنے پورے پورے خاندان صرف انٹرنیٹ بند ہونے پر قتل کر دیے۔

خدارا اس نسلِ نو کو تباہی سے بچائیں!!! سب سے پہلے والدین پھر اساتذہ اور علما و مشائخ پر لازم ہے کہ اس نسلِ نو کو سدھارنے کےلیے ہنگامی بنیادوں پر خلوصِ دل اور ہمدردی کے ساتھ توجہ دیتے ہوے اپنے اپنے حصے کا مُثبت اور مؤثر کردار ادا کریں! وگرنہ بقول شاعر:

تب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت

اور یہ بات بھی یاد رکھیں! بچوں کی اصلاح و کامیابی میں والدین کی طرف سے تربیت کے ساتھ ساتھ ان کےلیے دعائے خیر کرنا کلیدی اور فریدی حیثیت رکھتا ہے۔ لہذا اولاد کےلیے دعائے خیر کرنا ہرگز نہ بھولیے!

0 comments

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page