top of page

انتہائی قابلِ غور باتیں* (قسط نمبر2) بقلم: *ڈاکٹر فیض احمد بھٹی*

*انتہائی قابلِ غور باتیں* (قسط نمبر2)

بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

✓سوچنے کی بات ہے کہ ڈاکٹرز اور حکما کی ایڈوائز پر بندہ کئی من پسند اور حلال چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے۔ *مگر* شہنشاہِ مطلق رب العالمین کے منع کرنے کے باوجود حرام کام اور حرام چیزیں نہیں چھوڑتا۔

✓کچھ اس قبیل کے لوگ بھی ہیں جو دوستوں یا پڑوسیوں کے ماں باپ کی عزت و احترام تو کرتے ہیں، ان کا کہنا مانتے ہیں، انکی خدمت کرتے ہیں۔ *جو کہ* اخلاقاً ایک اچھی بات ہے۔ *مگر* انہیں اپنے ماں باپ کی عزت کا کوئی خیال نہیں ہوتا، ان کا کہنا نہیں مانتے، انکی خدمت کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوتی۔ بلکہ انکی نافرمانی کرتے ہیں۔ *کتنا* بڑا تضاد ہے یہ! *حالانکہ* اپنے والدین کی عزت، خدمت اور تابعداری شرعاً، اخلاقاً، اور قانوناً واجب ہے۔ *بلکہ* اس پر بروزِ قیامت سوال بھی ہوگا۔

✓بڑے تعجب کی بات ہے کہ ڈراموں اور فلموں میں ایموشنلز سینز دیکھ کر تو لوگوں کے دل پگھل جاتے ہیں، آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔ *مگر* اپنے گھر، خاندان، محلے یا معاشرے میں دکھوں، پریشانیوں اور بیماریوں میں گھرے ہوئے افراد کا ہمیں احساس و پاس نہیں ہوتا۔ نہ دل پسیجتے ہیں، نہ آنکھیں نمدار ہوتی ہیں۔

✓قبروں میں مدفون وفات شدگان کےلیے، بلکہ شجروں اور حجروں کےلیے تو طرح طرح کا قماش و طعام اور مال و زر پیش کیا جاتا ہے۔ *مگر* زندہ و جاويد افراد کی کوئی خبرگیری یا دستگیری نہیں۔ وہ بھوک و پیاس اور افلاس سے مر رہے ہیں۔ جنہیں بھوک مٹانے کےلیے خوارک میسر نہیں، جسم بچانے کےلیے پوشاک میسر نہیں، علاج کروانے کےلیے ادویات میسر نہیں، سر چھپانے کےلیے چھت میسر نہیں!

✓اگر کوئی وطنِ عزیز کی سالمیت کو تھریٹ کرے، دفاعی تنصیبات و املاک تباہ کرے، ایئر بیسزز کو آگ لگائے، محافظین (فوج و پولیس) پر قاتلانہ حملے کرے، شہدائے وطن اور انکی یادگاروں کی بے حرمتی کرے،،،، *تو* کہتے ہیں کوئی بات نہیں، *مطلب* بیسیوں حقوق کی پامالی کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، بلکہ یہ ان کا ایک احتجاجی حق ٹھہرا۔ *اور جب* اتنے خطرناک اور گھناؤنے جرائم سرانجام دینے والوں اور انکے سرغنوں کو گرفتار کیا جائے، قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، *تو* اسے ہیومن رائٹس کی وائیلیشن قرار دیا جاتا ہے۔ یعنی ایسے مجرمین کو سزا دینا حقوقِ انسانی کی پامالی کہا جاتا ہے۔

(جاری ہے۔۔۔۔)

0 comments
bottom of page