top of page

جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی


جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

بقلم:

ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

دینِ اسلام ایک ہمہ گیر و ہمہ جہت نوعیت کا آفاقی پیغام ہے۔ یہ مقدمہ منطقی اعتبار سے بھی 100 فیصد درست ہے اور حقائق کے لحاظ سے بھی۔ کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ خالقِ کائنات کا نازل کردہ دین مذہبی، سماجی، معاشی اور اخلاقی اصول و اقدار تو پیش کرتا ہے، مگر سیاسی ضوابط کی تقدیم و تفہیم سے قاصر ہے؟ ہرگز ایسا نہیں!!!

سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب اسے نازل کرنے والی ذات خود رب العالمین ہے تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ قرآن و حدیث کی صورت میں اُس کے نازل کردہ قوانین کلی حیثیت کے حامل نہ ہوں!؟ یعنی صرف عام مذہبی مسائل کا احاطہ کرتے ہوں اور سیاسی مسائل میں خاموش ہوں، یہ ممکن ہی نہیں۔

بلکہ خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ مذہب اور سیاست کی یکجائی کا حسین ترین مظہر ہے۔ منصبِ نبوت میں مذہبی، سیاسی، سماجی اور اخلاقی امور سمیت دیگر کئی اہم معاملات شامل تھے۔ مثلاً: جب کبھی جنگ کی مہم پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قدر کمالِ مہارت سے فوج کی کمانڈ فرمائی کہ مسلمانوں کی قلیل تعداد کفار کی کثیر تعداد پہ بھاری پڑ گئی۔

اسی طرح اسلامی دعوت کے سلسلے میں کئی ممالک کے شاہان اور سربراہان سے خط و کتابت بھی کی۔ داخلہ و خارجہ پالیسیاں بیان فرمائیں۔ عدالتی نظم و نسق پیش کیا۔ الغرض مکمل ضابطہ حیات دیتے ہوے مدینے کی صورت میں آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کامل ترین اسلامی ریاست قائم کی۔

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی بصیرت کی اس سے بڑی کیا مثال ہے کہ حُدیبیہ کے مقام پہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس فطانت اور دور اندیشی سے اہل مکہ کے ساتھ معاملاتِ صلح طے کیے، آج بھی دنیا اسے جان کر دنگ رہ جاتی ہے۔ وہ (اہل مکہ) جو مسلمانوں کو زیر دام کرنے آۓ تھے خود زیر دام ہو گئے۔ ان کی ساری چالیں الٹ پڑ گئیں۔ شرائط نامے میں لکھوائی گئی ہر شِق اسلام اور مسلمانوں کے حق میں فائدہ مند ثابت ہوئی۔ اہل اسلام کی قلت کثرت میں اور اہل کفر کی کثرت قلت میں بدلتی گئی۔ ان شرائط میں جنگ بندی کی ایک شق کو ہی دیکھ لیں کہ جس کی برکت سے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی سرگرمیوں کا دائرہ کار بڑی تیزی سے پھیلتا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورا جزیرہ نما عرب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیرِ نگیں ہوگیا۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خلافتِ رسول کی باگ ڈور سنبھالی۔ مذہبی و سیاسی امور کو بڑی جرأت و دانشمندی سے سر انجام دیا۔ فتنہ مرتدین اور منکرینِ زکوٰۃ کی جس طرح بروقت اور شدت سے آپ نے سرکوبی کی وہ سیاست کے باب میں اعلی ترین علامت بن گئی۔

ان کی ڈھائی سالہ خلافت کے بعد دورِ فاروقی رضی اللہ عنہ کا آغاز ہوا۔ کامل امن و امان، رعایا کی خوش حالی اور بے لاگ عدل کے حوالے سے آپ کا گیارہ سالہ عرصہٓ حکومت اس قدر مثالی تھا کہ مستشرقین تک کو یہ کہنا پڑا: کہ عمر اگر مزید دس سال تک حاکم رہتا تو تمام روۓ زمیں پر اسلام کا پرچم لہرا رہا ہوتا۔ خلافت عمر میں مجال ہے کہ کسی ادنٰی فتنے نے بھی سر اٹھایا ہو یا کوئی شرانگیز ہلچل پیدا ہوئی ہو!

قارئین! اگر صرف دورِ فاروقی کی سیاسی سرگرمیوں کا ہی عمیق جائزہ لیا جاۓ تو ہمارے سامنے آپ رضی اللہ عنہ کی سیاست گری، داخلہ و خارجہ پالیسیوں اور معاشی حکمت عملیوں کے علاوہ کئی سیاسی باب کھل جائیں گے۔

ضرب المثل کی حیثیت اختیار کرنے والے آپ کے اس جملے (کہ عمر کے دورِ حکومت میں اگر دریاۓ فرات کے کنارے پیاس سے بلکتا ایک کتا بھی مر گیا تو روز محشر عمر خدا کی عدالت میں اس کا بھی جواب دہ ہوگا) سے اندازہ نہیں ہوتا کہ عوام کی خبر گیری کے حوالے سے آپ کس قدر سیاسی فکر کے مالک تھے! یہ سیاست نہیں تو اور کیا تھی!؟

خلفاء راشدین (صدیق اکبر، فاروق اعظم، عثمان غنی، شیر خدا علی مرتضی رضی اللہ عنہم اجمعین) کے مثالی ادوار سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتا ہے کہ اسلام سیاست کے باب میں بھی کمال درجے کی رہنمائی کرتا ہے۔ پھر بھی یہ شوشے چھوڑنا کہ مذہب کا سیاست و حکومت سے کوئی لینا دینا نہیں، سیاسی فکر کی تخلیق کا منبع یورپ ہے، سیاست صرف اہل سیاست ہی کر سکتے ہیں مسجد مدرسے تک محدود مذہبی لوگ اسکے اہل نہیں وغیرہ وغیرہ۔

قارئین! مذکورہ کج فہمی دو اسباب میں سے کسی ایک کی رہینِ منت ضرور ہے: 1-یا تو یہ کہنے والوں کا مبلغِ علم صرف اتنا ہے کہ اسلام بس عبادات اور اخلاقیات ہی سکھا سکتا ہے اور کچھ نہیں۔ دوسرے لفظوں میں اس میں فقط حقوق اللہ اور حقوق العباد کے عنوانات زیرِ بحث آۓ ہیں علاوہ ازیں کچھ نہیں۔ 2-یا وہ اسلام کے متعلق بیزارکن مزاج کے حامل ہیں۔ وگرنہ رتی بھر بھی امکان نہیں کہ اس آفاقی مذہب میں کسی بھی شعبۂ زندگی کے حوالے سے کوئی تشنگی ہے۔ یہ تو پورا جہاں اپنے اندر سموۓ ہوۓ ہے۔ یہ قیامت تک آنے والے تمام جنوں اور انسانوں کے لیے ہر چیز کے بارے میں کامل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ پھر اگر کسی کو اسلام میں بابِ سیاست نہیں نظر آتا تو یہ اسلام کا نہیں، بلکہ اس کی اپنی عقل و شعور کا قصور و فتور ہے۔

قارئین! متذکرہ بالا گفتگو اس بات کی عکاس ہے کہ عبادات و معاملات کی طرح سیاست و حکومت بھی اسلامی تعلیمات کا ایک اہم ترین موضوعِ بحث اور عملی باب ہے۔ جب ایسی بات ہے تو پھر کیوں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی سیاست کے اثرات دکھائی نہیں دیتے!؟ ہر تھوڑے عرصے کے بعد ایک نیا بحران جنم لیتا ہے جو ملک کے طول و عرض میں پھیل کر اس کی سماجی و معاشی چولیں ہلا دیتا ہے!

خیر یہاں محض اہل سیاست کو مورد الزام ٹھہرانا بھی قرینِ عقل نہیں۔ بلکہ علما کی بھی ذمے داری تھی کہ وہ عصرِ رواں کے سیاسی داؤ پیچ میں دلچسپی لیتے، امورِ جہاں بانی میں درک پیدا کرتے۔ پھر قومی سیاست سے آگے بین الاقوامی سیاست سے آگہی حاصل کرتے ہوۓ دنیا پہ یہ ثابت کرتے کہ مذہب اور سیاست کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اسلامی احکام صرف عقائد یا عبادات تک ہی محدود نہیں بلکہ سیاستِ دوراں بھی اس کے دائرۂ کار میں واضح طور پہ موجود ہے۔ اس حوالے سے اگر کامل نمونہ دیکھنا ہو تو اسوۂ حسنہ کا مطالعہ کیجیے۔ اگر سیاست کی مزید پرتوں کا فہم درکار ہے تو خلافتِ راشدہ پہ نظر ڈالیے۔

دوسری طرف اسلامی تعلیمات سے نا بلدی کے پیش نظر سیاست کو مذہب سے جدا سمجھنے والے اہل اقتدار ہر تھوڑے عرصے کے بعد کوئی نہ کوئی ایسا گُل کِھلا دیتے ہیں جس کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے مذہبی طبقے میں ہلچل مچ جاتی ہے نتیجتاً وہ شدید احتجاج کی راہ لینے پہ مجبور ہو جاتا ہے۔ پھر اگر حکومت ہٹ دھرمی پہ اتر آۓ تو بعض اوقات بات جارحیت تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ جیسا کہ متعدد بار وطنِ عزیز احتجاجی مظاہروں، دھرنوں اور تصادموں کا شکار ہو چکا ہے۔

لہذا علمائے امت کو چاہیے کہ وہ مذہبی تعلیم و تربیت کے ساتھ سیاسی امور سے بھی مکمل آگاہی حاصل کریں اور کار سلطنت میں اپنا نمایا کر دار ادا کریں۔

جبکہ دوسری طرف حکومتی سربراہان، سیاسی کارکنان اور سیاستدان اپنے آپ کو دینی معلومات و مطالعہ جات سے ہم آہنگ کریں تاکہ وہ مذہبی نزاکتوں کا پاس رکھ سکیں۔ یوں سب مل جل کر پاکستان کو ایک عظیم الشان اسلامی اور فلاحی و رفاہی ریاست بنائیں۔

یاد رکھیں! سیاست کو دین سے جدا کرنے سے صرف چنگیزیت ہی باقی رہ جاتی ہے، جس میں بھلائی و خیر خواہی نام کا ذرہ برابر بھی عنصر نہیں ہوتا۔ نتیجتاً معاشرہ ہر اعتبار سے تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔ (والعیاذ باللہ من ذلك)

0 comments

Recent Posts

See All

احتجاج....... تحریر۔۔۔ حافظ محمد ندیم عنصر۔دینہ

احتجاج....... تحریر۔۔۔ حافظ محمد ندیم عنصر۔دینہ nadeemansir@hotmail.com یہ گل بھی بڑا عجیب ہے کانٹوں کے درمیان رہتا ہے اور خوشی بکھیرتا ہے۔جی ہاں! موسم بہار کے گل کی بات کر رہا ہوں۔لوگ اسے پیار اور مح

bottom of page