top of page

جہلم// ادریس چودھری سے// جب قلب میں بیماری ہو پھر سیدھی بات بھی سمجھ نہیں آتی اوربندہ اس کے اُلٹ سوچتا ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان

جب قلب میں بیماری ہو پھر سیدھی بات بھی سمجھ نہیں آتی اوربندہ اس کے اُلٹ سوچتا ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان

ایمان بالغیب میں سب سے بڑا غائب ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔آپ ﷺ پر قرآن کریم کا نزول ہوا اور آپ ﷺ نے کلام ذاتی کو ہم تک پہنچایا۔قرآن کریم کے معنی و مفاہیم وہی لیے جائیں گے جو نبی کریم ﷺ نے فرمائے صحابہ کی جماعت نے ان پر عمل کیا اور آپ ﷺ نے اس کی تصدیق فرمائی کہ اس سے یہی مراد تھی۔آج کوئی اپنی مرضی کے معنی و مفاہیم بیان کرتا ہے تو یہ درست نہیں ہے۔

امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔

انہوں نے کہا کہ اللہ کریم خالق ہیں اور ہم مخلوق کبھی بھی مخلوق خالق کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ہمارا علم محدود ہے اور اس کی ذات لامحدود۔اللہ کریم نے قرآن کریم میں زندگی گزارنے کے اصول ارشاد فرمادئیے ہیں نبی کریم ﷺ نے وہی قوانین ریاست مدینہ پر نافذ کیے۔آپ ﷺ کی زندگی میں آپ کے جان نثاروں نے ان قوانین کو اپنی زندگیوں پر لاگو کیا۔وہ ہر کام اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق کرتے۔فتح مکہ کے موقع پر جب نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام فاتح ہوئے تو انہوں نے مکہ میں نماز قصر ادا کی اور جو گھر جائیدادیں انہوں نے اللہ کے نام پر چھوڑ دیں تو فرمایا اب یہ ہماری نہیں جو چیز اللہ کے نام پر چھوڑ دی اب اس پر ہمارا کوئی حق نہیں اس طرح صحابہ کی جماعت نے نبی کریم ﷺ سے وفا کا حق ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کرے اس رمضان المبارک کی برکات اگلے رمضان المبارک تک ہمارے ساتھ رہیں۔جو کیفیت حضور حق کی ہمیں نصیب تھی وہ اب رمضان المبارک کے بعد بھی ہمارے ساتھ رہے۔ہم ہر کام کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ میرے اللہ کریم مجھے دیکھ رہے ہیں میں اپنے اللہ کریم کے روبرو ہوں میرے اس کام سے وہ ناراض نہ ہوجائیں یہ تقوی کی کیفیت جو ہمیں رمضان المبارک میں نصیب ہوئی ہے وہ ہمارے آنے والے رمضان المبارک تک ہمارے مزاج کا حصہ بن جائے۔

یاد رہے کہ امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی رواں ماہ انگلینڈ کے دورہ پر جا رہے ہیں جہاں انگلینڈ کے بڑے بڑے شہروں میں آپ کے سیمینارز میں لیکچرز ہوں گے۔جن میں لندن،برمنگھم،بریڈفورڈ،مانچسٹر،اولدھم،شیفلڈ،گلاسگو وغیرہ شامل ہیں۔

آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔

0 comments

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page