top of page

توكل على الله" کی حقیقت و فضیلت بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

معاملات چلانے، نبٹانے اور نبھانے کےلیے اسباب کا شریعت انکار نہیں کرتی، مگر اس کے ساتھ ساتھ انسان کےلیے ضروری ہے کہ وہ توکل لازمی اختیار کرے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ اور اعتماد بھی کرے۔ کیونکہ توکل کی اصل روح یہی ہے۔ اسی لیے رسول کریمﷺ نے اونٹ کے مالک کو کہا تھا: کہ بھئی پہلے اپنے اونٹ کو اچھی طرح باندھو، اور پھر اسے اللہ کی سپرد کرو! مگر کام اس وقت خراب ہوتا ہے جب بندہ صرف اسباب پر ہی اعتماد کر بیٹھتا ہے اور مالکِ کائنات کو بھول جاتا ہے۔ یا اس کے بر عکس بندے کا اللہ کی ذات پر بھروسہ تو ہوتا ہے مگر وہ اسباب سے پہلو تہی اختیار کر بیٹھتا ہے۔ پہلی صورت انسان کی کم عقلی پر دلالت کرتی ہے جبکہ دوسری صورت انسان کے عقیدے میں خلل کی نشاندہی کرتی ہے۔ لہذا اسباب کے ساتھ اللہ کی ذاتِ بابرکات پر بھروسہ اور اعتماد انتہائی ضروری ہے۔ یاد رکھیئے! کسی بھی کام میں حسبِ استطاعت ظاہری اسباب پورے کرنے کے بعد جب انسان اللہ پر توکل باندھ لیتا ہے، تو اللہ تعالی اس کے کام کو بڑے احسن انداز میں پایا تکمیل تک پہنچا دیتا ہے، سب رکاوٹیں دور کر دیتا ہے۔ مگر بشرطیکہ یہ توکل یقینِ کامل کے ساتھ ہونا چاہیے۔ قرآن مجید نے تو ایسے مضبوط توکل کی اِفادیت، قوت اور تاثیر بیان کرتے ہوئے کمال کر دیا: {{ومن یتوکل علی الله فھو حسبه}} یعنی جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے، تو اللہ اس کےلیے کافی ہو جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ وہ اس کے کاموں کو پایا تکمیل تک پہنچانے کےلیے، اس کی تمام ضروریات پوری کرنے کےلیے، فتنہ و فساد سے اس کی حفاظت کرنے کےلیے اور اس کے دشمنوں کی سازشوں کا قلعہ قمع کرنے کےلیے کافی ہو جاتا ہے۔ کیونکہ توکل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ بندے کا ضامن اور حامی و ناصر بن جاتا ہے- قرآن مجید کے ایک دوسرے مقام پر بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں کے ساتھ محبت کرتا ہے۔ آپ غور كریں کہ جس کے ساتھ اللہ محبت کرتا ہو تو کیا اسے کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے؟ ہر گز نہیں! قارئین! اس کائنات میں سب سے بڑی متوکل ہستی اور عزم بالجزم کی اعلی ترین مثال حضرتﷺ ہیں۔ آپﷺ کے کتنے لوگ دشمن تھے، حتی کے قریبی رشتے دار بلکہ سگے چچے تک زہریلے ناگ بنے ہوے تھے، کتنی بیجا آپﷺ مخالفت کی جاتی، آپﷺ کے بارے کس قدر جھوٹے پراپیگنڈے کیے گئے، کتنے الزام و بہتان لگائے گئے، انتہائی ہوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے آپﷺ کے مشن، اور دعوت و تبلیغ کو نشانہ بنایا گیا، لوگوں کو آپﷺ کے ساتھ ملنے ملانے سے روکنے کےلیے ابو جہل دن رات لوگوں سے رابطے کیا کرتا تھا، آپﷺ کے راستے میں طرح طرح کی رکاوٹیں پیدا کیں، حتی کہ سگے چچوں نے خاندان والوں کو یرغمال بنا کر آپﷺ کے ساتھ سوشل بائیکاٹ بھی کروایا نتیجتا آپﷺ کو شعبِ ابی طالب میں پناہ گزیں ہونا پڑا۔ مگر چونکہ آنجنابﷺ کا اللہ تعالی پر بے حد بھروسہ اور توکل تھا، تو پھر اللہ کی طرف سے ایسی شاندار نصرت و تائید آئی کہ آپﷺ کے دشمنوں کو ہر موڑ پہ شکستِ فاش ہوئی، انکے تمام ہتھکنڈے، پراپیگنڈے، عداوت اور مخالفت نیست و نابود ہوئی۔ چچوں (ابو لہب، ابو جہل) سمیت تمام حاسدین و مخالفین کو اللہ نے ایسا نشانِ عبرت بنایا کہ آج ان کا کوئی نام لینے والا بھی نہیں۔ جبکہ دوسری طرف امام المتوکلین حضرت محمدﷺ کا نام، پیغام اور مقام پوری کائنات میں بلند و بالا ہوا، جگہ جگہ آپﷺ کے تذکرے اور چرچے بپا ہیں، جدھر دیکھو "صلی علی" کے ترانے گونج رہے ہیں۔ *پس {{ومن یتوکل علی الله فھو حسبه}} جو اللہ تعالی پر توکل کرتا ہے تو اللہ اس کےلیے کافی ہو جاتا ہے۔*



0 comments

Bình luận

Đã xếp hạng 0/5 sao.
Chưa có xếp hạng

Thêm điểm xếp hạng
bottom of page