top of page

جہلم کو 2 قومی اسمبلی کی نشستیں مختص کرنے کا معاملہ، الیکشن کمیشن اور پاکستان بار کونسل آمنے سامنے

جہلم(رپورٹ:رانا محمد عاصم )الیکشن کمشنر کی موجودگی میں ملک میں آزادانہ اور شفاف انتخابات نہیں کرائے جا سکتے۔ پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے وائس چیئرمین ہارون الرشید اور چیئرمین حسن رضا پاشا کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ اس طرز عمل کی ایک واضح مثال چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے اپنے آبائی ضلع جہلم کو 2 قومی اسمبلی کی نشستیں مختص کرنے کا معاملہ ہے، ضلع جہلم کی آبادی تقریباً 1,382,000 ہے جبکہ ضلع حافظ آباد کے لیے صرف ایک نشست مختص کی گئی ہے حالانکہ اس ضلع کی آبادی تقریباً 1,320,000 ہے۔ پاکستان بار کونسل کا کہنا ہے کہ اسی طرح کا عدم توازن ضلع راولپنڈی کے لیے نشستوں کی تقسیم میں بھی دیکھا گیا ہے، گوجرانوالہ ڈویژن کے مقابلے راولپنڈی کی آبادی کم ہونے کے باوجود اس کے لیے ایک اضافی نشست مختص کی گئی ہے جس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں، یہاں یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کا طرز عمل عام انتخابات سے متعلق سنگین شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے اور ایسا ماحول پیدا کررہا ہے جس میں شفافیت کا مکمل فقدان نظر آتا ہے۔ سپریم کورٹ چیف الیکشن کمشنر کے ہر عمل کی توثیق نہ کرے بیان میں مزید کہا گیا کہ ان حالات کی روشنی میں پی بی سی ان نازک معاملات پر آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔ پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے وائس چیئرمین اور چیئرمین نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چیف الیکشن کمشنر کے ہر عمل کی توثیق کرنے کے بجائے ان تضادات کا نوٹس لے، پاکستان بار کونسل اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ بنیادی مقصد محض انتخابات کا انعقاد نہیں بلکہ ان انتخابات کا آزادانہ، منصفانہ اور شفاف طریقے سے انعقاد ہے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو یکساں مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ وکلا تحریک کے لیے کنونشن بلانے کا اعلان پاکستان بار کونسل نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر سیاسی جماعت کے لیے مخلتف ضابطے اپناتے ہیں، پاکستان بار کونسل نے ان کے اس طرز عمل کے خلاف سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان کی مشاورت سے وکلا کی تحریک کے لیے لائحہ عمل اور حتمی تاریخ کا تعین کرنے اور اس کا اعلان کرنے کے لیے جلد ہی ایک آل پاکستان نمائندہ کنونشن بلانے کا اعلان کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ وکلا تحریک کا مقصد ملک میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف عام انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانا ہے جو کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان کی موجودگی میں ممکن نہیں۔ بار کونسل کا کہنا تھا کہ انتخابات شیڈول کے مطابق 8 فروری کو ہی منعقد کرائے جائیں، تمام سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو یکساں مواقع اور لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کی جائے تاکہ شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جاسکے۔ چیف الیکشن کمشنر کے زیر نگرانی انتخابات نہ کرائیں جائیں، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا مطالبہ علاوہ ازیں، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے زیر نگرانی انتخابات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے چیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ موجودہ حالات میں چیف الیکشن کمشنر کو گھر جانا چاہیے کیونکہ ان کے زیر نگرانی شفاف انتخابات ممکن نہیں، موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی زیر نگرانی انتخابات کی شفافیت پر بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ انتخابات 8 فروری کو ہی ہوں لیکن تمام اسٹیک ہولڈرز کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں، شکایات کو دور کیے بغیر محض انتخابی ٹائم لائن پر عمل کرنا استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کسی کے دباؤ میں نہیں آئے گا، ترجمان الیکشن کمیشن نے پاکستان بار کونسل کے بیان کو مسترد کردیا ہے۔ ترجمان الیکشن کمیشن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن میڈیا پر چلنے والی اس خبر کی سختی سے تردید کرتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے ضلع میں کوئی اضافی نشست پیدا کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا آبائی حلقہ این اے 82 ضلع سرگودھا میں ہے اور اس ضلع میں کوئی اضافی نشست پیدا نہیں کی گئی البتہ کمیشن کسی کی ذاتی خواہش پر کسی بھی مخصوص شخصیت کے لئے اضافی نشست بنانے سے معذوری ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کسی کے دباؤ یا بلیک میلنگ میں نہیں آئے گا

0 comments
bottom of page