top of page

جامعہ تعلیم القرآن رحمانیہ کی 49ویں سالانہ عظمت ِقرآن کانفرنس کا انعقاد



رپورٹ ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

جامعہ تعلیم القرآن رحمانیہ کی 49ویں سالانہ عظمت ِقرآن کانفرنس کا انعقاد

کانفرنس میں ملک بھر سے جید خطباء، علماء اور شیوخ الحدیث نے شرکت کی

چاروں طرف عوام الناس کا ایک جم غفیر موجود تھا

جہلم(رپورٹ ڈاکٹر فیض احمد بھٹی) تفصیلات کے مطابق جامعہ تعلیم القرآن رحمانیہ منڈی کنگن پور(ضلع قصور) کی 49ویں سالانہ کانفرنس بعنوان (عظمت قرآن و تقریب صحیح بخاری شریف)مورخہ 30 اکتوبر بروز سوموار 2023 کو بڑے تزک و احتشام سے منعقد ہوئی۔ جس کی سرپرستی رئیس الجامعہ قاری محمد صادق رحمانی نے کی۔ جبکہ صدارت حافظ عبد الحمید عامر (رئیس جامعہ علوم اثریہ جہلم) اور پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور راشد (ناظم ذیلی تنظیمات مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان) نے کی۔ کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی حافظ عبدالستار عاصم آف UK، میاں فضل حق ثانی آف لاہور اور ڈاکٹر فیض احمد بھٹی آف جہلم مدعو تھے۔ علاوہ ازیں کانفرنس میں قاری محمد حنیف ربانی، علامہ ہشام الہی ظہیر، حافظ محمد یوسف پسروری، قاری محمد خالد مجاہد، پروفیسر سیف اللہ قصوری، مولانا اسماعیل عتیق، قاری احمد حسن ساجد، قاری عبدالرزاق طاہر، مولانا شفیق الرحمن علوی، مولانا ممد آصف ربانی، قاری محمد اعظم عارف سمیت دیگر علمائے کرام نے مختلف موضوعات پر دبنگ خطابات فرمائے۔ جبکہ بخاری شریف کے حوالے سے شیخ الحدیث والتفسیر مفتی محمد اسلم شاہدروی نے عالمانہ و فاضلانہ درس ارشاد فرمایا۔ امسال جامعہ سے فارغ التحصیل طلباء و طالبات کو سند فراغت اور انعامات سے نوازا گیا۔ جبکہ علمائے کرام اور معزز مہمانان کو خصوصی شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔ پوری کانفرنس کی نگرانی و میزبانی رئیس الجامعہ قاری محمد صادق رحمانی کے صاحبزادگان(علامہ عبدالخالق رحمانی، قاری خالد محمود رحمانی، قاری ابوذر غفاری، قاری عبدالرحمن سدیس، جناب ابوبکر رحمانی اور جناب عبدالروف رحمانی) نے کی۔ کانفرنس میں علاقے بھر کی مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات کے علاوہ عوام الناس نے بھرپور شرکت کی۔ عوام الناس کی بھرپور حاضری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حاضرین کیلیے 50 کے لگ بھگ دیگوں کا احتمام کیا گیا۔ جبکہ معزز علمائے کرام، شیوخ عظام اور مہمانانِ گرامی کے لیے ضیافتِ خاص کا الگ انتظام کیا گیا تھا۔ تلاوت کیلئے قاری طارق محمود صارم، قاری عبد الباسط منشاوی،قاری عبدالرحمن سدیس اور حمد ونعت کیلئے محمد منشاء قادری، قاری تاج محمد شاکر اور حافظ سلمان ربانی پیش پیش تھے۔ یاد رہے!کہ جامعہ تعلیم القرآن رحمانیہ آج سے تقریباً 50 سال قبل منڈی کنگن پور کے ایک مضافاتی گاؤں کوٹ محمد حسن میں قائم کیا گیا۔ جس کی بنیاد موجودہ رئیس الجامعہ استاذالقراء والحافظ قاری محمد صادق رحمانی نے رکھی۔ اس جامعہ میں پیر عبدالرزاق سعیدی، علامہ احسان الٰہی ظہیر، علامہ حبیب الرحمن یزدانی، حافظ عبدالقادر روپڑی، شیخ القرآن مولانا محمد حسین شیخوپوری، حافظ یحییٰ عزیز میر محمدی، حضرت مولانا معین الدین لکھوی، حضرت مولانا محی الدین لکھوی، شیخ الحدیث عبد الرشید مجاہد آبادی، قاری عبد الحفیظ فیصل آبادی، مولانا محمد رفیق مدن پوری، حافظ عبد اللہ شیخوپوری اور حضرت علامہ محمد مدنی جہلمی سمیت ملک بھر کے سینکڑوں علماء و مشائخ کئی بار تشریف لائے۔ بعد ازاں مدرسے کی دوسری شانداربلڈنگ منڈی کنگن پور کے سرکاری ہسپتال کے عقب میں حضرت علامہ محمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے بنوائی۔ جو کہ آج ایک عظیم الشان مرکز اسلام بن چکا ہے۔ قاری محمد صادق رحمانی حفظہ اللہ کی سرپرستی میں نئے اور پرانے دونوں جامعات میں کئی دینی پروگرام جاری و ساری ہیں۔ یاد رہے!کہ مدرسے میں بچیوں کی تعلیم و تربیت کے لیے الگ شعبہ بنات بھی قائم ہے۔ جس سے اب تک سینکڑوں بچیاں سند بخاری شریف حاصل کر چکی ہیں۔ اور دوسری جانب شعبہ بنین سے ہزاروں کی تعداد میں حافظ قرآن بن کر ملک کے طول و عرض میں قا ل اللہ و قا ل الر سول کی صدائیں بلند کر رہے ہیں۔ راقم السطور ڈاکٹرفیض احمد بھٹی کو بھی ابتدائی طور پر اسی مدرسے سے شرف تلمذ حاصل ہے۔

0 comments
bottom of page