top of page

جہاد ظلم کو روکنے کا نام ہے۔جہاد انسانیت کے خلاف نہیں بلکہ ظلم کے خلاف ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان

دینہ( ادریس چودھری) قربانی کا فلسفہ یہ ہے کہ ہم زندگی کے ہر شعبہ میں اپنی خواہشات اور مرضی کو احکام خداوندی پر قربان کر دیں۔امیر عبدالقدیر اعوان۔دنیا بھر سے لاکھوں مسلمانوں نے فریضہ حج کی ادائیگی کی اور عید الاضحی کے موقع پر کروڑوں مسلمانوں نے جانوروں کی گردن پر چھری چلا کر سنتِ ابراھیمی کو ادا کیا اور آپﷺ کی اتباع میں حکم کی بجا آوری کی۔حج بندہ مومن کو ایسے پاک کر دیتا ہے کہ جیسے آج اس دنیا میں آیا ہو۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔انہوں نے کہا کہ دین اسلام میں انفاق فی سبیل اللہ کا حکم ہے اور اس میں یہ بات زہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ انفاق سے مراد صرف روپیہ پیسہ نہیں بلکہ اللہ کریم کی طرف سے دی گئی۔جسمانی،ذہنی استعداد کو اللہ کریم کی راہ میں استعمال کرنا بھی انفاق فی سبیل اللہ کے تحت آئے گا۔اسی طرح جہاد کرنا بھی انفاق فی سبیل اللہ میں آئے گا۔کہ بندہ مومن اپنی جسمانی قوت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے کن حالات میں اس کی فرضیت اور اطلاق ہے اس کی وضاحت قرآن و حدیث میں بڑی واضح ہے۔جہاد بالسیف اور جہاد بالنفس۔نفس کے ساتھ جہاد کو جہادِا کبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ ساری زندگی کا جہاد ہے نفس کے ساتھ مقابلہ زندگی بھر کا عمل ہے۔ لیکن جہاد بالسیف کو چھوڑنے کی وجہ سے ہم بحیثیت مجموعی ہلاکت کی طرف جا رہے ہیں۔جہاد ظلم کو روکنے کا نام ہے۔جہاد انسانیت کے خلاف نہیں بلکہ ظلم کے خلاف ہے جہاد میں انسانیت کی بقا ہے جہاد کو یہ سمجھ لینا کہ شاید اس سے مرا دلوگوں کی گردنیں ہی کاٹنا مقصد ہے تو درست نہیں ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔

آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔

0 comments
bottom of page