top of page

تحصیل دینہ میں سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کی کوریج والے صحافیوں کے ساتھ ان رہنماؤں کا ناروا سلوک۔اپنی نمائش پر لاکھوں کروڑوں خرچ کرنے والے یہ سیاست دان وقت آنے پر’’ ٹرکالوجی‘‘ پالیسی پر گامزن۔

دینہ( رپورٹ: پروفیسر خورشید ڈار)تحصیل دینہ میں سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کی کوریج والے صحافیوں کے ساتھ ان رہنماؤں کا ناروا سلوک۔اپنی نمائش پر لاکھوں کروڑوں خرچ کرنے یہ سیاست دان وقت آنے پر’’ ٹرکالوجی‘‘ پالیسی پر گامزن۔ اخبار کے لئے بزنس مانگنے پر آئیں بائیں شائیں کرنے لگتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بلاشبہ صحافت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے صحافی برادری ہمیشہ سیاست دانوں کی خوش دلی کے ساتھ کوریج کرتی ہے موسمی اثرات کا بھی صحافیوں پر اثر نہیں ہوتا اگر کسی سیاسی جماعت کا سربراہ لاہور سے تشریف لائے تو شہر دینہ کے صحافی اپنا فرض سمجھ کر دن رات کوریج کرتے ہیں مقامی سیاسی زعماء لاکھوں روپے ٹرانسپورٹرز پر خرچ کرتے ہیں اپنے سپورٹرز کو معیاری ناشتہ کرواتے ہیں مذکورہ بالا کام کی بھی صحافی کوریج کرتا ہے مقام افسوس جب صحافی اپنے ادارے کے لیے بزنس مانگتا ہے حالانکہ یہ اس کا حق ہے کہ انتہائی خوبصورتی سے سیاسی زعماء صحافیوں کو مایوس کرتے ہیں۔قائد مسلم لیگ نواز شریف جب انگلینڈ سے پاکستان آئے تو ن لیگ سابق ایم این ایز،سابق ایم پی ایز نے میاں برادران کی خوش آمد کے لئے ہر حد پار کر دی۔ لاکھوں خرچ کر ڈالے۔ مگر جب صحافی جو ان کی سرگرمیوں کی ہر دم کوریج کرتے رہتے ہیں۔ان کو کورا جواب دے دیتے ہیں۔بلاشبہ سیاست دانوں کا طرز عمل کسی بھی حوالے سے قابل تعریف نہیں ہے صحافی بھائی اپنے اندر اتحاد پیدا کر کے اپنے جذبات سے سیاسی زعماء کو آگاہ کریں تاکہ قلم کا استعمال ہمیشہ کے لیے مثبت استعمال ہوسکے

0 comments
bottom of page