top of page

تحصیل پنڈدادنخان میں سینڈ فلائی کے مرض میں اضافہ ،بچوں بوڑھوں سمیت 50سے زائد افراد متاثر

پنڈدادنخان(سلیمان شہباز،عدنان یونسJhelumnews.uk)تحصیل پنڈدادنخان میں سینڈ فلائی کے مرض میں اضافہ ،بچوں بوڑھوں سمیت 50سے زائد افراد متاثر پہاڑی علاقوں کے قریب آبادیوں میں رہنے والے لوگ زیادہ متاثر ہونے لگے کھیوڑہ میں 50کے قریب لوگوں کو زہریلی مکھی نے متاثر کیا جبکہ تحصیل ہیڈکواٹر پنڈدادنخان میں دو مریض رپورٹ ہوئے ، سینڈ فلائی کے متاثرہ مریضوں کا کہنا ہے کہ ہمیں موثر طبی سہولیات میسر نہیں ہورہی اور ہمیں ضلع چکوال میں ٹیکے لگوانے کے لیے جانا پڑتا ہے ،سینڈ فلائی وبائی مرض نہیں ہے اسکی ویکسینشن ہمارے پاس موجود ہے متاثرہ یضوں کا علاج جاری ہے ،ڈاکٹرمحمد آصف ۔تفصیلات کے مطابق تحصیل پنڈدادنخان میں سینڈ فلائی کا مرض تیزی سے پھیلنے لگا ،ریت کی مکھی کے کاٹنے سے بچوں بوڑھوں سمیت 50سے زائد افراد متاثر ہوئے سب سے زیادہ کیس کھیوڑہ شہر کے رپورٹ ہوئے جبکہ تحصیل ہیڈ کواٹر پنڈدادنخان میں مضافتی علاقوں سے دو مریض سامنے آئے پنڈدادنخان کے مضافاتی پہاڑی علاقوں میں کئی سال بعد سینڈ فلائی دوبارہ حملہ آور ہوئی مذکورہ مکھی کے کاٹنے سے متاثرہ متعدد مریض یونین کونسل ساوال اور غریبوال کے علاقوں میں موجود ہیں جبکہ جلالپور سے لے کر پیر کھارا تک کے پہاڑی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے سینڈ فلائی مکھی کے حملہ آور ہونے کا خطرہ بدستور موجود ہے ریت کی مکھی کے اثار زیادہ تر پہاڑوں کے قریب پائے جاتے ہیں جوکہ پہاڑی علاقوں میں کتوں گیدڑوں اور اس قسم کے دیگر جانوروں کی رہنے کی جگہ اور گندگی والی پتھریلی زمین پر اس کی پیدائش ہوتی ہے اور عمومی طور پر یہ اپنی جائے پیدائش سے 60 میٹر کے اندر ہی رہتی ہے جبکہ ضلع چکوال مضافاتی پہاڑی علاقے چوآسیدنشاہ آڑہ بشارت وادی چمکون میں بھی اس کی موجودگی پائی جاتی ہے جوتانہ مغل آباد میں مکھی کے متاثرہ مریضوں کا کہنا ہے کہ ہمیں موثر طبی امداد نہیں دی جاتی ہمیں ٹیکہ لگوانے کے لیے ضلع چکوال جانا پڑتا ہے زہریلی مکھی کے کاٹنے سے مریض کو بخار ہوجاتے ہے بعد ازاں جسم پر زخم کے نشان گہرے ہونے لگتے اس حوالہ سے محکمہ ہیلتھ کا کہنا ہے کہ سینڈ فلائی وبائی مرض نہیں ہے اس کی افزائش گندگی والی پتھریلی زمین میں ہوتی جہاں جہاں کیس رپورٹ ہوئے ہیں وہاں حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے سپرے کروائے جارہے ہیں جبکہ ویکسین کے بارے میں بھی محکمہ کو آگاہ کیا جاچکا ہے اس وقت پشاور سے 80سے زائد ٹیکے منگوائے گئے ہیں جوکہ مکھی کے متاثرہ مریضوں کو لگائے جارہے ہیں اور اس مرض کا علاج ممکن ہے اور یہ جان لیوا مرض نہیں



0 comments

Recent Posts

See All
bottom of page