top of page

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سوہاوہ کی حالت زار۔ رپورٹ: ندیم یوسف۔ سوہاوہ

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سوہاوہ کی حالت زار۔ رپورٹ: ندیم یوسف۔ سوہاوہ

پہلے مسلم جرنل شہاب الدین غوری کے نواحی علاقے کی پنجاب کی پسماندہ ترین لاوارث تحصیل سوہاوہ طویل عرصے سے ان گنت گھمبیر مسائل سے دو چار ہے ۔ یہ انتہائی عظیم المیہ ہی نہیں بلکہ لمحہ فکریہ ہے کہ اس جدید ترین دور میں بھی THQ ہسپتال سوہاوہ کی وسیع و عریض رقبے پر کثیر لاگت سے تعمیر ہونے والی عمارت میں عوام الناس علاج و معالجے کی وجہ سے آمدورفت کرتے ہیں لیکن صد افسوس کہ ایمرجنسی میں براحمان ڈاکٹر اتنی زحمت نہیں کرتے کہ خود بخار اور بلڈ پریشر چیک آپ کریں جبکہ ماضی میں ڈاکٹر خود بخار اور بلڈ پریشر چیک آپ کرتے تھے لیکن اب ڈاکٹروں کے پاس موبائل ہوتا ہے۔ ان کی تمام تر توجہ موبائل کی جانب مبذول ہوئی ہے اس لیے محکمہ صحت کے حکام بالا کو چاہیے کہ فرائضِ منصبی سر انجام دینے کے دوران موبائل پر سختی سے پابندی لاگو کرے ۔ ان کی تمام تر توجہ مریضوں کی جانب مبذول ہونی چاہیئے ۔ عملے کو اخلاقی اقداروں کو مدنظر رکھتے ہوئے نرمی اور شفقت سے پیش آنا چاہیے۔مزید برآں ایمرجنسی میں لیڈی ڈاکٹر اور خواتین نرسز کی مستقل بنیادوں پر 24 گھنٹے تعیناتی کے احکامات صادر فرمانا اشد ضروری ہے ۔ تا کہ دختران حوا بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنی بیماری کے بارے میں بتا سکیں ۔اس کمر توڑ مہنگائی کے دور میں غریب انتہائی جدوجہد کے بعد اپنے اہل خانہ کو بمشکل دو وقت کی روٹی فراہم کرتا ہے ۔ THQ ہسپتال سوہاوہ کے باہر میڈیکل سٹوروں سے مہنگے داموں ادویات کیسےخرید سکتا ہے ؟ THQ ہسپتال سوہاوہ کے بلمقابل ڈاکٹر اعجاز بٹ کا بھی کلینک موجود ہے، جہاں پر میڈیکل سٹور بھی موجود ہے ۔ جبکہ ایک میڈیکل سٹور THQ ہسپتال سوہاوہ کے دائیں جانب واقع ہے جبکہ منظورِ نظر اور با اثر افراد کو ادویات اور تمام تر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ غریب کی قطعی طور پر شنوائی نہیں بلکہ دوہائی ہے اس کا ذمہ دار آخر کون ہے ؟طویل عرصے سے تعنیات عملے کا مظبوط ترین نیٹ ورک موجود ہے۔ انکی من مانیاں اوج ثریا پر ہیں ۔انہوں نے اسے اپنی ذاتی ملکیت بنا رکھا ہے ۔ ہر سال کثیر رقم کی مد میں ادویات آتی ہیں ۔ آخر وہ کہاں جاتی ہیں ؟ عام افراد کو باہر میڈیکل سٹوروں سے ادویات خریدنی پڑتی ہیں ۔جن کی قوت خرید نہیں ہوتی تو وہ ادویات کہاں سے لائیں گے !آخر اسکا ذمہ دار کون ہے ؟ THQ ہسپتال سوہاوہ کی پرانی ایمرجنسی وارڈ میں طویل عرصہ قبل پی ٹی سی ایل نمبر موجود تھا ۔ اب میڈیا نمائندگان نے توجہ مبذول کرائی تو دوبارہ پی ٹی سی ایل نمبر نئ ایمرجنسی وارڈ میں لگایا گیا ۔گزشتہ ماہ میں نے فون کیا تو موصوف کی خدمت میں عرضداشت پیش کی کہ آج کوئی حادثہ، قتل، خودکشی یا جھگڑے کے حوالے سے اندراج ہوا ہے تو وہ بتائیں۔ اپنا تعارف بھی کروایا در اصل وہ سو رہے تھے کافی دیر بعد ٹیلی فون اٹھایا لیکن مطلوبہ معلومات قطعی طور پر فراہم نہیں کی۔ THQ ہسپتال سوہاوہ مریضوں کو منتقل کرنے میں شہرت یافتہ ہے بلکہ بعض مریضوں کو ایمبولینس بھی فراہم نہیں کی جاتی ۔ مردو خواتین ڈاکٹروں کو مسیحا کا کردار ادا کرنا چاہیے جسے انہوں نے قطعی طور پر فراموش کر دیا ہے جسکی وجہ سے عدم توجہ میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔نیز شرحِ اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔آخر اسکا ذمہ دار کون !تحصیل سوہاوہ کے عوامی حلقوں نے محکمہ صحت کے حکام بالا سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ صورتحال کا سختی سے نوٹس لیں تاکہ عوام میں پیدا شدہ اضطرابی کیفیت کا ازالہ ہو سکے ۔ اور وہ سکھ کا سانس لے سکیں ۔









0 comments
bottom of page