top of page

جہلم: چاندنی چوک شاندار چوک ریلوے روڈ اور سول لائن روڈ پر  اکثر ٹریفک جام رہنے لگی

جہلم (ڈسٹرکٹ رپورٹر) ٹریفک پولیس کی ناقص کارکردگی چاندنی چوک شاندار چوک ریلوے روڈ اور سول لائن روڈ پر  اکثر ٹریفک جام رہنے لگی چاندنی چوک میں چنگ چی رکشہ والوں کی اجارہ داری قائم ٹریفک پولیس کے ساتھ ساتھ انتظامیہ بھی خاموش ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم ناصر محمود باجوہ سے شہریوں کا  نوٹس لینے کا مطالبہ  تفصیلات کے مطابق ٹریفک پولیس کی ناقص کارکردگی شہر کی کئی سڑکیں اکثر بلاک رہنے لگیں چنگ چی رکشہ والوں والے بھی بے قابو انتظامیہ اور پولیس کی رٹ چیلنج کرنے میں چنگ چی مافیا سب سے آگے چنگ چی رکشہ والوں کی من مانیاں بھی عروج پر جہاں چاہیں اور جس جگہ چاہیں شہر کی سڑکوں کو بلاک کر دیں ان کے آگے ٹریفک پولیس بھی بھیگی بلی بن چکی جو ان کے چالان تک نہیں کرتی رمضان المبارک میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا چاندنی چوک میں چنگ چی رکشہ والوں کا ناجائز طور پر بنے  اسٹیںنڈ  نے سبزی منڈی جانے والے راستہ کو بھی بلاک کر دیا شہر کی اکثر سڑکوں پر چنگ چی رکشہ والوں کا راج سڑک کے درمیان میں رکشے کھڑے کر کے سواریوں کو بٹھانے لگے  شہریوں کا کہنا ہے کہ اس چنگ چی مافیا نے پورے شہر کو بلاک کر رکھا ہے بازار کی کوئی سڑک ایسی نہیں جہاں پر ان کی اجارہ داری قائم نہ ہو پتہ نہیں ٹریفک پولیس اور انتظامیہ ان سے ڈرتی کیوں ہے اس شہر کا کوئی والی وارث نظر نہیں آتا ہماری تو رائے یہ ہے کہ ٹریفک پولیس کو ہی ختم کردیا جائے جو صرف قومی خزانے پر بوجھ ہی نظر آتی ہے  شہریوں نے مزید کہا کہ چاندنی چوک میں جب آپ آئیں تو یہاں پر پتہ یہی چلتا ہے کہ اس چاندنی چوک کو چنگ چی رکشہ والوں نے اپنی ذاتی ملکیت بنا رکھا ہے اور ناجائز طور پر ایک رکشہ  اسٹیںنڈ  قائم کر رکھا ہے حالانکہ یہاں پر کافی عرصہ سے یہ جگہ فروٹ کی ریڑھیوں کے لیے ہی مختص کی گئی تھی لیکن میونسپل کمیٹی کی ملی بھگت سے یہاں پر رکشہ اسٹینڈبھی قائم ہوگیا شہریوں نے ڈپٹی کمشنر  سمیع اللہ فاروق اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ناصر محمود باجوہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جہلم شہر کی سڑکوں اور بازاروں سے چنگ چی مافیا کی اجارہ داری کو ختم کیا جائے غیر قانونی طور پر بنائے گئے رکشہ اسٹیںنڈ کو ختم کیا جائے اور پولیس اہلکاروں کو ان کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا جائے تاکہ بازاروں کے راستے کشادہ ہوں اور خریداری کے لئیے آنے والوں کو دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے 

0 comments
bottom of page