top of page

جہلم!کم عمر ڈرائیورز کے خلاف مقدمات۔ مستقبل داؤ پر لگ گیا۔پنجاب حکومت ہوش کے ناخن لے۔عوامی حلقے

جہلم (ڈاکٹر سیہل امتیاز خان سے )حکومت کاہر اچھا اقدام بن جاتا ہے عوام کے لیےوبال جان تفصیلات کے مطابق حکومت کا ہر اچھا اقدام جب عمل درآمد کرنے والی قوتوں تک پہنچتا ہے وہ عوام کے لیے فاٸدے کے بجائے مصیبت کا ذریعہ بن جاتا ہے جو سختی حکومت کی طرف سے ائی ہے نمبر ایک لاٸسنس چیک کریں اور دوسری کم عمر بچوں کو گاڑیاں نہ چلانے دی جائیں اگر اج آپ کم عمر بچوں کے خلاف مقدمات کر رہے ہیں کل فیوچر میں نہ کمیشن افسر بن سکے گے نہ ہی کسی سرکاری نوکری کے قابل رہے گا جس سے بچوں کا کیرٸیر تباہ ہو رہا ہے اس کے دوطریقے ہیں ایک تو اپ ان کے والد کا نام لکھ کر چالان کاٹ کر دیں جب وہ اپنے والد سے چالان کی رقم کا مطالبہ والد سے کریں گے تو پھر والدین انہیں سمجھا لیں گے دوسرا طریقہ یہ ہے فون کر کے ان کے والدین کو بلایا جائے یہ اپ کابچہ ہے اس نے ٹریفک کا قانون توڑا ہے اپ کو وارنگ دے رہےہیں اس مرتبہ ہم اپ کے بچے کا کیرٸیر تباہ نہیں کرنا چاہتے جرمانہ بھریں اور اسے اور موٹر ساٸیکل لے جاٸیں اور آئندہ احتیاط کریں اپ کا کم عمر بچہ موٹر سایٸکل لے کر باہر نہ نکلے دوسراہر بندے لائسنس چیک کرنے کی آڑ میں پڑولنگ پولیس اور پنجاب پولیس کے جوان سڑکوں پر کھڑے ہو گیے ہیں اصل کام اپنا چھوڑ دیا ہے اور لوگوں کو تنگ کرنے کا اور اپنی روزی روٹی کا ذریعہ بنا لیا ہے اگر کوٸی معزز شہری یا بزورگ موٹر ساٸیکل یا گاڑی پر جارہا ہوتا ہے چیکنگ کے بہانے شہریوں کو تنگ کرتے ہیں اور وقت ضائع کرتے ہیں وہ شہری خدا ناخواستہ گاڑی یا موٹر سایٸکل پر غیر قانونی کام نہیں کرتا پھرتا جبکہ کے شہر میں ٹریفک کی نفری کی کم کے باعث جب کھبی ٹریفک جام ہو تو ٹریفک پولیس کے ساتھ کھڑے ہو کر مدد نہیں کرتے جب کبھی کسی وقوعہ کی اطلاع دی جاۓ یا 15 پر کال کی جاۓ تو کہتے ہیں تھانہ ہی آ جاٸیں اب تو 15 کی کال کی کوٸی حیثیت نہیں رہی سیاسی سماجی حلقوں نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان اور ایڈیشنل آئی جی ٹریفک پولیس سے مطالبہ کیا ہے نابالغ بچوں کے اوپر مقدمات درج کرنے کو روکا جائے کیونکہ اس سے نابالغ بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا۔

0 comments

Recent Posts

See All
bottom of page