top of page

جہلم پرائیویٹ سکولز نے محکمہ تعلیم کی ہدایات کے مطابق سکولز کھولنے کی تمام شرائط کی دھجیاں بکھیر دیں


جہلم (ڈسٹرکٹ رپورٹر Jhelumnews.uk) محکمہ تعلیم محکمہ بلڈنگ اور محکمہ صحت کی اجازت سے مطلوبہ شرائط کے بغیر ضلع جہلم میں پرائیویٹ سکولز کی بھرمار تینوں محکمہ جات کرپشن کا گڑھ بن گئے پرائیویٹ سکولز نے محکمہ تعلیم کی ہدایات کے مطابق سکولز کھولنے کی تمام شرائط کی دھجیاں بکھیر دیں تعلیم کے نام پر کاروباری پرائیویٹ سکولز کی بھرمار پرائیویٹ سکولز نے سکول کھولنے کی تمام ہدایات کو نظرانداز کر دیا محکمہ تعلیم کو رشوت دیں اور پانچ سے دس مرلہ کی بلڈنگ میں تعلیم کے نام پر کاروبار کھول لیں اور بھاری بھر فیسیں وصول کریں جبکہ سکول کھولنے کے لیے کم از کم بلڈنگ دو کنال پر محیط ہونا ضروری ہے جس میں کھیل کا میدان بھی ہو لیکن ضلع جہلم میں پانچ سے دس مرلہ کی بلڈنگز میں سکول قائم کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں جبکہ ان سکولز کی ٹیچر کو تنحواہ بھی حکومت کی شرائط کے مطابق نہیں دی جاتی 8 سے 10 ہزار روپے میں ٹیچر کی بھرتی بھی کر لیں تفصیلات کے مطابق ضلع جہلم میں محکمہ تعلیم محکمہ بلڈنگ اور محکمہ صحت کی کرپشن عروج پر پرائیویٹ سکولز کھولنے کے لیے آپ کو کسی بھی شرط پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں بس ان محکموں کی مٹھی گرم کریں اور ایک عدد چھوٹی سی بلڈنگ کرائے پر لیں اور تعلیم کے نام پر کاروبار شروع کر دیں اب تو ہر گلی اور محلے میں پانچ سے دس مرلہ کی بلڈنگ میں پرائیویٹ سکولز کھل چکے ہیں جبکہ سکولز کھولنے کی جو شرائط ہیں ان میں کم از کم دو کنال کی بلڈنگ ہو کھیل کا میدان ہو ہوادار اور روشنی والے کمرے ہوں کمپیوٹر لیب ہو تین سے چار باتھ روم ہوں اور بلڈنگ وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ کھیلنے کودنے کی جگہ بھی ہونی چاہیے لیکن افسوس کہ اس وقت ضلع جہلم میں اکثر پرائیویٹ اسکولز پانچ سے دس مرلہ کی بلڈنگز میں بنے ہوئے ہیں نہ کوئی میدان ہے کمرے بھی چھوٹے چھوٹے ہیں جن میں نہ کوئی ہوا اور نہ ہی روشنی جاتی ہے جبکہ کچھ سکولز تو ایسے ہیں جیسے کوئی جیل ہو اور کئی بلڈنگز بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور خستہ حال ہوچکی ہیں جن کو محکمہ بلڈنگ نے بھی کبھی چیک کرنا گواراہ نہیں کیا پینے کا صاف پانی بھی بچوں کو میسر نہیں شہریوں کا کہنا تھا کہ ان پرائیویٹ سکولز نے تو تعلیم کے نام پر کاروبار شروع کر رکھا ہے بھاری بھر کم فیسیں جبکہ کتابوں اور کاپیوں کی مد میں بھی یہ لوگ مال بنا رہے ہیں جو کاپی 60 روپے کی بازار میں ملتی ہے وہ کاپی ان سے 120 روپے کی ملتی ہے اسی طرح کتابوں کے ریٹس بھی ڈبل ہیں ان کو کوئی بھی پوچھنے والا نہیں جبکہ ان سکولز میں زیادہ تر میٹرک پاس ٹیچر کو بھرتی کیا جاتا ہے اور ان کو تنخواہ بھی دس سے پندرہ ہزار روپے تک دی جاتی ہے جبکہ حکومت نے کم از کم تنخواہ 25000 روپے تک مقرر کر رکھی ہے کیا کوئی ان کو چیک کرے گا کیا یہ بھی ایک مافیا ہے جن پر قابو پانا محکمہ تعلیم محکمہ بلڈنگ اور محکمہ صحت کے بس میں نہیں شہریوں نے ڈپٹی کمشنر سمیع اللہ فاروق سے مطالبہ کیا ہے کہ ان پرائیویٹ سکولز کو چیک کیا جائے اور جو سکول شرائط پر پورا نہیں اترتے ان کو فوری طور پر بند کیا جائے جبکہ خستہ حال بلڈنگ میں بنائے گئے سکولز کو بھی فوری طور پر بند کیا جائے یہ لوگ تعلیم کے نام پر شہریوں سے مال بٹورنے میں مصروف ہیں

0 comments

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page