top of page

افغانیوں کو واپس ضرور بھیجیں،مگر انہیں بہیمانہ انداز میں پُل صراط سے مت گزاریں عکاسی: ڈاکٹر فیض احمد


*افغانیوں کو واپس ضرور بھیجیں، مگر انہیں بہیمانہ انداز میں پُلصراط سے مت گزاریں*

عکاسی: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

برف باری کے اس موسم میں بارڈر پر پڑے تارکین وطن افغانیوں کا کوئی پُرسان حال نہیں۔

نہ وہاں سر چھپانے کی سہولت، نہ کوئی علاج معالجے کی سہولت، نہ کھانے پینے کی سہولت، تفتیشی عمل میں لیت و لعل۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان میں بہیمانہ طریقے سے انکی پکڑ دھکڑ بھی جاری ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکر فیض احمد بھٹی نے ایک ہنگامی اجلاس میں کیا۔

(تفصیلات کے مطابق) گزشتہ روز بابائے صحافت و سیاست محمود مرزا جہلمی کی زیر سرپرستی ابنِ عباس اسلامک ریسرچ سنٹر جہلم میں ایک ہنگامی اجلاس کا انعقاد ہوا۔ جس کی صدارت رئیس المرکز ڈاکٹر فیض احمد بھٹی نے کی۔ اجلاس میں موجود تمام شرکاء نے افغانیوں کو واپس بھیجنے کےلیے طریقۂ کار پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا۔

رئیس المرکز ڈاکٹر فیض احمد بھٹی نے کہا: کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عرصۂ دراز سے پاکستان نے افغانی باشندوں کو اپنے ہاں بطور مہمان بغیر کسی ڈاکومنٹس کے ٹھہرائے رکھا۔ انہیں ہر ممکنہ سہولت سے بھی نوازے رکھا۔ نہ انکی نقل و حرکت پر کوئی پابندی لگائی اور نہ ہی انکو کاروبار و تجارت سے کبھی روکا۔ تاہم اب کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر ریاست نے یہ فیصلہ کیا کہ ان غیر قانونی تارکین وطن افغانی بھائیوں کو افغانستان واپس بھیجا جائے۔ مطلب جن کے پاس پاکستان میں رہنے کےلیے مطلوبہ ڈاکومنٹس نہیں۔ چنانچہ واپسی کا یہ سلسلہ مرحلہ وار جاری و ساری ہے۔

ڈاکٹر فیض احمد بھٹی نے کہا کہ ہمیں یا کسی بھی پاکستانی کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ انہیں واپس کیوں بھیجا جا رہا ہے؟! بلکہ اعتراض اس بات پر ہے کہ واپسی کا جو طریقہ کار ہے، اس میں انداز بہیمانہ اور سلوک کریہانہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ جبکہ واپسی کا وقت تو بالکل ہی غیر مناسب، بلکہ خطرناک ہے؛ کیونکہ سردی و برفباری کے دنوں میں بے یار و مددگار حالت میں بیوی بچوں سمیت اتنا لمبا سفر کرنا انسان تو انسان، ایسے شدید موسم میں تو مشینری بھی جواب دے جاتی ہے۔

ڈاکٹر فیض بھٹی نے بتایا کہ ہمیں با وثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وہ افغانی جنہیں افغانستان واپس جانے کےلیے بھیجا گیا ہے۔ ان کی کثیر تعداد بارڈر پر بے بسی کے عالم میں ذلیل و خوار ہو رہی ہے۔ انہیں اس سردی کے موسم میں سر چھپانے کی کوئی سہولت میسر نہیں، بیماروں کےلیے دوائی کی سہولت میسر نہیں، حتیٰ کہ بعض عورتیں اس انتہائی تکلیف دہ حالت، بے پردگی اور کُھلے آسمان تلے بچوں کو جنم دینے پر مجبور ہیں۔ خوراک کی کمی اور سردی کی شدت کے پیشِ نظر کئی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

آخر میں ڈاکٹر فیض بھٹی نے کہا: اس لیے ہمارا حکام بالا سے شدید مطالبہ ہے کہ سردی کے ان تین چار مہینوں تک واپسی کا عمل پیڈنگ کیا جائے۔ پاکستان میں افغانیوں کو پکڑ کر خواہ مخواہ جیل بند کرنے کا سلسلہ روکا جائے۔ اور جو خاندان بارڈر پر پہنچ چکے ہیں، انہیں سردی سے بچاؤ کےلیے فی الفور چھت اور خیموں سمیت تمام سہولیات مہیا کی جائیں۔ کھانے پینے کے علاوہ ان کے بہترین علاج معالجے کےلیے میڈیکل کیمپس قائم کیے جائیں۔ طرفین سے ان کےلیے تفتیشی عمل آسان ترین بنایا جائے۔ تاکہ وہ جلد از جلد اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکیں۔

خلاصہ کلام یہ ہم کہتے ہیں کہ غیر قانونی تارکین وطن افغانیوں کو واپس ضرور بھیجو، مگر اس واپسی کو ان کےلیے پلصراط سے گزرنا یا عذابِ الیم مت بنائیں. کیونکہ انسانی حقوق کے علاوہ حقِ مسلمانی اور حقِ ہمسائیگی کے پیشِ نظر بھی ہمارا فرض بنتا ہے کہ ان افغانی بھائیوں کو تکریم و تسنیم اور مال و جان کی حفاظت کے ساتھ رخصت کرنا چاہیے!!!

0 comments
bottom of page