top of page

آزادی اورحقیقی آزادی میں فرق تحریر: مولانا امیر محمد اکرم اعوان ؒ

www.Jhelumnews.uk


آزادی اورحقیقی آزادی میں فرق

تحریر: مولانا امیر محمد اکرم اعوان ؒ

اگست کا مہینہ ہے ،سرکاری اور سیاسی سطح پر جشن آزادی منانے کی تیاریاں زوروں پرہیں یقیناً اس کا خرچہ اربوں تک جائیگا چونکہ کروڑوں کا خرچ تو یہ قوم بسنت منانے پہ کرتی ہے ۔میرے خیال میں جشن آزادی ا ن لوگوں کو منانا چاہیے جو واقعی آزاد ہوں اور اس کانام جشن آزاد ی صحیح نہیں ہے بلکہ یہ ایک یادگار دن ہوتا ہے اور یہ دن آنے والی نسلوںکو حصول آزادی کے لئے جو قربانیاں دی گئیں، جو مشکلات پیش آئیں اور جو قیمت ادا کی گئی ،سے آگاہ کیا جاتا ہے تا کہ وہ اپنی اس آزادی کو ایک عام سی بات نہ سمجھیں ان کے علم میں ہوکہ اس کے لئے کتنی جانیںدی گئیں؟کتنے گھر قربان ہوئے؟کتنی جاگیریں اجڑیں؟کتنی عزتیں لٹیں؟ کتنے لوگ قید و بند کی صعوبتوںسے گزرے؟ اورکتنے لوگوں کے وجود خاک میں ملے؟ تب جا کر کچھ لوگوں کو آزادی نصیب ہوئی۔

جشن تو ایک فضول سی اچھل کود،تفریح اور تماشے کا نام ہے، آزادی کا جشن نہیںہوتا۔یوم آزادی تو ایک تاریخی اور یادگار دن ہوتاہے جسے پوری متانت اور سنجیدگی سے منایا جائے۔ سجدہ شکر بجا لاتے ہوئے آزادی کی تاریخ دہرائی جائے۔ پٹاخوں پر اور رنگ برنگی جھنڈیوں پر پیسے ضائع کرنے کی بجائے بیوہ عورتوں کی نگہداشت او ر تعلیم میں مستحق کی مددپر خرچ کیا جائے ۔ جس طرح اسلام میںعید منائی جاتی ہے کہ اﷲ کا شکر بھی ادا کیاجائے اور ہر مفلس بے کس و بے بس کو اچھے کھانے میں شریک بھی کیاجائے اسی طرح آزادی کا دن منایا جانا چاہیے کہ کم از کم ایک صبح کو تو چودہ کروڑ بندوں میں سے کوئی بھوکا نہ رہے ،کسی کی آبرو نہ لٹے، کیا کوئی ضمانت دے سکتا ہے کہ چودہ اگست کو کہیں ڈاکہ نہیں ہو گا؟کسی کی آبرو نہیںلٹے گی ،کہیں چوری نہیں ہو گی، کوئی رشوت نہیں لے گا۔اگر یہی سب کچھ ہونا ہے تو آزادی کس بلا کا نام ہے؟ اور جب ہمارے سوچنے پر پابندی ہے۔ تعلیم ہم اپنی مرضی سے حاصل نہیں کر سکتے۔ سیاست اپنی مرضی سے نہیںکر سکتے ۔عدلیہ میں ہمارا دخل نہیں ہے۔ جہاں ہمیں اسلام کو اپنا طرز حیات بنانے کا اختیار نہیں وہاں جشن آزادی کیسا؟

لوگ کہیں گے جی کیوں اختیار نہیں؟ ہم نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں ،اذانیں دیتے ہیں، حج اداکرتے ہیں اورزکوٰۃ بھی دیتے ہیں ۔ موجودہ دورمیں اسلام کا سب سے بڑا دشمن اوربدترین ریاست اسرائیل ہے۔ کیااسرائیل کے قبضے، امریکہ،جاپان میں جو مسلمان ہیں وہ نمازیں نہیں پڑھتے ،روزے نہیں رکھتے اور حج نہیں کرتے ۔ہندوستان میں جو مسلمان ہیں وہ ہم سے زیادہ نیک ہیں نمازیں پڑھنا آزادی نہیں ہے۔ہم تو نماز بھی آزادی سے نہیںپڑھ سکتے۔ جبکہ ہندوستان میں پہرے کے بغیر پڑھی جاتی ہے۔

دور غلامی میں جنہیں غلام رکھا جاتا تھا ان کے کھانے، پینے ،لباس اور سونے جاگنے کی فکرمالک کوہوتی تھی ۔کام تواس سے رات دن لیتا تھالیکن اس کے زندہ رکھنے کی فکراسے ہوتی تھی۔اب اس نئے زمانے میں غلامی کے انداز بھی بدل گئے کہ غلام کام توآقاکے لئے کرے اور اپنی حیات کی فکر بھی خود کرے۔ یہ جدید دور کی غلامی ہے۔آپ نے دیکھا دیہات میں یا بھٹوں پر یا خانہ بدوشوں کے پاس عام قسم کے گدھے ہوتے ہیں کچھ گدھے بھی خوش نصیب ہوتے ہیں کہ وہ دانہ کھاتے ہیں۔ کچھ ان سے دوسرے درجے پرہوتے ہیں جنہیں چارا اورسوکھی گھاس تومل جاتی ہے ۔ایک تیسرے درجے کے گدھے ہوتے ہیں ان پر وہ سارا دن بھٹے پر مٹی ڈھوئیں گے خانہ بدوش جھگیاں لاد کر چلیں گے زمیندار کھاد ڈھوتا رہے گا سارا دن اس پر اور جب کام ختم ہوگا تو اس پر سے پالان وغیرہ اتار کر اسے ڈنڈا مارے گا کہ جاؤ اپنا پیٹ بھرو وہ بے چارا کسی روڑی کے ڈھیر پہ کھڑا ہے یا کسی گلی سے گھاس کھا رہا ہے کہیں سے اپنا پیٹ بھرکے خود آئے گاصبح اس کی پشت پر پھر پالان ہو گا،مالک کا ڈنڈا اور بوجھ بھی کمر پر ہو گا۔ہم بھی ضرور جشن منائیں کہ ہم بھی تیسرے درجے کے انسان بن گئے اسی لئے ہمیں تھرڈ ورلڈ کہا جاتا ہے تھرڈ ورلڈ کے پیچھے فلاسفی یہی ہے کہ ہماری مرضی کے مطابق دن رات کام کرو۔

علمائے کرام کو یاد ہو گا کہ انگریز کی حکومت میں جب امن قائم ہو گیا، جھگڑے ختم ہو گئے،سکھوں کی حکومت ختم ہو گئی، ریاستوں نے سرنگوں کر دیا اور بنگال سے لے کر کابل کی سرحد تک اور ہمالیہ سے دکن تک تاج برطانیہ کی حکومت قائم ہو گئی ۔ایک قانون کی علمداری ہو گئی، عدالتیں بن گئیں،زمین کے بندوبست ہو گئے ،بظاہر سارا امن قائم ہو گیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوا کہ جب انگریزوں کے خلاف جہاد ہو رہا تھا تو اس وقت برصغیر دارالحرب تھا اب کیا یہ دارالامن قرار پائے گا؟علماء کا متفقہ فیصلہ یہ تھا کہ برصغیرمسلمانوں کے لئے دارالحرب ہے کہ بظاہر قتل وغارت گری نہ سہی لیکن مومن کی معاش ،تعلیم،انصاف کے اداروں،عدلیہ، اقتدار اعلیٰ اور سیاسیات کے راستوں پر کافرانہ نظام کا غلبہ ہے لہٰذا اس میں جہاد فرض ہے اور یہ دارالحرب ہے۔ جب یہ دارالحرب قرار دیا گیا تو ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا ۔کیا اب پورے برصغیر میں جمعے کی نماز چھوڑ دی جائے ؟جس پر یہ فیصلہ ہوا کہ جمعے کی نماز نہ چھوڑی جائے لیکن جمعے کے بیان یا خطبے اور دو فرض ادا کرنے کے بعد چار رکعت ظہر کے بطور احتیاط ادا کیے جائیں۔ نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد اس لئے برقرار رکھا گیا کہ پورے برصغیر میں جمعہ بند کرنا مناسب نہیں ہے لیکن چونکہ دارالحرب ہے ،جمعہ ادا نہیں ہو گا لہٰذا احتیاطً جمعہ پڑھنے کے بعد اپنے چار رکعت فرض ظہر کے دہرا لیجئے۔

آزادی ہمیں کس بات سے حاصل کرنی تھی؟کافرانہ نظام سے ،سود کے معاشی نظام سے آزادی چاہیے تھی، عدلیہ میں وہ قانون چاہیے تھا جو اﷲ کے رسول ﷺ نے اﷲ کی کتاب کی صورت میں عطا فرمایا۔سیاسیات کا وہ راستہ چاہیے تھا جو آزادانہ ہے ۔جو اﷲ اور اﷲ کے رسول ﷺ نے عطا فرمایا ۔تعلیم وتعلم میں وہ انداز چاہیے تھا جو آزاد ہو ۔جو غیر کی چھاپ سے پاک ہو ۔جو آدمی کو علم عطا کرتا ہو۔ ہمارا نظام تعلیم علم عطا نہیں کرتا خبر دیتاہے۔ اخبار میںسارے جہان کی خبریں چھاپ دو اس کی صحت پرکوئی اثر نہیں پڑتا ۔اگریہ حال انسان کا ہو تو وہ بدکار ہے تو بدکارہی رہے گا، چور ہے تو چور ہی رہے گا، سست ہے تو سست ہی رہے گا، بے دین ہے تو بے دین ہی رہے گا اور لکھنا پڑھناسیکھ جائے جمع تفریق بھی سیکھ جائے تو اسے علم سمجھنا نادانی ہے۔

انگریز نے جو نظام تعلیم بنایا ۔وہ یہاں علم تقسیم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے تو علم کے راستے روکے لیکن کاروبار سلطنت چلانے کے لئے جس طرح کمپیوٹر میں خبر فیڈ کی جاتی ہے اس طرح کچھ ذہنوں میں اعدادوشمار یا الفاظ و حروف ثبت کرنا چاہتا تھا کہ وہ چٹھی پڑھ سکیں ،دو اور دو چار جمع کر سکیں۔ علم وہ ہوتا ہے جو انسان کی سوچ بدل دے ،اس کا حال بدل دے ،اس کی فکر بدل دے،۔اس کا نظریہ تبدیل کر دے، اسے معاملات میں وہ شعور عطا کردے جو حقیقت پر مبنی ہو ۔

اب علم بھی نہیں ہے ۔اپنی آزادی سے ہم کوئی چیز خرید بھی نہیں سکتے خواہ مخواہ عجیب و غریب ٹیکس ادا کرنے پڑتے ہیں اپنی مرضی سے ملکی منصوبے نہیں بنا سکتے ،اپنی مرضی سے سفیر اور وزیر مقرر نہیں کر سکتے اور اگر یہ کہا جائے کہ ہم اپنی مرضی سے جرنیل بھی نہیں بنا سکتے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہو گا۔ہمارے ایک ریٹائرڈ آرمی چیف جو وائس چیف بھی بڑا عرصہ رہے ایک دن فرمانے لگے کہ اس ملک میں جتنے بھی آرمی چیف آئے ہیں وہ مغربی طاقتوں نے بنوائے ہیں۔تو کیا ایسے لوگوں کو اپنے آپ کو آزاد سمجھنے کا اور جشن آزادی پہ اربوں روپیہ لٹانے کا کوئی حق پہنچتا ہے؟ کیا مداری کا بندر آزاد ہوتا ہے؟کیا فال نکالنے والے کاطوطا آزاد ہوتا ہے؟ہماری آزادی اسی پالتو طوطے کی آزادی ہے کہ فال نکالو،چوری کھاؤ ،مٹھائی کھاؤ،میوہ کھاؤ اور پھر پھرا کر پھر اسی پنجرے میں جا کر آرام کرو ۔

ایک جگہ ہسپتال بنتا ہے کسی غریب کو صرف یہ سپورٹ ملتی ہے کہ وہ ہسپتال جاتا ہے ڈاکٹر کہتا ہے شام کو میرے گھر یا کلینک پہ آنا ۔جہاں اسے مفت دوائی ملتی مفت معائنہ ہونا چاہیے وہاں نہیں ہوتا ،وہ گھر پہنچتا ہے، اسے پانچ روپے کی دوا پچاس میں دیتے ہیں اور پھر یہ ضروری نہیں کہ دوائی اصل بھی ہو۔

پاکستان میںکتنے سکول ایسے ہیں جن میں اساتذہ نے باریاں بنا رکھی ہیں اگر دس ہیں تو پانچ آئیں گے ۔ اگلے دن وہ پانچ ہوں گے دوسرے پانچ نہیں ہوں گی۔ تنخواہ دس لے رہے ہیں۔کام تین چار پانچ کر رہے ہیں۔ انفرادی طور پر کتنے لوگ اس پر احتجاج کرتے ہیں درخواستیں بھی دیتے ہیں ۔اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا جوجرم کرتا ہے پولیس سے بانٹ کر کھاتا ہے اس سے کوئی نہیں پوچھتا جو پولیس کو حصہ نہیں دیتا وہ پکڑا جاتا ہے۔پولیس بھی جانتی ہے کہ اس علاقے میں جس کے لوگوں نے برطانوی عہد میں الآمین اور برلن سے لے کر جاپان کے مورچوں تک داد لی تھی۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے جاپانیوں کے ایراوتی کے مورچے توڑے تھے جہاں سے اس کی شکست ہوئی تھی اور رومیل کو شکست دے کر الآمین کا مورچہ چھینا تھا۔ ابھی بھی لوگ زندہ ہیں۔اسی زمین کے بچے تھے جنہوں نے چونڈہ میں ہندوستانی ٹینکوں سے ٹینک ٹکرا دیے تھے ۔تعلیمی سہولت نہیں ہے لیکن پدھراڑ سے لیکر خیرپور تک دیکھ لو کہوٹ جیسے پسماندہ گاؤں نے بھی اس قوم کو جرنیل دیئے کتنے قابل لوگ اس علاقے کے ایک ایک گاؤںنے دیئے لیکن علاقے میں سہولت کیا ہے؟ جو بچے بھیڑیں چراتے مر جاتے ہیں اگر انہیں تعلیم دی جاتی تو شاید ان میں کتنے دانشور، ادیب، شاعر، عالم اور جرنیل ہوتے یہ بنیادی اوراجتماعی مسائل ہیںہمارے۔

انگریز نے برصغیر میں پہلے سے رائج اسلامی نظام کو اول و آخر تبدیل کرکے اپنا نظام نافذ کر دیا جب ہم آزاد ہوگئے تو آزادی کا معنی تو یہ تھا کہ ہم اس پورے نظام کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیتے اور اپنا نظام رائج کرتے لیکن آزادی ہے کہ قوم پر وہی استحصالانہ نظام نافذ ہے۔ ہمارے ہاتھوں میں وہی زنجیریں ہیں وہی بیڑیاں ہیں۔گلے میں وہی طوق ہیں اگر تبدیلی آئی تو صرف اتنی کہ انگریز آقا کی جگہ مقامی آقا آگئے۔مقامی لوگوں میں سے جو ملک کے غدار اور انگریز کے وفادار تھے اپنے ان خدمت گاروں کو انگریز جاتے ہوئے ان زنجیروں کا سرا پکڑا گیا اور ہمیں ا خوش فہمی میں مبتلا کر گیا کہ ہم آزاد ہیں۔

کیا کسی آزاد ملک میںایسا ہونا ممکن ہے ؟کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سمیت ساٹھ ججوں کو آن واحد میں کوئی حکمران اٹھا کر پھینک دے اور ان کا کوئی فریاد رس بھی نہ ہو کسی آزاد ملک کے کسی شہری کو بیچ بازار کوئی اٹھا کر گوانتا ناموبے کی جیل بھجوا دے اور اس کے بیوی بچے لا پتہ افراد کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہیں اور ان کی

فریاد سننے والا کوئی نہ ہو ۔یہ آزادی نہیں بدترین غلامی ہے،ہم غلاموں کے غلام بن چکے ہیں۔

نظام حیدرآباد دکن جشن آزادی منا رہے تھے ان کے ایک وزیرنے حفیظ جالندھری سے کہا کہ آپ بھی قصیدہ لکھیں ۔انہوں نے قصیدہ لکھا جس میں اسی شعر تھے ۔انہوں نے وہ قصیدہ نظا م صاحب کے سامنے پڑھا ۔وہ نصف تک پہنچے تو نظام صاحب اٹھ کر ناراض ہو کر زنان خانے میں چلے گئے اوروزیر صاحب نے حفیظ صاحب کو اپنی گاڑی میں بٹھایا حیدر آباد کے بارڈر پر پہنچ کر کہا کہ اب آگے مجھے نہیں پتہ کیاکرو گے لیکن حیدر آباد سے نکل جاؤ یہاں زندہ نہیں بچو گے۔ حفیظ جالندھری نے کہا تھا کہ

سانپوں کو آزادی ہے آباد گھروںمیں بسنے کی

سر میں ان کے زہر بھی ہے اور عادت بھی ہے ڈسنے کی

شاہین کو آزادی ہے آزادی سے پرواز کرے

اور ننھی ننھی چڑیوں پر جب چاہے مشق ناز کرے

شیروں کو آزادی ہے آزادی کے پابند رہیں

جس کو چاہیں چیریں پھاڑیں کھائیں پیئں آنند رہیں

مجھے اس قصیدے کے یہ تین شعر یاد رہ گئے ہیں۔ جشن ہمیں بھی ضرور منانا چاہیے کیوںکہ حیدر آبادی آزادی ہمیں بھی حاصل ہے۔سانپ ،بھڑیے ،شیر ،جواری اورشرابی بھی آزادہیں ۔بدکاری کے اڈے چلانے والے اور جوا خانے بھی آزادی سے چل رہے ہیں۔قوم میں غیرت کا فقدان ا س حدکو چھو رہا ہے کہ جگہ جگہ سے خطوط آتے ہیں کہ جی فلاں جگہ یہ ہو رہاہے اس کیلئے کچھ کیاجائے نیچے لکھا ہوتا ہے ایک خیر خواہ،خدا کا ایک بندہ ۔اب اپنا نام لکھنے کی جرأت نہیں ہے۔جہاں غیرت یا ایمان نہیں ہوتا وہاں احتجاج نہیں کیا جاتا ۔پیشہ ور عورتوں کے جو دلال ہوتے ہیںان کے خاندان کے لوگوں میں غیرت نہیں ہوتی وہ احتجاج نہیں کرتے ۔کون ان کے گھر آیا؟ کب آیا؟ کب گیا ؟کبھی سنا آپ نے کہ کسی نے احتجاج کیاہو؟جس بند ے میں اتنی غیرت نہیں ہے کہ وہ اپنا نام ظاہر کرے تو بے غیرت کو احتجاج کرنیکا حق نہیں ہوتا۔

آزادی، آزادی فکر کا نام ہے۔ آ زادی ،آزادی حیات کانام ہے ۔آزادی ایک ایسی نعمت ہے جس کے حصول کے لئے بڑی جدوجہد کرنا پڑتی ہے ۔بڑی قربانیاں دینا پڑتی ہیں لیکن جب مل جاتی ہے تو پھر اس کے لئے رو زلڑنا پڑتا ہے ۔اپنے آپ سے ،افکاراور حالات سے کہ پھرآزادی نہ کھو بیٹھیں۔ آزادی کی حفاظت کے لئے ہر طلوع ہونے والا سورج جدوجہد کا پیغام لے کر آتا ہے اور جو نہیں کر سکتے وہ آزاد نہیںرہتے اب زمانہ بدل گیا ہے۔

نیرنگی سیاست دوراں تو دیکھئے

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

عبدالرب نشتر نے اس شعر میں فرمایا کہ سیاست کی نیرنگیاں بھی عجیب ہیں جو اس وقت آزادی کی مخالفت کرتے تھے آج وہ اقتدار میں ہیںاور ہم جنہوں نے جانیں لڑائیں ان کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں کہ یہ کیسے لوگ ہیں؟

میں یہ بات باور کرانا چاہتاہوں کہ ہمیں جشن آزادی زیب نہیںدیتا کہ ہم آزاد نہیں ہیں بلکہ ہمیں ابھی حصول آزادی کی جدوجہد کرنا ہے۔جہاںہم اپنے عقیدے کا مطابق اپنے معاشی ،عدالتی ،سیاسی، تعلیمی معاملات ،اپنا مستقبل اور اپنا حال قرآن وسنت کے سانچے میں ڈھال سکیں ۔جہاں ہر ایک کے لئے سلامتی ہو۔ امن ہوہر ایک کو انسانی حقوق ملیں ہر ایک کے لئے عبادت کی آزادی ہو ۔،رزق حلال میسر ہو۔ عزت و آبرو کا جانومال کا تحفظ میسر ہو ۔ہمیں وہ اسلام چاہیے اور وہ ہماری خواہش وآرزو سے اور نری دعاؤں سے نہیں ملے گا۔جن لوگوں نے صرف گوشہ نشینی اور دعاؤں پہ تکیہ کیا ہے انہیں یہ بتا دوں کہ دعا کا سلیقہ یہ ہے کہ

مکے کے ہزار ٹرینڈجانباز اور منتخب لڑاکے شہسوار وافر راشن، وافر اسلحہ،وافر سواری،تمام اسباب جنگ کے ساتھ بدر میں خیمہ زن ہیں اور دوسری طرف اﷲ کا حبیب ﷺ کے ساتھ تین سو تیرہ افراد کل چھ زریں، دو گھوڑے ،آٹھ تلواریں، کچھ تیر کمانیں اورراشن میں پانچ پانچ کھجوریں ۔لشکر کو صف آرا کرکے نبی رحمت ﷺ نے عریش بدرمیںدعا کے لئے دست مبارک اٹھا دیئے۔ اے اﷲ آج میں سارے کا سارا اسلام لے آیا ہوں اگر یہ لوگ یہاں کھیپ رہے ’’فلن تعبدا ابدا‘‘قیامت تک لوگوں کی پیشانیاں تیرے سجدوں سے محرو م ہوجائیں گی۔مکے کے چیدہ چیدہ کافر مارے گئے ستر قید بھی ہو گئے بڑے بڑے جواں مرد اور بڑے بڑے پہلوان ۔جب ہم نتیجے پر پہنچتے ہیں تو پتہ چلتا ہے محمد رسولﷺ کی عریش بدر کی دعا کا نتیجہ تھا ۔جب دعا ہی سے سارا کام ہونا تھا تو حضورﷺ مدینہ طیبہ میں ہاتھ اٹھا دیتے تو کام ہو نہ جاتا ۔لیکن دعا کا سلیقہ سکھایا۔نبی علیہ الصلوۃوالسلام نے کہ جوتمہارے بس میں ہے وہ کر گزرو،ڈیڑھ سو کلو میڑسفر کرو، بدر میں پہنچو،روزہ قضا کرو، ٹوٹا پھوٹا اسلحہ ہے لے آؤ ،اپنی جان حاضر کرکے اب موقع ہے دعا کا اب دعا کرو خدایا مدد کر۔

محمود غزنوی نے ہندوستان پرسترہ حملے کئے اس کا ٹارگٹ سومنات کا بت تھا۔ وہاں جب پہنچا تو ہندوستان کے سارے ہندو راجے مہاراجے اس بت کی حفاظت کے لئے اکٹھے ہو گئے تب سلطان نے زمین پر سر رکھ کر اﷲ کو پکارا کہ اے اﷲ میں نے سترہ حملے کیے جان لڑا دی بندے شہید کرائے غزنی سے گجرات کاٹھیاواڑ تک کا راستہ صاف کیا اب تیری عطا سے میں یہاں پہنچا ہوں۔اب مجھے یہاں سے نامراد نہ لوٹانا۔پورے ہندوستان کے لشکر تھے اﷲ نے ایسی مدد کی کہ سب کو شکست ہوئی اور سلطان اس بت کو توڑ کر لے گیا اور غزنی کی مسجد کی سیڑھیاں اوردروازے بنا دیں۔اب وہ غزنی میں دعاکرتا کہ اﷲ مجھے سومنات پر فتح دے دے تو وہ مسنون طریقہ نہ ہوتا ۔

صلاح الدین ایوبی ساری عمر لڑتا رہا جب بیت المقدس کے دروازے پر پہنچا تو ہاتھ اٹھا دیئے کہ اﷲ یہاں تک پہنچنا میرے ذمے تھا اسے آزاد کرانا تیراکام ہے۔اے دعا گوؤو ! دعا مانگو میدان میں نکل کر ،اپنا نام لکھ کر مشورے مت دو ،اپنی جان پیش کر کے دعا مانگو دین برحق کے غلبے ،انصاف کے قیام ، حقوق انسانی کی بحالی، غریب کو بھی زندگی میں حصہ دینے ،غریبوں کے بچوں کی تعلیم،غریبوں کے علاج معالجے ،ان کے اسلامی اور انسانی حقوق کی بحالی کے لئے میدان میں اترواور پھر دعا مانگو ۔وہ قادر ہے، حیی وقیوم ہے ۔نبی علیہ السلام بھی وہی ہیں۔ کتاب بھی وہی اور دین بھی وہی ہے۔ ہم بدل گئے ہیں اگر ہم ٹھیک ہو جائیں تو فرشتے آج بھی اتر آئیں گئے۔اﷲکریم ہماری قوم کو آزادی کا شعور دے اور اس کی قدروقیمت سے آگاہ کرے اور اسے قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آزادی اﷲ اور اﷲ کے رسول ﷺ کی غلامی کانام ہے اس سے باہر آزادی کا کوئی تصور نہیں۔


0 comments

Recent Posts

See All

پر امید نگاہیں۔۔۔۔۔۔۔۔حافظ محمد ندیم عنصر(دینہ)

پر امید نگاہیں موسم بہار کی صبح ہے نکھری نکھری اور اجلی اجلی سی فریش اور معطر فضا چالیس کی سپیڈ پہ بائیک منگلا روڈ کی سنگل سڑک پر ڈبل ٹریفک میں لگاتار اور بے جا ہارن، ٹریفک بغیر سگنل اور قانون کے رواں

bottom of page