top of page

*امام ترمذی رحمه الله* (حيات و خدمات) بقلم: *ڈاکٹر فیض احمد بھٹی*


*امام ترمذی رحمه الله*

(حيات و خدمات)

بقلم: *ڈاکٹر فیض احمد بھٹی*

ذکر کردہ سلسلہ ہاۓ محدثین کے اگلے عظیم ستون امامِ ترمذی ہیں۔ خدمتِ حدیث کے اعتبار سے اپنے پیش روؤں کی طرح آپ نے بھی تاریخ میں ایک اعلی مقام پایا ہے۔

*آپکا نام* محمد، کنیت ابو عیسی ہے اور نسب نامہ کچھ یوں ہے: محمد بن عیسیٰ بن سورہ بن موسیٰ بن ضحاک سلمی بوغی ترمذی۔ آپ کی ولادت 210ھجری میں جبکہ وفات 279ھ میں ہوئی۔ آپ کے دادا مروزی تھے جو حضرت لیث بن یسار کے دور میں "مرو" سے "ترمذ" منتقل ہوئے، پھر وہیں سکونت اختیار کر لی۔ ترمذ میں پیدائش و سکونت کی وجہ سے آپ "الترمذی" کی نسبت سے مشہور ہوئے۔

*امام ترمذی* کے بارے میں ایک قول ہے مشہور ہے کہ آپ پیدائشی طور پر نابینا تھے۔ مگر صحیح بات یہی ہے کہ آپ بینا ہی تھے تاہم پیرانہ سالی، کثرتِ اسفار اور تسلسل کے ساتھ حدیثِ رسول ﷺ لکھنے لکھانے، پڑھنے پڑھانے کی وجہ سے آپ کی بصارت جاتی رہی۔ جیسا کہ حافظ ذہبی اور حافظ مزی نے بیان کیا ہے۔ یہ بات بھی بڑی دلچسپ ہے کہ "سنن الترمذی" کے مشہور شارح محدث عبدالرحمن مبارکپوری بھی آخری عمر میں نابینا ہو گئے تھے۔

*قارئین!* اُس وقت رائج طریقہ تعلیم کے مطابق امام ترمذی نے بھی حدیث اور علوم حدیث کی تحصیل و سماع کےلیے بلاد اسلامیہ کے مشہور علمی مراکز کا رُخ کیا۔ چنانچہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، بغداد، بصرہ، واسط اور خراسان وغیرہ کے جید علماء سے سماع حدیث کیا۔ حافظ ذہبی اور حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: امام ترمذی نے خراسان، عراق اور حجاز کے معتبر رُواۃِ حدیث کی ایک بڑی تعداد سے سماعِ حدیث کیا۔ نیز نیساپور، مرو اور اصبہان وغیرہ کے محدثین سے بھی استفادہ کیا۔ آپ کا زمانہ چونکہ علومِ حدیث کے عروج و کمال کا زمانہ تھا اس لیے آپ نے بڑے نامور محدثین سے احادیث سنیں اور روایت بھی کیں۔ حافظ ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ اور سیر أعلام النبلاء میں آپ کے اساتذہ و شیوخ کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے۔ *جبکہ* امام بخاری کی شاگردی میں آپ نے ان سے از حد استفادہ و افادہ کیا۔

*قارئین!* "علمِ عِلل الحدیث" ایک نہایت اہم اور نایاب علم ہے۔ جس کے ماہرین بہت قلیل تعدا میں گذرے ہیں۔ امام ترمذی کو بھی علم العلل کے ماہرین میں شمار کیا جاتا ہے۔

*آپ نے* نہایت دلجمعی اور محنتِ شاقہ سے حدیث رسول ﷺ کا ایک عظیم المرتبت مجموعہ تالیف کیا۔ جسے دنیا آج سنن ترمذی یا جامع ترمذی کے نام سے یاد کرتی ہے۔

*جامع ترمذی* کی عظمت و امتیاز میں یہ بات شامل ہے کہ محدثین کے نزدیک یہ کتاب آحادیث رسول ﷺ کے ساتھ ساتھ کئی دیگر علوم و فنون پر بھی مشتمل ہے۔ جن میں سے بعض علوم کا تذکرہ علامہ ابن العربی المالکی نے اپنی کتاب (عارضة الأحوذی شرح الترمذي) اور بعض کا امام جلال الدین السیوطی نے اپنی کتاب (قوت المغتذی شرح الترمذي) میں کیا ہے۔ *خاص* کر محدث العصر امام محمد ناصر الدین البانی اور شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف بنوری نے جامع ترمذی کی خصوصیات پر جو تفصیلی روشنی ڈالی ہے وہ قابلِ رشک ہے۔

*قارئین! اِفادہ عام* کیلیے یہاں ترمذی شریف کی چند اہم خصوصیات کا خُلاصہ پیش خدمت ہے:

1-یہ کتاب جامع ہے؛ کیونکہ اس میں دین کے بُنیادی عقائد، اُصول اور احکام مثلا: عبادات، معاملات، حقوق العباد۔ علاوہ ازیں: تفسیر القرآن، سیرت و شمائل، مغازی و سیر، مناقب صحابہ، مناقب اہل بیت، رقائق، وعظ و نصیحت، ترغیب و ترھیب، آداب و اخلاق، علاماتِ قیامت، حشر نشر اور جنت و دوزخ وغیرہ کے متعلق تفصیلی احادیث مروی ہیں۔

2_امام ترمذی نے تمام احادیث پر صحت، حسن، غرابت یا ضعف کے اعتبار سے جو حکم لگائے ہیں وہ دارسینِ حدیث کےلیے ایک انمول تحقیقی خزانہ ہے۔

3_امام صاحب نے ہر باب میں روایت کردہ حدیث کے ضمن میں مشہور ائمہ کے مذاہب اور امت مسلمہ کے تعامل کو بھی نہایت عمدگی سے بیان کر دیا ہے۔

4_علاوہ ازیں اکثر مسائل میں صحابہ رض و تابعین رح کی آراء سے آگاہی اور متروک العمل امور کی نشاندہی بھی پیش کی ہے۔

5_امام صاحب نے فقہاۓ امت کے مذاہب کو دو قسموں پر تقسیم کر کے، ہر قسم کے لیے الگ الگ باب بمع آحادیث قائم کیا ہے۔ اسی طرح احکام کے متعلق متعارض احادیث کو بھی حتی الاِمکان دو ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ پھر بعض اوقات امام صاحب ایک قسم کی تائید کرتے ہیں۔ اور اسے تفقہ، یا تعامل کے اعتبار سے راجح بھی قرار دیتے ہیں۔ اور بعض اوقات دونوں آحادیث میں تطبیق دے کر تعارض ختم کر دیتے ہیں۔

6_بوقتِ ضرورت سند میں مذکور رُواۃ اگر کنیت کے ساتھ ہوں تو ان کا نام بتا دیتے ہیں، اور اگر نام کے ساتھ ہوں تو ان کی کنیت واضح کر دیتے ہیں۔

7_آحادیث روایت کرنے کے بعد حسبِ ضرورت راویوں پر جرح و تعدیل، جبکہ متون پر نقد بھی پیش کرتے ہیں۔

8_امام ترمذی بعض اوقات حدیث کے متعلق ایسے عمدہ نکات اور اسنادی فوائد بیان کرتے ہیں جو دیگر کتب آحادیث میں نہیں پاۓ جاتے۔

9_امام صاحب صحت و سقم کے علاوہ کئی دیگر اعتبار سے بھی آحادیث کا درجہ متعین کرتے ہیں جیسے: موصول، مرسل، موقوف وغیرہ۔

10_امام ترمذی ہر باب میں حدیث کے متعدد طرق یا ساری روایات ذکر کرنے کی بجاۓ صرف ایک جامع حدیث کو کسی ایک مناسب طریق (سند) سے روایت کر دیتے ہیں۔ اور پھر "وفی الباب" لکھ کر دیگر صحابہ کا نام ذکر کر کے بقیہ آحادیث کی طرف اشارہ فرما دیتے ہیں۔ امام ترمذی کی اصطلاح "وفی الباب" اور اسکے مقاصد کے حوالے سے کئی محدثین نے کتب بھی تألیف کی ہیں۔

11_امام ترمذی کبھی کبھی مشکل الفاظ کی توضیح بھی کرتے ہیں۔

12_کتاب کے آخر میں امام صاحب نے "کتاب العلل" کے نام سے ایک انتہائی قیمتی چیپٹر بھی قائم کیا ہے۔ جس میں آپ نے اپنی "جامع الترمذی" کے منہج اور بعض اہم اصطلاحات پر بات چیت کی ہے۔ جبکہ "علل الحدیث" کے حوالے ایسے اہم ترین اور بنیادی اصول و ضوابط بیان کیے ہیں جو بعد ازاں "علم علل الحدیث" میں سنگ میل ثابت ہوے۔ *یاد رہے* حافظ ابن رجب نے اس چیپٹر "کتاب العل" کی ایک الگ تفصیلی شرح لکھی ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ اس شرح کے مطالعے سے جہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ حافظ ابن رجب نے شرح لکھنے کا حق ادا کیا ہے، وہاں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ امام ترمذی نے جس کمالِ مہارت اور دقیق بینی سے سنن ترمذی میں آحادیث رسول ﷺ اور اصول حدیث کو قلمبند کیا ہے، اسکی کوئی مثال نہیں۔

*لہذا محدثین* کا یہ قول (کہ جس گھر میں سنن ترمذی موجود ہے، گویا کہ اس گھر میں رہنمائی کےلیے نبی کریم ﷺ بذاتِ خود تشریف فرما ہیں) *سو فیصد درست قول ہے۔*

0 comments

Commentaires

Noté 0 étoile sur 5.
Pas encore de note

Ajouter une note
bottom of page