top of page

*تھرڈمین* تحریر: راجہ محمد رمضان


""تھرڈمین""

تحریر: راجہ محمد رمضان

(نکے ویلے دی گل اے : کہ جب کرکٹ کا نیا نیا جنون پیدا ہوا تو ہم بمعہ تین چار دوست اپنے کرکٹ کے سازو سامان کے ساتھ اپنے محلے کے بڑے کرکٹ گراؤنڈ میں پہنچ جایا کرتے تھے تو گراؤنڈ میں پہلے سے موجود سئنیر کھلاڑیوں کی ہم منت سماجت کرتے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ کھیلنے کا موقع دیں تو وہ سینئر ہم پر رحم کھا کر ہمیں وکٹ کیپر کے پیچھے فیلڈنگ پر بطور تھرڈمین کھڑا کر دیا کرتے تھے۔ اس دوران بڑے کھلاڑی اپنی بیٹنگ ، باؤلنگ اور میچ سے پوری طرح لطف اندوز ہوتے رہتے اور ہم ہر پیچھے آنے والی گیند اٹھا کر پھینکنے میں خوشی محسوس کرتے رہتے۔ جب کھیل کا وقت ختم ہونے کے قریب ہوتا تو بڑے کھلاڑی ہم چھوٹوں کو دو چار گیندیں باؤلنگ کی شکل میں پھینکتے تو ہم خوش ہو جاتے کہ آج پھر ہم نے کرکٹ کھیل لی۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا تو یہ راز ہم پر عیاں ہوا کہ وہ بڑے کھلاڑی ہم پر رحم نہیں کیا کرتے تھے بلکہ ان کو اپنا کھیل کھیلنے کیلئے ہم جیسے چھوٹے کھلاڑیوں کی ضرورت ہوتی تھی ( بلکل ایسے جیسے آج سیاستدانوں کو اپنے کارکنوں کی ضرورت ہے) اور وہ آخر میں دو چار گیندیں ہماری طرف پھینک کر انعام اور لالچ دینے کی کوشش کیا کرتے تھے کل پھر یہ چھوٹے کھلاڑی تھرڈمین کی جگہ آ کر فیلڈنگ کریں۔

قارئین یہ بات تو کرکٹ اور بچپن کی حد تک مگر کیا ایسا نہیں ہے کہ پاکستان کی عوام کا کردار بھی ایک تھرڈمین جیسا ہے جو کبھی حکومت اور عدالت کے درمیان میچ میں تھرڈمین بن جاتی ہیں تو کبھی ہم کسی آمر اور عدالت کے درمیان تھرڈمین بن جاتے ہیں۔ ویسے تو قیام پاکستان سے لیکر 2018 تک ہر ادوار میں ہمارا تعارف تھرڈمین والا ہی ہے مگر گزشتہ ایک سال سے جب پی ڈی ایم اور قاسم سوری (ڈپٹی سپیکر اسمبلی) کے ذریعے میچ کا آغاز تحریک عدم اعتماد رد کرنے کی شکل میں ہوا تو عدالتی کارروائی کے بعد سے آج تک ججز اور سیاستدانوں کے درمیان میچ شروع ہے اور عوام ایک تھرڈمین کے طور پر گیندیں اٹھانے کا کام کرتی جا رہی ہے اس دوران کبھی ڈالر کا چھکا لگتا ہے تو کبھی تیل ، بجلی ، گیس کے چوکے اس کے علاوہ باقی کھانے پینے کی چیزوں پر ایک دو رنز مسلسل بنتے جا رہے ہیں اور باؤلنگ سائیڈ پر ججز کی ٹیم مشکل سے ایک آدھ وکٹ گرانے کی پوزیشن میں آتی ہے تو درمیان میں بکی آ کر میچ فکس کرنا شروع کر دیتے ہیں جبکہ عدلیہ سے میچ ہارنے والا تحریک انصاف کا کپتان آج تک اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکا کہ اس کے میچ ہارنے کی وجہ کیا تھی کیا وہ اس میچ انتظامیہ کو ناپسند تھا یہ اس کی ٹیم نالائق تھی یا پھر اس کے کوچ میں قابلیت نہیں تھی۔ بہرحال یہ آنے والی ادوار میں واضح ہو جائے گا کہ کپتان ٹورنامنٹ سے باہر کیسے ہوا۔اور اب اگر موجودہ میچ میں ٹیموں کا مقابلہ دیکھا جائے تو بڑا دلچسپ محسوس ہو رہا ہے اور دونوں ٹیمیں بڑی زور آزمائی کے ساتھ میچ جیتنے کیلئے تگ ودو کر رہی ہیں اور تھرڈمین کی فیلڈنگ سے لطف اندوز بھی ہورہی ہیں کیونکہ تھرڈمین (عوام) کو ایسی فیلڈنگ دے دی گئی ہے جس کا اس میچ کے ہارنے جیتنے سے کوئی لینا دینا ہی نہیں اور جو اس کے نصیب میں سکون کی ایک دو گیندیں آ جاتی تھیں شاید وہ بھی کم وقت کا بہانہ بنا کر نہ دی جائیں اس میچ کے چکر میں تھرڈمین کے حالات مزید بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں ایک سفید پوش انسان مفلسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا ہے فروٹ مافیا سے لیکر کھانے پینے کی ہر اشیاء خریدنے کی دسترس سے باہر ہو رہی ہے اور ہمارا ایمپائر ( اسٹیبلشمنٹ) ہے کہ میچ ختم کرنے کا نام ہی نہیں لے رہا کہ تھرڈمین بھی اچھا کھلاڑی بن کر بیٹنگ یا باؤلنگ اپنا کردار ادا کر سکے اور تھرڈمین بھی سکون کی زندگی گزار سکے اب اگر بات عدالتی ٹیم کی ہو تو چاہے رات کے ایک بجے کوئی وکٹ اڑانی ہو یا رات کے تین بجے میچ فکسں کرنا ہو یہ عدالتیں کھل جاتی ہیں جبکہ اگر کسی تھرڈمین کے لیے عدالت کھل ہی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ تھرڈمین بے قصور ہونے کے باوجود آج سے دس پہلے تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے یا ایک ملازمت پیشہ انسان کو پچیس سال بعد اس فیصلے کے ساتھ باعزت بری کر دیا جاتا ہے کہ یہ تھرڈمین بے گناہ تھا۔ ہمارے انصاف کے تقاضے پورے کرنے والے ادارے کسی وزارت سے ہٹائے جانے یا الیکشن جیسے موضوع یا پھر کسی ایمپائر کے اشارے پر تو سوموٹو نوٹس لے لیں گے مگر تھرڈمین کی خاطر یہ نوٹس نہیں لیں گے کہ سستا تیل روس اور ایران سے کیوں نہیں خریدا جاتا، پاکستان زراعت میں خود کفیل ہونے کے باوجود گندم اور چینی باہر سے کیوں منگوا رہا ہے۔ کبھی انصاف فراہم کرنے والے ادارے مارکیٹ میں جا کر کسی تھرڈمین کا دکھ نہ دیکھیں نہ سنیں گے جہاں کوئی سو والی چیز پانچ سو میں کیوں بیچ رہا ہے یا کوئی زخیرہ اندوزی کرکے تھرڈمین کو کیسے لوٹ رہا ہے۔

قارئین کوئی سیاسی جماعتوں کا مجموعہ ہو یا ہمارا عدالتی نظام یا پھر ہمارے ایمپائر ، جب تک تھرڈمین کے حقوق کو نظر انداز کرکے یہ سب اپنے لیے بیٹنگ باؤلنگ کرتے رہے ہیں تو تھرڈمین کے حصے میں آنے والی چند باولز بھی چھین لی جائیں گی اور تھرڈمین کی زندگی مزید بدتر سے بدترین ہوتی جائے گی۔

0 comments
bottom of page