top of page

اپنی اولاد کودنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم سے بھی آراستہ کیا جائے ،امیر عبدالقدیر اعوان



دینہ (رضوان سیٹھی سے)اولاد کی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ جہاں انہیں دنیاوی تعلیم دی جا رہی ہے وہاں دینی تعلیم سے بھی آراستہ کیا جائے کیونکہ دینی علوم ہی بچوں کو مقصدِ حیات سے آگاہ کرتے ہیں ،آج ہمارے ہاں دنیاوی تعلیم کو ہی اہمیت دی جا رہی ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں تربیت کا فقدان پایا جا رہا ہے،امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہر کوئی کوشش کر رہا ہے کہ اس کی اولاد اچھی تعلیم حاصل کرے اس سارے کا مقصد یہ ہے کہ دنیاوی زندگی میں کامیابی حاصل کرے،دنیاوی علوم کا حصول شرعاً منع نہیں ہے بلکہ آپ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے،کیا آج ہم اپنے بچوں پر اپنا وقت،مال خرچ کر کے دنیاوی تعلیم نہیں دلوا رہے،ہم نے ان کی دینی تعلیمات کے لیے کیا اقدام اُٹھایا انہیں نماز کا پابند بنایا جس کا حکم موجود ہے،9،10 سال کی عمر تک بچے کو نماز کا پابند بنا رہے ہیں ، ہر کافر مشرک کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ اپنی تمام عبادات کا حاصل دنیاوی منفعت سے چاہتا ہے،تو بندہ مومن کی عبادت کا معیار محض اللہ کی رضا ہونا چاہیے، بچوں کی تربیت کا فقدان اس حد تک نیچے گیا ہے کہ بچے کہتے ہیں یہ ہماری زندگی ہے اس میں مداخلت نہ کریں یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ جب ہم نے اپنا تعلق اللہ کریم سے کمزور کر لیا ہے جس وجہ سے معاشرے اور گھروں میں تناؤ پید ا ہو گیا ہے،عورتوں کے حقوق پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جن عورتوں کے خاوند فوت ہو جائیں تو وہ اپنے آپ چار ماہ دس دن تک روک کر رکھیں ،یہ عرصہ عدت کا ہے جس میں وہ اپنے گھروں میں رہیں بناؤ سنگھار نہ کریں اس کے بعد وہ معروف طریقے سے نکاح کر سکتی ہیں اور اگر نہ بھی نکاح کریں تو کوئی گناہ نہیں ہے،نکاح،طلاق اور عدت وغیرہ یہ شرعی احکامات ہیں جن پر عمل ضروری ہے

0 comments
bottom of page