top of page

جہلم میں پرائیویٹ اسکولوں کی کتب فروشوں سے ملی بھگت شہری مہنگے داموں کتابیں کاپیاں خریدنے پر مجبور

جہلم (ڈسٹرکٹ رپورٹر) جہلم میں پرائیویٹ اسکولوں کی کتب فروشوں سے ملی بھگت سے شہری مہنگے داموں کتابیں اور کاپیاں خریدنے پر مجبور جبکہ کچھ اسکولز مالکان اپنے ہی اسکولز سے کتابیں اور کاپیاں طلبا کو مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں زرائع کے مطابق کچھ پرائیویٹ اسکولز کے مالکان کے اسکولز کی کتب مخصوص کتب فروش کی دکانوں پر  ہی دستیاب ہوتی ہیں جن سے یہ کمیشن بھی وصول کرتے ہیں پرائیویٹ اسکول مافیا اور کتب فروش مافیا شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے لگے  تفصیلات کے مطابق جہلم میں پرائیویٹ اسکولوں کی کتب فروشوں سے ملی بھگت مخصوص پرائیویٹ اسکولز کی کتب مخصوص کتب کی دکانوں پر ہی ملتی ہیں جبکہ کچھ اسکولز مالکان کتابیں اور کاپیاں اپنے ہی اسکول سے طلبا کو مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں جو کتاب اور کاپی اگر بازار سے ایک سو روپے میں ملتی ہے وہ ان اسکولوں سے دو سے تین سو روپے میں فروخت کی جاتی ہے جس سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے کیونکہ کتب فروش من مانے ریٹس لگاتے ہیں اور اسکول مالکان بھی من مانے ریٹس لگاتے ہیں حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ کتابیں اور کاپیاں بھی مخصوص دکان پر  ہی ملتی ہیں اور وہ دوسری کسی بھی دکان سے نہیں ملتیں جس کی وجہ سے کچھ کتب فروش مالکان کے ناز نخرے بھی شہریوں کو اٹھانے پڑتے ہیں شہریوں نے اس موقع پر کہا کہ پرائیویٹ اسکولز مافیا اور کتب فروش مافیا کی چاندی ہوگئی ہے وہ ایک سو والی کتاب اور کاپی دو سے تین سو روپے میں فروخت کرتے ہیں جبکہ کچھ اسکول مالکان اپنے ہی اسکولز سے کتابیں اور کاپیاں بچوں کو مہنگے داموں دیتے ہیں اور اس کے ریٹس ڈبل لگاتے ہیں سی او ایجوکیشن بھی خاموش شہریوں نے مزید کہا کہ یہ سب سی او ایجوکیشن کی ملی بھگت سے بھی ہورہا ہے کیونکہ کوئی بھی ان پرائیویٹ اسکولز کو چیک نہیں کرتا اب تو کتب کے علاوہ اسکولز کی وردیاں بھی مخصوص دکانوں پر ہی ملتی ہیں شہریوں نے پرائیویٹ اسکولز کو بھی ایک مافیا قرار دے دیا جو کہ شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں شہریوں نے ڈپٹی کمشنر سمیع اللہ فاروق اور سی ای او ایجوکیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ پرائیویٹ اسکولز کی کتب فروشوں سے اس ملی بگھت کو ختم کروایا جائے اور کتب شہر کی سب کتب کی دکانوں پر ہی  فروخت کو یقینی بنایا جائے جبکہ مخصوص اسکولز کی وردیاں بھی کسی مخصوص دکان کی بجائے سب دکانوں پر فروخت کو یقینی بنایا جائے کیونکہ مخصوص دکاندار ہی من مانے ریٹس وصول کرتا ہے اور ان اسکولز مالکان کو ماہانہ بھتہ بھی پہنچاتا ہے شہریوں نے ان پرائیویٹ اسکولز کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے  جو طلبا کو اپنے ہی اسکولز سے کتابیں اور کاپیاں مہنگے داموں میں فروخت کرتے ہیں 

0 comments
bottom of page