top of page

جہلم کی جلیبی ۔۔۔تحریر : محمود اصغر چودھری

میرے دوست پروفیسر شیراز علی کی مہربانی سے مانچسٹر یونیورسٹی میں اردو سیکھنے والے انگریزوں کے ساتھ ہر سال ساتھ کھانا کھانے کا موقع ملتا ہے ۔ یہ نظارہ بھی ہر کلاس کے ساتھ دیکھنے کو ملتا ہے کہ جب ان کے سامنے مٹھائیاں رکھی جاتی ہیں تو جلیبی واحد مٹھائی ہے جو سب سے زیادہ توجہ کا باعث بنتی ہے ۔ ان سب کا یہ سوال ہوتا ہے کہ یہ بنتی کیسی ہے اور ہم بھی ہر سال ہی ان سب کو حلوائی کے پاس لے جاتے ہیں۔ جلیبیاں بنتے دیکھتے ہوئے ان کا منہ کھلے کا کھلا رہ جاتا ہے ۔

ویسے ہمیں بھی بچپن سے ہی جلیبیاں کھانے سے زیادہ انہیں بنتے دیکھ کر خوشی ہوتی تھی ۔ جلیبی اگر گرما گرم اور تازہ کھائی جائے تو اس کا مقابلہ کسی مٹھائی سے نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے دیہاتوں میں کوئی بھی میں میلہ جلیبی کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔

جلیبی سے ہمارا رشتہ پرانا ہے ، لیکن جہلم کے دوستوں سے پتہ چلا کہ جو جلیبی ڈومیلی موڑ پر بنتی ہے وہ سب سے بہترین ہے ۔ اس سال پاکستان جانا ہوا تو ہم نے نیت کر لی کہ ڈومیلی موڑ پر ضرور رکنا ہے ۔ گجرات سے اسلام آباد جاتے ہوئے جی ٹی روڈ پر جہلم سے نکلنے کے بعد ہم نے ہر موڑ پر نظریں ٹکا دیں لیکن ڈومیلی موڑ کی کوئی خبر نہیں تھی ۔ آخر ہم نے ٹیکنالوجی کی مدد لی اور گوگل میپ کی مدد سے اس موڑ پر پہنچے ۔ وہاں ایک پرانا سا ڈھابہ تھا جس میں ایک شخص جلیبیاں بنانے میں مصروف تھا۔ ہم حیران ہوئے کہ اس میں کیا خاص بات ہوگی ۔ لیکن جب ہم نے وہ جلیبیاں خریدیں عش عش کر اٹھے ۔ اتنی باریک اور اتنی کرکری جلیبیاں ہم نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی تھیں ۔ میرا آپ کو مشور ہ ہے کہ اگر جی ٹی رو ڈ پر لاہور سے اسلام آباد جائیں توجہلم کے بعد ڈومیلی موڑ پر ضرور رکیں ۔ آ پ نے اتنی اچھی جلیباں کبھی نہیں کھائی ہوں گی ۔بلکہ اگلی بار میں ان انگریزوں کی بھی بتاﺅں گا کہ وہ ڈومیلی موڑ ضرور جائیں .

جہلم والو۔۔۔ شکریہ اتنی بہترین جگہ کے بارے بتانے کا ۔۔امید ہے جتنی آپ کی جلیبیاں میٹھی ہیں اتنے ہی آپ بھی میٹھے ہوں گے


Recent Posts

See All

پر امید نگاہیں۔۔۔۔۔۔۔۔حافظ محمد ندیم عنصر(دینہ)

پر امید نگاہیں موسم بہار کی صبح ہے نکھری نکھری اور اجلی اجلی سی فریش اور معطر فضا چالیس کی سپیڈ پہ بائیک منگلا روڈ کی سنگل سڑک پر ڈبل ٹریفک میں لگاتار اور بے جا ہارن، ٹریفک بغیر سگنل اور قانون کے رواں

bottom of page