top of page

تحصیل دینہ کے میڈیکل اسٹورز میں ان پڑھ عملہ تعینات،مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں

دینہ(رپورٹ:پروفیسر خورشید علی ڈار۔ Jhelumnews.uk)شہر دینہ کے میڈیکل سٹورز کو قتل گاہ کہنا قرینہ انصاف ہوگا ڈپٹی کمشنر جہلم اور سی ای او ہیلتھ جہلم مفاد عوام حسب ضرورت توجہ دیں ۔

سماجی و سیاسی زعماء دینہ ۔تفصیلات کے مطابق اس وقت شہر دینہ اور ملحقہ قصبات میں تقریباً پندرہ سو میڈیکل سٹورز وجود رکھتے ہیں مقام افسوس و حیرت اکثریت کے پاس کوالیفائیڈ عملہ موجود نہیں ہوتا ان پڑھ نوجوان بچے میڈیسن فروخت کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں یہ امرسراسر عوام کے ساتھ ظلم ہے ڈاکٹر کے نسخہ کے مطابق جب میڈیسن نہیں ملے گی تو مریض یقیناً اس سے شدید متاثر ہوگا وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ پندرہ فیصدی مالکان میڈیکل سٹورز اپنے گھروں میں آرام فرما رہے ہوتے ہیں جبکہ ان پڑھ ملازمین کھلے عام میڈیسن کی شکل میں موت تقسیم کر رہے ہوتے ہیں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کو چک کیوں نہیں کیا جاتا انتظامیہ اس قدر بےبس کیوں ہیں اس جرم کے ساتھ ساتھ غیر معیاری ادویات نیز ایکسپائری ڈیٹ والی میڈیسن بھی فروخت ہوتی ہیں شہر دینہ کے سیاسی و سماجی زعماء نے ڈپٹی کمشنر جہلم اور سی ای او ہیلتھ جہلم سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے حاصل شدہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کریں تاکہ عام شہری ان کی شر سے محفوظ رہ سکیں گزشتہ ایک سال کے اندر تقریباً 20 شہری غلط میڈیسن استعمال کر کے صحت مند زندگی سے محروم ہو چکے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے بلاشبہ شہر دینہ کے میڈیکل سٹورز کو قتل گاہ کہنا قرینہ انصاف ہوگا


0 comments

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page