top of page

امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا لندن میں سراجا منیرا کانفرنس کے موقع پر خطاب


جہلم( ادریس چودھری Jhelumnews.uk)

الفاظ و بیاں سے کیفیات ِ قلبی کی حقیقت بیان نہیں ہو سکتی۔امیر عبدالقدیر اعوان

اسلام نے جو حقوق و فرائض کی تقسیم فرمائی ہے وہ ہماری ضرورت ہے۔ہماری زندگیوں کو خوشگوار بنانے کا سبب ہے۔یہ راستہ صرف اس دنیا میں نہیں بلکہ ابدی کامیابی کی طرف بھی لے کر جاتا ہے۔اللہ کریم ہر چیز کے مالک ہیں اپنی ضروریات اللہ کریم کے سامنے رکھیے اُس سے مانگا جائے وہ اس بات کو پسند فرماتا ہے۔وہ ضرورت بھی پوری فرماتا ہے اور اجرو ثواب بھی عطا فرماتا ہے۔نماز وہ عبادت ہے جو اللہ کریم سے ملاقات کا سبب ہے اُس کے حضور بندہ دن میں پانچ بار پیش ہوتا ہے جو بھی بات ہو وہ اللہ کریم کے سامنے پیش کریں وہ سب کی سننے والا ہے۔نماز وہ تعلق مع اللہ عطا کرے گی کہ بندہ بے حیائی اور برائی سے اجتناب کرے گا۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا بے نماز ہم میں سے نہیں،نماز تو بندہ مومن کی پہچان ہے۔

امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا لندن (انگلینڈ) میں سراجا منیرا کانفرنس کے موقع پر خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔

انہوں نے کہا کہ ذکر کی تین اقسام ہیں عملی ذکر،لثانی ذکر اور قلبی ذکر۔عملی ذکر میں ہر وہ نیک عمل جو ہم کرتے ہیں عملی ذکر میں داخل ہو گا۔دوسرے نمبر پر لثانی اذکار ہیں جن میں تسبیحات آتی ہیں جیسے درودشریف،تلاوت کوئی نیک بات یہ سب لثانی ذکر میں شمار ہو گا اور اس کے علاوہ ذکر خفی ہے جس میں نہاں خانہ دل سے اللہ کریم کو یاد کیا جائے۔ذکر خفی نصیب ہو تو یہ احساس زندہ ہوتا ہے کہ میں ہمہ وقت اپنے اللہ کے روبروہوں۔نبی کریم ﷺ کی حدیث جبریل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ کریم کی عبادت ایسے کرو جیسے تم اللہ کریم کو دیکھ رہے ہواگر یہ درجہ نصیب نہیں تو کم از کم یہ کیفیت ضرور ہو میرے اللہ کریم مجھے دیکھ رہے ہیں۔ذکر قلبی سے بندہ مومن کو یہ کیفیت نصیب ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپنی اولاد کو دین اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ترغیب دیجیے۔آج کے معاشرے میں ہم اپنا وجود کھو رہے ہیں۔ہم اتنی محنت اپنے بچوں کی بھلائی کے لیے کر رہے ہیں انہیں آخرت کی کامیابی کے لیے بھی تیار کیجیے۔اس جدت کے دور میں ایک گھر میں رہتے ہوئے ہر کوئی اکیلا محسوس کر رہا ہے ہر ایک کے ہاتھ میں سکرین ہے کوئی کسی سے بات تک نہیں کر رہا ہر کوئی اس سکرین پر لگا ہے۔ہمیں اپنی ضرورت کے طریقے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔جو اقدار ہمیں اپنے بڑوں سے ملی ہیں کیا ہم وہ اپنے بچوں میں منتقل کر رہے ہیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔

آخر میں انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد کی خصوصی دعا بھی فرمائی۔

0 comments
bottom of page